سلسلہ عا لیہ نقشبند یہ مجددّیہ نو ریہ چو ُر ہ شر یف 

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ چو ُرہ شریف کے بانی حضرت شیخ شاہ نور محمد رحمتہ اللہ علیہ المعروف باباجی صاحب ہیں ۔ آپ تیراہ قبائلی علاقہ سے نقل مکانی فرما کر چورہ شریف ا ٓباد ہوگئے ۔ آپ نے جملہ فیوض و برکات ظاہری و باطنی  اپنے والد گرامی حضرت محمد فیض اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کئے اور حضرت محمد فیض اللہ شاہ تیراہی نے رام پور کے مقام پر حضرت سید حافظ شاہ جمال اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ جن کا وطن مالوف شاہ دولہ گجرات بتایا جاتا ہے بیعت فرمائی تھی۔ حضرت حافظ شاہ جمال اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ  قطب الا قطا ب سید قطب الدین رحمتہ اللہ علیہ کے مریدو خلیفہ تھے۔ حضرت حافظ شاہ جمال اللہ رحمتہ اللہ علیہ مصطفےٰ آباد رام پور میں رشدو ہدایت کا کام سر انجام دیتے  رہے ۔ رام پور کے نواب ملک علی خان کو حضرت حافظ صاحب قدس سرہ سے کمال  درجہ محبت و عقیدت تھی  ۔چنانچہ  نواب نے وصیت کر رکھی تھی کہ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اسے حضرت حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے قریب دفن کیا جائے ۔ لہٰذا   وصیت پوری کی گئی۔ اور نواب کو حضرت سید صاحب کے مزار اقدس کے  قریب دفن  کیا گیا۔قبلہ حضرت  حافظ صاحب  رحمتہ اللہ علیہ  کی  وفات۴ صفرالمظفر۹۰۲۱ھ کوہوئی آپ کا مزارمقدس رام پور میں ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت قطب العالم جناب سید شاہ جمال اﷲرحمتہ اللہ علیہ  ایک دن اپنے مریدین ومعتقدین کے ہمراہ سیر کو تشریف لے جا رہے تھے کہ آپکا گزر قلعہ رام پور کے اس برج کے قریب سے ہوا جہاں پر کہ حضرت محمدفیض اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ  اپنی ملا زمت کے سلسلہ میں موجود تھے۔  جونہی حضرت محمد فیض اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ  کی نظر حق شناس حضرت حافظ سید جمال اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ  قدس سرہ کے چہرہ  پُرا نوار پر پڑی تو آپ از خود رفتہ ہو گئے اور سمجھ لیا کہ وہ شخص جس کی مجھے مدتوں تلاش رہی ہے مل گیا ہے ۔ اتنے میں آپ پر بے خودی وبے ہوشی کی کیفیت طاری ہو گئی حضرت سید حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ  نے آپ کو دبوچ لیا اور گھر لے جا کر تسلی و تشفی دی  بیعت سے مشرف فرمایا  اور آپکی تربیت کے لئے حضرت خواجہ شاہ عیسیٰ ولی رحمتہ اللہ علیہ کے سپردفرمایا جو کہ آپ کے محبوب خلیفہ تھے۔