حضرت خواجہ شا ہ نو ر محمد تیرا ہی رحمۃﷲ علیہ

با نی آستا نہ عالیہ چورہ شریف ضلع اٹک

اما م ِ طر یقت خو ا جۂ خوا جگا ن حضرت شا ہ نو ر محمد رحمۃ اﷲ علیہ کی ولا دت با سعادت کا ذکر ان کے وا لد گرا می  کے حا لا ت زندگی کے ضمن میں بیان کیا جا چکا ہے آپ اﷲ جل شا نہ‘کے فضل و کر م سے بڑ ی ما ئی صا حبہ کی مَنت اور کرا مت کے ظہو ر کے طو ر پر حضرت محمد فیض اﷲ شاہ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی دوسری بیو ی صا حبہ کے بطن مبا رک سے۹۷۱۱ میں تیزئی شریف علا قہ تیراہ کے مقام پر پیداہو ئےآ پ نسباً گیلا نی سید تھے۔آپ کا قد دراز  تھا ۔چہرہ کتا ب کی مانند اور رنگ سر خ گلا بی تھا ۔سینہ فرا خ ،   کا فی گھنی داڑھی اور آخر عمر میں بال سفید تھے۔پیشا نی کشا دہ تھی زلفیں مبا رک شا نو ں تک معلق  رہتی تھیں۔بڑی بڑی آنکھیں جن کی طر ف ہر کسی کو دیکھنے کی ہمت نہ ہو تی تھی غرضیکہ پر وقا ر چہرہ  اور دلکش شخصیت کے ما لک تھے۔چا ل ،وضع قطع  اورلباس میں سنت رسول ؐ کو مقد م رکھا کر تے تھے۔طبیعت میں جما لیت غا لب تھی۔آپ ما در زا د ولی تھے۔آپ نے علو م ظا ہری و با طنی اپنے وا لد گرا می سے حا صل کئے۔اور ہر چہار سلاسل  نقشبندیہ، چشتیہ ، سہر وردیہ،قادریہ میں انہی سے بیعت و خلا فت حا صل کی۔حضرت شا ہ عیسٰی ولی رحمۃ اﷲ علیہ کی نظرخا ص اور توجہ کی بر کت سے آپ کو علم لدّنی سے وا فر حصہ عطا فرما یا گیا تھا۔اور ایسا شرح صدر ہو ا تھاکہ آپ دقیق سے دقیق مسا ئل کو شرح و بست سے سائل کی تشفی فر ما دیا کر تے تھے۔اور جس طا لب کیطر ف تو جہ خصو صی فر ما دیا کر تے تھے۔ قلیل عرصہ میں ہی اسے درجۂ کما ل تک پہنچا دیا کر تے تھے۔آپ اپنے مر یدا ن ِخاص  سے بہت زیا دہ التفا ت فر ما تے تھے۔اپنے مر یدا ن پر ان کی پر یشا ن حا لی  کے وقت انکے نگہبا ن رہتے۔ اور ان کی استعا نت فر ما تے۔
؎  دست پیر از غا ئبا ں کو تا ہ نیست              دست ِ اُو  جز  قبضہ ٔﷲ نیست
 محبو ب سبحا نی اما م ر با نی حضر ت مجدد الف ثا نی قد س سرہ‘ نے مکتو ب نمبر ۷۳ ، ۲۸۲ دفتر اول حصہ  پنجم  میں فر ما یا ہے ۔ کہ جنا ب خضر علیہ السلام  فر ما تے ہیں کہ ہم  عا لم اروا ح میں سے ہیں حق تعا لیٰ نے ہما ری ارواح کو ایسی قدرت کا ملہ عطا فر مائی ہے کہ اجسام کی صورت متمثل ہو کر وہ کا م جو جسم سے وقوع پذیر ہو ں  ہما ری  اروا ح سے صا در ہو تے ہیں حضرت جنا ب خو ا جہ شا ہ نو رمحمد رحمۃ اﷲ علیہ کو عر ف ِ عا م میں ’’با با جی صا حب‘‘ کہا جا تاہے۔آپ کی ذات با برکا ت سے عرب و عجم و دیگر مما لک میں نو ر اسلا م پھیلا۔اس قدر کثرت سے خلق خدا آپ کی ذا ت اقدس  اور آپ کے خلفا ء اور سلسلہ سے فیض یا ب ہو ئی۔کہ حضرت اما م ربا نی مجدد الف ثا نی  رحمۃ اﷲ علیہ کے بعد کے عرصہ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔پا ک و ہند ،عرب ،یورپ جہا ں بھی جا ئیں آپ کو سلسلہ ٔ مجددیہ کے اس عظیم نور کی کر ن ضرور نظر آئے گی۔