علمِ تصوف قرآن کی روشنی میں

۱۔کمَاَ اَر’سَلنَا فِیکُم رسولاَ مِنکُم یتلُو عَلیکُم اٰیٰتِنا و یُزکِیکُمُ وَ یُعَلّمُکُم الکتٰبَ وَ الحکمۃَ وَ یعلّمُکُم مَّا لم تَکُونُو تَعلَمُونَ۔
ترجمہ۔ جس طرح تم میں ہم نے ایک رسولؐ بھیجا ۔ تم ہی میں سے ہماری آیات تم کو پڑھ کر سناتے ہیں اور تم کو پاک کرتے ہیں اور تم کو کتا ب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور اس چیز کی بھی تم کو تعلیم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے۔
تعلیم کو دو مرتبہ ذکر فرمانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری تعلیم اور قسم کی ہے ممکن ہے اس دوسری تعلیم سے مراد علم ِلدنی ہو جو ظاہر قرآن سے ماخوذ نہیں بلکہ باطن قرآن سینۂ بے کینہ جنابِ رسول اﷲؐ سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے حاصل کرنےکا سوائے انعکاس نورکے اور کوئی طریقہ نہیں۔(تفسیر مظہری)
یہی وہ علم ہے جس کے سیکھنے کے لیے حضرت موسٰی کلیم اﷲ ؑ کو اﷲتعا لٰی نے حضرت خضر ؑ کی خدمت میں دریا کے کنارے بھیجاتھاجس کا مفصل ذکر سورہ کہف میں ہے۔
اس علمِ لدنی کے معارف و حقائق اور علوم کی تعلیم زبان سے بالکل نہیں ہو سکتی ۔ ہو سکتی ہے تو زبانِ حال یا ایک قلب کا ایک دوسرے پر عکس پڑنے سے ۔چنانچہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتیؒ لکھتے ہیں کہ معارف و حقائق انعکاس قلب سے حاصل ہوتے ہیں یا ا لقا سے دستیاب ہوتے ہیں۔اور کثرت ِ ذکر و مراقبہ خواہ مجلس ذکر میں ہو خواہ خلوت میں اس انعکاس کی صلا حیت پیدا کر دیتے ہیں۔اور انعکاس خواہ خود جناب رسول اﷲؐ سے بلا واسطہ ہو یا وسائل (مشائخ) کے ذریعے سے۔
۲۔ واذکر اسم رَبِّکَ وَ تَبتَّل اِلےہِ تبتیلاَ ۔یاد کر نام اپنے پروردگار کا ہمیشگی کے طور پر۔ یعنی ہمیشہ اپنے رب کے نام کا  ذکر کرتا رہ۔اور سب سے توڑ کر اس سے جوڑ۔ اسم رب سے اسم ذات یا اسم اشارہ  یا اسمائے حسنیٰ سے کوئی ایک ( صفاتی) نام مراد لیا جا سکتا ہے مگر عام طور پر صوفیائے کرام اسم ذات (اﷲ) ہی مراد لیتے ہیں کیونکہ یہی ایک نام ذات ِ باری ہے ۔ جس کی طرف سب دوسرے (صفاتی نام )منسوب ہو جاتے ہیں۔ کےو نکہ یہی اسم علَم ہے اور یہی اسم اعظم ہے۔ اور اسی میں وہ جذب و کشش  اور تاثیر و فناو بقا ہے کہ بےان میں نہیں آ سکتی تو حید اُسی کو ایک کہنا اور ایک دیکھنا ہے۔عدم کو بود کرنا اور بود کو نابود کرنا  اُسی کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔اس لفظ پاک اﷲ کا ہر جزو (اﷲ،ﷲ،لہُ،ہُ) اس کی ذات اور صفات پر دلالت کرتا ہے۔نزول قرآن سے پہلے عربی زبان میں اﷲ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا۔اور  خدا کی تمام صفتیں اسی طرف منسوب کی جاتی تھے۔یہ نام کسی خاص صفت کے لیے نہیں بولا جاتا تھا ۔ قرآن میں بھی یہی لفظ بطور اسم ذات کے اختیارکیا گیا اور تمام صفتوں کو اس سے طرف نسبت دی۔ وﷲِ  الاسما ء ُ الحسنیٰ۔ اور اﷲ کے لئے ہی حسن و خوبی کے نام ہیں۔ چونکہ یہ اسم خدا کے لیے بطور اسم ذات کے استعمال میں آیا ہے اس لئے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر حاوی ہو گیا ہے۔ جن کا خدا کی ذات کے لئے تصور کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم خدا کا تصور کسی خاص صفت کے ساتھ کریں مثلاَ الرب یا الرحمن یا الرحیم تو یہ تصور صرف ایک خاص صفت ہی میں محدود ہو گا۔مگر جب ہم اﷲ کا لفظ بولتے ہیں تو فوراَ ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو ان تمام صفات حسن و کمال سے متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کی گئی ہیں جو کہ اس میں ہونی چاہئیں۔یہی وجہ ہے کہ اولیا ئے عظا م اسی لفظ پاک (اﷲ) کا ذکر کراتے ہیں حضرت اما م ر بانی مجدد الف ثانیؒ اسم ذات (اﷲ) کا ذکر کرنے کا طریقہ میں فرماتے ہیں کہ بوقت ذکر لفظ مبارک اﷲ کے معنی کو بے چونی اور بےچگونی کے ساتھ ملاحظہ کرے اور کسی صفت کو اس کے ساتھ شامل نہ کرے۔قرآن پاک میں جہاں جہاں بھی اسم رب کے الفاظ آتے ہیں وہاں ہی اسم ذات (اﷲ)ہی مراد ہے۔
۱۔ اِقرا باسمِ ربّک الذی خلق۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے ، جس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ گویا یہ کہا گیا ہے کہ بسم اﷲ کہہ کے پڑھ۔
۲۔وَمَن اَ ظلم ممن مَسٰجِدَ اﷲَ اَن یذکرَ فیھا اسمہُ۔(پ:۱ ،ع:۴۱)اس سے بڑھ کے ظالم کونسا ہے جو اﷲ کی مسجدوں میں اس کا نام ( اﷲ، اﷲ) لیے جانے سے روکے. 
