چورہ شریف

 سر زمینِ اولیاء چو رہ شریف

یہ مقدس بستی، اسرار لا ہوت کی یہ پر بہا ر وادی، مشا طہء حسنِ قدرت سے آراستہ سنگلا خ اور ہموار چٹا نوں کے ابھرے سینے پر ایک پُر سکون بہتی ندی کے کنارے  خلو توںکی امین سر زمین کے افقِ مبین پر ما ہ ِ تاباں کی طرح جلو ہ نما ہے ۔جو راولپنڈی سے کو ہاٹ کی طرف ۲۰۱ کلو میٹر ہے ریلوے سٹیشن چو ُرہ شریف سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فا صلے پر اولیا ء کا یہ مسکن زائیرین کے لئے تسکین قلب و نظر کا سامان مہیاء کر رہا ہے اور شہروں کے حسن و جمال اور با غوں کی دلفریب نظارے اس کی بے ساختگی پر قربان ہو رہے ہیں۔

با نئ چورہ شریف

 سر زمین ِ چو ُرہ شریف کو اپنے قدوم ِ میمنت سے فیضیاب فرما نے والے پہلے بزرگ قطب العالمین ،شمس العارفین، قدوۃالکاملین، غوثِ دوراں، خواجہء خواجگاں حضرت خواجہ سید نور محمد چو ُراہی المعروف باواجی صاحب رحمۃاﷲعلیہ ہیں۔اپنے وطن اور علا قے سے ہجرت کر کے یہا ں قیام فرما ہونے کا حکم ملا تھا چنانچہ آپ نے اپنے ایک مخلص مرید میا ں فقیر محمد (جو اس مقام سے ایک میل کے فاصلے پر سکونت پزیر تھا) کو بذریعہ خواب ایک مخصو ص جگہ کی نشاندہی فرما ئی اور وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھنے کا حکم دیا اور اپنے روضئہ عالیہ اور اولاد امجاد کی قبروں کے لئے علیحدہ علیحدہ جگہ دکھا ئی۔یہ پشین گوئی آپ نے یہا ں تشریف لانے سے گیا رہ برس پیشتر فرمائی تھی جبکہ آپ تیز ئی شریف علا قہ تیراہ میں ہی قیام فرما تھے۔ چنانچہ آپ نے یہا ں اپنے وصال سے صرف ڈیڑھ سال پہلے تشریف لا کر اس مردم خیز مٹی کو بخارہ اور سرہند کے محبت آمیز پانی سے گوندھ کر جلوہ ہائے فقرومستی کا معمورہ او ر تابش ہائے حسن ِ ازلی کا چو ُرہ بنا دیا

؎ لا ریب ہے مشائخ عصر کا اعتراف

 اس نور کی بستی میں تو طریقت کا تاج ہے