آپ کا فیض تما م اکنا ف عالم میں ہمیشہ سے جا ری و سا ری ہے۔جب آپ اپنے وا لد گر امی کے وصال کے بعد مسند آراء سجا دہ ہو ئے۔تودو بھا ئی فقیرﷲ نور اور فقیرعجب نور نے آپ سے بیعت کا شر ف حا صل کیا اور کچھ عرصہ آپ کی خد مت میں گزا رنے کے بعد صا حب اجا زت ہو کر رخصت ہو ئے ۔ان دونو ں بھائیوں کو ملک افغانستا ن میں اس قدر شہرت نصیب ہو ئی کہ ان سے بیعت ہو نے کے لئے لو گ دور دراز مقاما ت سے آتے تھے۔اور اپنی با ری کے منتظر رہتے تھے۔اسی طرح حضرت خو اجہ ہا دی نا مدا ر شا ہ رحمۃ اﷲ علیہ  مو ضع کا شہ جو کہ ڈراڈر سے دس میل کے فا صلے پر ہے۔دینی علم حا صل کر رہے تھے۔اور کتا ب شر ح الیاس پڑھ رہے تھے۔ایک دفعہ  خو اب میں حضرت جنا ب با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ نے انہیں حکم دیا کہ فو راً میر ے پا س آجا ؤ اور بیعت حا صل کر و صبح بیدا ری کے بعد رات والے خو ا ب کے اثرا ت ظا ہر تھے۔استا د صا حب کے استفسار پر آپ نے مفصل جوا ب عرض کر دیاچنانچہ استاد صا حب نے بھی آپ کو سفر کی اجا زت دے دی۔حضرت ہا دی نا مدار شاہ صا حب مقا م تیزئی پہنچے تو سب سے پہلے آپ کی ملا قات بڑے صا حبزادہ صاحب سے ہوئی۔وہ آپ کو حضرت با با جی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی خد مت میں لے گئے۔حضرت ہا دی نا مدا رشاہ رحمۃ اﷲ علیہ نے خوا ب وا لی نورا نی صورت کو پہلی ہی نظر میں پہچان لیا ۔اور پہلی ہی حا ضری میں بغیر کسی تا مل کے شر ف بیعت حا صل کیا ۔اپنی استعدا د کے مطابق کچھ تحا ئف بھی پیش کئے حضرت ہا دی نا مدا ر  رحمۃ اﷲ علیہ نے با رہ سال تک اپنے پیر کا مل کی نہا یت ہی جا نفشانی اور محبت سے خدمت سر انجام دی۔اور حضرت با با جی صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی نظر التفا ت و شفقت  بھی حد درجہ آپ پر مبذول رہی۔جب ہا دی نامدا ر رحمۃ اﷲ علیہ  نے  بابا جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کی صحبت کیمیاء اثر سے درجۂ کمال حا صل کیا ۔تو با باجی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ نے آپ کو اجا زت و خلا فت سے نوا ز کر علا قہ پنجا ب و ہندو ستا ن کی طر ف روانہ فر مایا حضرت ہا دی نا مدا ر رحمۃ اﷲ علیہ کی ذات والا صفا ت سے بہت سی مخلو ق خدا نے فیض حا صل کیا۔ جب کو ئی حضرت با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کی خدمت میں علا قہ پنجا ب (ہندوستان) سے حا ضر ہو تا تو اس سے کہتے کہ بھا ئی ہم نے آپ کی طر ف ایک   با ز چھو ڑا ہو ہے اس کی با زیا ں اور بلند پروا زیاں قا بل دید ہیں۔حضرت شا ہ نامدار رحمۃ اﷲ علیہ کو جنا ب بابا جی صاحب  رحمۃ اﷲ علیہ نے ہا دی نامدا ر شا ہ کا لقب عطا فر ماےا تھا۔