۳۔وا ذ کُرُواسمَ اﷲ ِ عَلَیہ(پ۶:ع۵)  اس پر ا ﷲکا نام بھی لیا کرو ۔یعنی شکا ری جانور جب شکار پر چھو ڑ دو تو بسم اﷲبھی کہا کرو۔
۴۔ فَکُلو مِمَّا ذُکِرَ اسم اﷲ عَلَیہ۔(پ:۸،ع:۱)جس جانور پر اﷲ کا نام لیا جائے اس میں سے کھائو۔
۵۔ وَماَ لَکُم ا لاّ تا  کُلُو مِمَّا ذُکِرَ اسمُ اﷲ عَلَیہ۔(پ:۸،ع:۱)اور کیا وجہ ہے کو اس جانور میں سے اس کا گوشت نہ کھائو جس پر اﷲ کا نام لیا گیا ہے۔
۶۔ واذکرِ اسمَ ربِّکَ بُکُرَۃ وَّ اصِیلاَ۔(پ:۹۲،ع:۰۲)اور اپنے پروردگا ر کا نام صبح و شام ( علی الدوام) لیا کیجیے ۔
اگر لفظی معنیٰ کے لحاظ سے صبح و شام ہی اﷲ کا نام کا ذکر کرنا مرادلیا جائے تو صبح و شام کا مراقبہ ثابت ہوا جو صوفیائے کرام کا معمول ہے اور جیسا کہ آنحضرت ؐ کی عادت شریفہ روبقبلہ بیٹھ کر ان اوقات میں ذکر کرناتھا ۔ اور اگر صبح و شام سے محاورۃ علی الدوام مراد لیا جائے تو صوفیائے کرام کا معمول بہ ذکر دائمی ثابت ہوتا ہے جس کا مفصل ذکر اس آیہ کریمہ میں ہے۔
وا ذکر ربک فی نفسک تضرّعا وّخیفتہَ و دونَالجھرِ من القول بالغدوِّ وَ الاصال ولا تکُن مِنَ الغافِلِین۔(پ:۹،ع:۴۱)ترجمہ۔ اپنے رب کو یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور نیچی آواز کے ساتھ صبح اور شام (علی الدوام) اور اہل غفلت میں سے نہ بن جانا۔و لا تکن من الغٰفلین  کا جملہ مبارک علی الدوام ذکر کرنے کی طر ف دلالت کر رہا ہے۔یعنی ہر سانس کی رفت کے ساتھ اﷲ اﷲ کرتے رہنا اسی کو اصطلاح صوفیاء میں ذکرِ پاس انفا س بھی کہتے ہیں۔
تفسیر اتقان میں ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کا جو حصہ نازل ہوا وہ اقرا باسم ِ ربک تھا اس کے بعد سورۃ  نٓ  بعد ازاں  یایھا المزمل یعنی سورۃ مزمل شریف کا نزول ابتدائے اسلام میں اس وقت ہوا جبکہ ابھی نمازِ پنجگانہ فرض نہ تھی بالفاظ دیگر ابھی اسلام کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی کہ سورۃ مزمل شریف میں طریق صوفیانہ و سلوک سالکاں کی تعلیم اور ساتھ ہی اس پر عمل شروع ہو گیا تھا ۔سورۃ مزمل شریف اوّل سے آخر تک پڑھ جائیے ،تصوف ہی بیان فرمایا گیا ہے۔تزکیہ و تصفیہ کے وظائف ،دستور عمل سالکاں، ذکر و فکر، مراقبہ و تہجد وغیرہ نہایت پیارے الفاظ میں اپنے محبوب آنحضرت ؐ کو مخاطب فرما کر بتائے ، سکھائے اور بیان فرمائے ہیں زہد و ریاضت و مجاہدہ کے گر ُ بتا کر راہِ سلوک کی تکمیل اور اعلیٰ مقامات تک کے نشانات  بتائے ہیں۔ مثلاً
۱۔رات کو جاگنے میں بڑی کوشش کرنا قرآن شریف کو ترتیل کے ساتھ تہجد کی نماز پڑہنا کہ نفس کے ساتھ بڑا جہا د ہے۔
۲۔  دن کے وقت بھی ہر وقت اپنے مالک کی بندگی میں رہنا۔
۳۔ اﷲ کے ذکر کی مداومت کرنی اور اس کے نام سے ہمیشہ اپنی زبان کو تازہ رکھنا
۴۔ سب تعلقات اور علاقوں کو کاٹنا ترک کرنا ، اور تجرید حاصل کرنا۔
۵۔ ہردور میںﷲ پر بھروسہ اور اعتماد کرنا اور اپنی تئیں کسی چیز میں دخل نہ دینا۔
۶۔ خلق اﷲ کے ایذا و ظلم کو سہنا اور اس پر صبر کرنا۔
۷۔ اہل دنیا کی صحبت سے احتراز کرنا لیکن ان کی خیر خواہی میں قصور نہ کرنا  وغیرہ وغیرہ ۔گویا کہ سورۃ مزمل پوری درسِ تصوف ہے۔