تصوف حدیث کی روشنی میں

حضرت ابو ہریرۃ  ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ ؐ سے علم کی دو برتن حاصل کیے ایک تو میں نے تم میں تقسیم کر دیا ہے اور اگر دوسرا میں تم  میں بانٹ دوں تو میرا حلقوم کاٹ دیا جائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کو اس علم کی دوسری برتن سے مراد علم لدنی ہے ۔
حدیث عن الحسن قال العلم علمان فعلم فی القلب فذالک علم نا فع  وعلم اللسان فذاک حجتہ اﷲ عزوجل علیٰ ابن آدم۔
حضرت شیخ الحق محدث دہلویؒ اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتی ہیں کو علمِ نافع وہ علم ہے کہ اسکی رو شنی د ل میں پھیلتی ہے اور اس سے دل کے پردے ا ٹھتے ہیں اور علمِ زباں وہ علم ہے کہ تاثیر نہ کرے اور دل کو نورانی نہ کرے ۔
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اس کی ایک مثال دیتے ہیں اور بیان فرماتے ہیں کہ خدا کا ہر جگہ حاظر،ناظر ہونا عقا ئد اسلام میں ہے ۔ عالم و جاہل خاص و عام اس پر اعتقاد رکھتے ہیں  چونکہ عام لوگوں کو یہ علم تقلید اور استدلال سے حاصل ہوتا ہے اس لئے  اس سے کوئی خاص حالت پیدا نہیں ہوتی ۔ اعمال اور افعا ل پر اس کا چنداں اثر نہیں پڑتا ۔ بخلاف اس کے تصوف میں اس مسئلے کا علم مشاہدہ و کشف سے ہوتا ہے۔ یعنی صوفی کو چاروں طرف خدا ہی خد ا نظر آتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر خشوع اور خضوع، ہیبت ، خوف اور ادب کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے جو کسی ظاہری علم سی حاصل نہیں ہو سکتی۔
الحدیث:۔ العلماء وارثہُ الانبیاء۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی ؒ اپنی ایک مکتوب میں اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کو وہ علم جو انبیا ؑ سے باقی رہا ہے دو قسم کا ہے  ایک علم احکام اور دوسرا علم اسرار (علم باطن) وارث انبیا وہ عالم ہے یا عا لم وارث وہ شخص ہے جس کو ان دونوں علو م سے حصہ حاصل ہو نہ کہ وہ شخص جس کو ایک ہی قسم کا علم نصیب ہو اور دوسر ا علم نصیب نہ ہو یہ بات وراثت کے منافی ہے۔