اےک دفعہ جنا ب با با جی صا حب کی خدمت عالیہ میں تیزئی شریف (تیرا ہاہ )تشریف لے گئے۔آپ نہا یت خو ش ہو ئے اور فر ما یا کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے یہ استعدا د ودیعت  فر مائی ہے کہ میں شا ہ نا مدا ر  رحمۃ اﷲ علیہ جیسے لا کھ خلیفے تیا ر کر دوں لیکن میں کسی شخص میں اس جیسی استعداد و صلا حیت نہیں دیکھتا۔حضرت جنا ب با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کا فیض اپنے علا قہ سے نکل کر پو رے ہند وستا ن میں پھیل چکا تھا ۔ہندو ستان خصوصاً پنجا ب سے کا فی تعدا د میں آپ کی خدمت میں حاضری کے لئے آیا کر تے تھے ۔لیکن رسل و رسا ئل کی کمی مقا می زبا ن سے عدم ِ وا قفیت کے علا وہ ما ل و جا ن کا بھی ہر وقت خطرہ انہیں درپیش رہتا تھا۔ اور خصوصاً ملّا ولی خا ن آپ کا خو امخوا ہ مخا لف ہو گیا تھا۔جو کہ آپ کے  خلا ف ہر و قت ہر زہ سرا ئی کر تا رہتا تھا۔ بلکہ اہتمام سے حضرت کے معتقدین  کے لئے آزاری کا سبب بنا ہوا تھا اس نے اس وقت کے جا ہل لو گو ں میں ایسی ایسی خرا فا ت مشہو ر کیں کہ وہا ں کے لو گو ں نے مشتعل ہو کر اس کا سا تھ دینا شروع کر دیا تھا۔چنا نچہ یا رانِ سلسلہ نے آپ سے بصد احترا م جملہ تکا لیف  بیا ن کیں ۔اور عرض کیا کہ حضو ر کا مسکن اگر علا قہ پنجا ب ہو جا ئے تو نہ صرف یہ کہ ہم متوسلین کے لئے سکو ن کا با عث ہو گا ۔بلکہ پنجا ب کیا پو را ہندوستا ن آ پ کے فیض سے فیض یا ب ہوگا ۔آپ نے کچھ عرصہ تک تو اس تکلیف کو  بر داشت کیا مگر آخر کا ر احبا ب کی خا طر اپنا مو لد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھو ڑ دیا۔اور تیزئی شریف سے نقل مکانی کر کے ضلع اٹک کے ایک مقام  ’’چو ُ رہ‘‘  گا ئو ں میں رہا ئش اختیا ر کر لی آہستہ آہستہ آپ کی اولا د میں سے تین صا حبزا دگان مع اپنی اولاد یہا ں ہی آ کر آ با د ہوگئے۔صرف ایک صا حبزادے حضرت شاہ احمد گل وہا ں پر رہ گئے۔ بعد میں وہ بھی نقل مکا نی کر کے کو ہا ٹ کے قریب آگئے۔
چو ُرہ گا ئو ں جسے اب حضرت با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کی نسبت کی وجہ سے چو ُرہ شریف کہتے ہیں ۔را ولپنڈی سے کو ہا ٹ جا نے وا لی ریلو ے لا ئن اور سڑک پر راولپنڈی سے تقریباً  ۸۰۱ کلو میٹر اور کو ہا ٹ سے تقریباً  ۰۷  کلو میٹر  کے فا صلہ پر ایک ندی کے کنا رے اور سنگلاخ چٹانوں پر وا قع ہے۔چو ُ رہ شریف میں ریلوے اسٹیشن اور بس سٹاپ بھی ہے۔بسوں اور گاڑیوں کی آمد ورفت دن را ت رہتی ہے۔زائرین ریلوے اسٹیشن یا بس سٹا پ پر اتر کر جنو ب کی طر ف تقریبا ً  ڈیڑھ کلو میٹر سڑک کا را ستہ طے کر کے جا تے ہیں۔اسٹیشن اور چو ُرہ  شریف کے درمیا ن ایک بر ساتی نالہ بھی پڑتا ہے۔خصوصاً بر سات کے دنوں طغیا نی کے دوران اس میں سے گزرنا خطر نا ک ہو تا ہے۔نا لہ کے پا ر بالکل   کنا رے پر ایک چھوٹی سی بستی دربا ر شریف کے نا م سے مو سوم ہے۔ویسے چو ُرہ شریف  تین چھوٹی چھوٹی بستیوں پر مشتمل ہے۔ایک ’’چو ُرہ‘‘  جہا ں پر صرف مقا می با شندے آبا د ہیں۔دوسری ’’ بھورا ما ر‘‘ ہے۔اور تیسری بستی کو ’’ دربا ر شریف ‘‘ کہتے ہیں ۔یہی دربا ر شریف حضرت جنا ب با با جی خوا جہ شاہ نو ر محمد رحمۃ اﷲ علیہ کا مسکن رہا ہے۔اور یہی آپ کا  مد فن اور آخری آرام گا ہ ہے۔جنا ب با با جی صا حب خوا جہ نور محمد چو ُراہی  رحمۃ اﷲ علیہ نے سب سے پہلے یہا ں ایک مسجد اور ایک مکا ن بنا کر دربار شریف کی بنیا د رکھی تھی۔جو کہ اب خاصی آبا دی معلو م ہو تی ہے۔اور اس آبا دی میں تما م با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کی اولاد ہی بستی ہے۔اس آبادی یعنی دربار شریف کے مشرق کی طر ف ایک کونہ میں حضرت جنا ب با با جی صاحب خوا جہ نور محمد چوراہی رحمۃ اﷲ علیہ کا مزار ایک سادہ مگر پر کشش عما رت میں وا قع ہے۔آپ کے مزار پر آپ کے حکم کے مطا بق کو ئی گنبد وغیر ہ نہیں بنا یا گیا ہے۔بلکہ اسے نہا یت سادہ رکھا گیا ہے۔ابتدا میں اس مزار پر کو ئی چھت وغیرہ بھی نہ تھی۔بعد میں اس پر چھت ڈالی گئی۔مگر اس میں چھت اور دیوا روں کو مزید اونچا کرتے وقت پرانی دیوا روں کو نہیں چھیڑا گیا ۔کیونکہ اس چا ر دیوار ی  کی تعمیر میں نتھیا ل شریف ،آلو مہا ر شریف،باولی شریف اور دیگر بزرگان سلسلہ و دیگر بزرگا ن دین نے اپنے ہا تھو ں سے پتھر لگائے تھے۔جیسا کہ بزرگوں سے مسلسل روایت بیا ن کی جا تی رہی ہے کہ مو ضع چو ُرہ میں دو نہا یت ہی مخلص مرید مسمی  فقیر میا ں احمد اور فقیر میا ں محمد رہا کر تے تھے۔ان میں سے  میا ں احمد فقیر نے ایک روز تما م رشتہ داروں کو جمع کیا اور انہیں بتایا کہ گذشتہ رات میں نے خوا ب میں مشائخ کی ایک کثیر تعدا د کو اس مقام پر دیکھا ہے ۔ اور حضرت  جنا ب با با جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس جگہ ندی کے کنا رے (مو جو دہ دربا رشریف )ایک مسجد ، آبا دی اور مز ارات کے لئے زمین مخصوص کر دو۔ چنا نچہ فقیر میاں احمد نے وہ جگہ جس پر حضرت بابا جی صاحب قدس سرہ ‘نے خو اب میں نشا ندہی فر مائی تھی۔چا روں طرف  نشا ن لگا کر الگ کر دی۔میا ں احمد فقیر کے اس خوا ب کے گیا رہ سال بعد  ۴۸۲۱ھ میں آپ ملک تیرا ہا ہ سے نقل مکا نی کر کے چو ُرہ شریف تشریف لے آئے۔اور اپنے مرید خا ص کو جس جگہ پر اشا رہ فر مایا تھا ۔اپنے لئے رہا ئش گا ہ  اور مسجد وغیرہ تعمیر کرائی۔اور بعد میں اسی جگہ آپ کا مزا رمبا رک بنا۔ میاں احمد فقیر تین سال تک خدمت کرنے کے بعد واصل  با اﷲ  ہو گیا ۔میاں احمد فقیر اور میاں محمد فقیر کی اولاد نے بعد میں بھی یہ تعلق قا ئم رکھا ۔میاں محمد فقیر کی اولا د میں سے امام صادق مرحوم  میرے قبلہ و کعبہ والد گرا می حضرت پیر محمد سعید شا ہ رحمۃ اﷲ علیہ کے ساتھ سفر میں رہا کر تا تھا۔آزاد کشمیر میں پلندری کے مقام پر جب میر ے وا لد صا حب کی وفا ت ہو ئی تو آخری لمحا ت کے وقت وہ وہا ں مو جود تھا۔میر ے قبلہ و کعبہ والد گرا می نے اس کی گو د میں آخری سانس لیا ۔اسی طرح اس کا لڑکا عبد الجبا ر اب بھی میرے لنگر و دیگر خانگی امور کا مہتمم ہے۔اور سفر کے دوران اپنے وا لد کی طر ح  میر ے ساتھ سفر میں رہتا ہے۔اﷲ تعا لیٰ انہیں جزائے خیر دے۔(آمین)جنا ب بابا جی صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ کے چو ُ رہ شریف میں قیا م فر مانے پر علا قہ پنجا ب و ہندو ستان سے آنے والے معتقدین کو بہت خو شی حا صل ہوئی۔اب اکثر لو گ  آپ کی خد مت اقدس میں حاضر ہو نے کا شرف حا صل کر نے لگے۔تعلیما ت مجددیہ کے مطا بق آپ کی طبیعت  ابتدا ئی زمانہ ہی سے اتبائے سنت کی طر ف مائل تھی۔چنانچہ آپ اپنے معمولا ت زندگی میں چھو ٹی چھوٹی با توںمیں اتبا عِ  سنت کا بہت لحا ظ فر ما تے تھے ۔ حقہ نو شی سے آپ کو سخت نفرت تھی اس سے مریدین کو منع فر ما تے تھے۔یہا ں تک کہ کسی حقہ نو ش کو ختم خو اجگان میں بھی شرکت کی اجا زت نہ تھی ۔آپ نے نہا یت سادہ طبیعت پائی تھی آپ نے تقریباً  اَسی سال تک تیزئی شریف میں قیا م فر ما یا لیکن اس دوران آپ نے معمولی سے مکا ن میں ہی رہا ئش رکھنا پسند فر مایا۔اسی طرح  مہما نو ں کے لئے بھی ایک سا دہ سا مہمان خانہ تعمیر کر وایا۔آپ کھا نے پینے میں بالکل تکلف نہ فر ماتے تھے۔دعوت میں ہمیشہ ہی سا دگی کی تلقین فر ماتے ۔جو ملتا کھا لےتے ،جو ملتا پہن لےتے البتہ اپنے مہمان کی ہر ممکن بہتر میزبانی و عزت افزئی کی کوشش فر ماتے کسی کو ہر گز حقیر خیال نہ فر ماتے۔ﷲ تعا لیٰ کے فضل و کر م سے اب بھی حضرت کی تما م اولا د میں مہمان نو ازی کی صفت موجو د ہے۔ تما م مر یدان سے یکسا ں سلو ک  فر ماتے اور عام طور پر مہمانوں کے ساتھ ملکر ہی کھانا تناول فر ماتے۔اس طر ح آپ کی سادگی ، عاجزی اور انکساری  حاضرین کو بے حد متاثر کر تی تھی۔اورمریدین  بھی اپنے اند رایسی ہی صفا ت و عادات پیدا  کر نے کی کو شش کر تے۔کسی کی حالت زار کو دیکھ کر آپ افسردہ  ہو جاتے غریب کی دل شکنی ہر گز نہ ہونے دیتے۔آپ کے اندر اﷲ تعالیٰ نے عفو ودرگزر کی خا صیت حددرجہ ودیعت فرمائی تھی۔ کسی کی غلطی پر ہرگز ناراض نہ ہوتے بلکہ معاف کر دینے کو افضل قرار دیتے۔ایک دفعہ آپ کا مرید غلام حسن علی آپ سے بد ظن ہو گیا ۔کچھ عرصہ بعد جب اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو حاضر خدمت ہو کر معافی کا خواستگار ہوا۔ نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے معاف فرما دیا بلکہ کچھ عرصہ مزید تربیت کے بعد اس کو اعلیٰ مقامات طے کراکر خلافت  سے نواز دیا
آپ اکثر با وضورہا کرتے تھے۔ آپ عمر کے آخر  حصے میں بھی سردیوں کے موسم میں گرم پانی کے لئے کوئی اہتمام نہ فر ماتے ۔ بہتے اور شفاف پانی سے وضو فرما نے میں زیادہ شوق کا اظہار فرماتے۔ اور نہایت کثیر العبادت تھے ۔آپ کے معمولات  میں شب بیداری مقدم تھی۔ آپ رات کے آخری حصہ میں جاگ کر کسی کے تعاون کے بغیر خود ہی وضو فرماتے۔ اور اکثر بارہ رکعت نماز نفل تہجد ادا فرماتے ۔پھراستغفار کی تسبیح ضرور پڑھتے ۔اور مراقبہ میں مشغول رہتے ،پھر ذکر نفی اثبات اور ذکر اثبات مجرد فرماتے۔ یہاں تک کہ سنتوں کا وقت ہو جاتا سنتیں ادا کرنے کے بعد آپ تھوڑی دیر لیٹ کر جسم کو آرام دیتے۔نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد کسی سے گفتگو نہ فرماتے کہا جا تا ہے کہ آپ ذکر اس قدر تن سازی سے فرمایا کرتے تھے کہ دور دور تک بھونے ہوئے گوشت کی طرح کی بو پھیل جاتی۔آپ اشراق اور چاشت کی نماز بھی پڑھا کرتے تھے ۔اس دوران دیگر و ظائف و اوراد جاری رہتے۔ بعد ازنماز چاشت اپنے مریدین، متوسلین اورسائلین سے ملتے اور ان کو توجہ فرماتے، بیعت فرماتے ۔یہ مجلس دوپہر تک رہتی پھر لنگر تقسیم کیا جاتا ۔کچھ دیر استراحت فرماتے اور اس کے بعد  ظہر کی نماز ادا کی جاتی۔ اس کے بعد ذکر نفی اثبات اور تلاوت سورۃ نوح  فرمایا کرتے تھے ہمیشہ چار رکعت نماز سنت غیر موکدہ بوقت عصر و عشاء پڑھا کر تے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعت نفل اوابین بھی آپ کے معمولات میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ سورۃیٰسین ، سورۃ فاتحہ،سورۃ واقعہ، آیت الکرسی  اور دیگر بہت سی سورتیں اوروظائف آپ کے معمولات کا حصہ تھیں۔ گو آپ کو اپنے والد گرامی سے چہارسلاسل میں اجازت بیعت و خلافت تھی ۔ مگر آپ کی رغبت طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کی طرف کچھ زیا دہ تھی ۔لہٰذا آپ اکثر اسی سلسلہ میں بیعت فرمایا کرتے تھے۔
تبلیغ اسلام کے عظیم مشن کو جاری رکھنے کے لئے اپنے چاروں صاحبزادگان کے علاوہ کئی ایک مرید ین کو بھی اجازت و خلافت سے نوازکر دعوت دین اسلام کی خدمت پر مامور فرمادیا تھا۔ جنہوں نے کمال محبت و محنت سے حضرت کی طرف سے تفویض کردہ فرض کی تکمیل میں دن رات صرف کئے ۔اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے ذریعے لوگوں کو راہ حق کی طر ف بلا کر انہیں راہ نجات سے روشناس کرایا۔ ایسے حضرات کے اسم گرامی یہ ہیں ۔
۱۔ حضرت عجب نورؒ ،۲۔ حضرت اللہ نورؒ  ۳۔  حضرت ہادی نامدارشاہؒ  (آپ کے حالات کاتذکرہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔) آپ نے حضرت بابا جی صاحب ؒ  کے حکم کے مطابق موضع  نتھیال شریف ضلع اٹک میں مستقل رہا ئش اختیار کر لی تھی۔ آپ کا وصال  ۰۸۲۱ھ  میں ہو ا۔ آپ کا مزار مبا رک نتھیا ل شریف ضلع اٹک میں ہے۔ آپ کی اولاد میں سے حضرت پیرفضل شاہ ؒ صاحب  نہا یت با کمال  بزرگ تھے ۔آپ عالم با عمل ،صاحب کشف تھے۔ مکتوبات شریف میں حاص عبور حاصل تھا۔ شریعت مطہر ہ کے سخت پا بند تھے۔آلو مہار شریف ،باولی شریف ، اترولی شریف (انڈیا)، روپڑ شریف ،کہیاں شریف و دیگر کئی نقشبندیہ مراکز کا سرچشمہ آپ ہی ہیں ۔ آلو مہار شریف کے صاحبزدہ فیض الحسن شاہ صاحبؒ آخر دم تک چورہ شریف میں تقریبا ہر سال حاضری دیا کرتے تھے۔ اب ان کے صاحبزادگان میں سے صا حبزادہ افتخارالحسن شاہ صاحب اپنے بزرگ والد کی طرح دربار شریف باقاعدگی سے حاضری دیتے ہیں۔ اور اپنے والد بزرگوار کی طرح پورے خاندان کانہایت احترام کرتے ہیں۔ اسی طرح پورا خاندان بھی ان کی پذ یرائی کرتا ہے ۔فقیر حسن علی بھوت ما ر نزد بسال ضلع اٹک
یہ آپ کے خاص خادموں میں سے تھے۔ ایک دفعہ سفر کے دورا ن انہیں کچھ بدگمانی سی پیدا ہو گئی ۔کہ یہ کیا فقیری ہے کہ روزانہ سفر ہی سفرہے۔ دن رات میں کچھ آرام نہیں ہے۔ اسی دوران سخت بخار ہو گیا اور شدت بخار کی وجہ سے بیتابی میں اضافہ ہو گیا ۔اس وقت حضرت باباجی صاحبؒ  موضع الاچی ضلع کوہاٹ میں سردار  امیر خان و سردار سمندر خان و سردار سرن خان  کی دعوت پر قیام فرما رہے تھے۔ حضرت باباجی صاحب ؒ  نے اپنے ہاتھ سے ثرید بنا کر کھلایا۔ اور فرمایا کہ حسن علی !تم تو اس سفر کی تکلیف بھی براشت نہ کر سکے ۔ اور بدظنی و بد گمانی نے تمہیں گھیر رکھا ہے۔ فقیر کو سخت جان اور ثابت قدم ہو نا چاہیے۔ تسلی و تشفی دی توجہ فرمائی دم فرمایا تو صحت یاب ہوگئے ۔بعد ازاں خلافت  و اجازت و وظائف قصائد عطا فرمائے ۔ان کی ذات سے کافی لوگوںے فیض حاصل  کیا۔مزار بمقام بھوت مار نزد بسال ضلع اٹک  ہے۔ آپ کی وفات ۰۹۲۱ھ میں ہوئی خلیفہ مولوی فضل دین موضع خونی چک گجرات جن کی وفات شعبان ۵۲۳۱ھ میں ہوئی۔
خلیفہ جان محمد  کنٹ ضلع اٹک۔
میاں محمد فقیر    چورہ شریف ضلع اٹک
میاں احمد فقیر   چورہ شریف ضلع اٹک
میاں صوبہ     بمقام کھاریاں ضلع گجرات
ان کے مزار پر حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ ؒ اکثر جایا کرتے تھے۔
خلیفہ احمد شاہ افغان
خلیفہ خدا بخش بنی والا سکنہ پوڑےسوال ضلع راولپنڈی  ان کی وفات ۳۹۲۱ھ میں ہوئی۔ انکا قیام  وہاں کے ایک بڑے پانی کے تالابپر ہو اکرتا تھا۔ لہذا  انہیں بابابنی والا کہا جاتا تھا۔ ان کی اولاد بھی وہاں ہی بیٹھتی ہے۔ کثرت سے لوگ روزانہ وہاں حاضر ہوتے ہیں۔ ہر سال نہایت ہی عالیشان عرس منایا جاتا ہے۔ انکی اولاد باقاعدگی سے دربار شریف حاضری دیتی ہے ۔
مرتضیٰ شاہ  مکان شریف ضلع گورداسپور
حبیب اللہ شاہ بساہاں شریف  ؒ تحصیل حویلی ضلع پونچھ آزاد کشمیر
یہ حضرت جناب  بابا جی صاحبؒ سے چہار سلاسل میں صاحب ارشاد تھے۔ نہایت ہی سادہ طبیعت پائی تھی۔ آپ ا کثر مراقب رہتے تھے۔ گردن ہمیشہ خمیدہ رہتی۔ بہت مہمان نواز تھے۔ آپکے فرزند  پیر ولایت شاہ صاحب جن کاوصال مکہ شریف میں ہوااور جنت المعلّیٰ میں دفن ہوئے۔
براہ راست چورہ شریف سے فیض یاب ہو کر صاحب اجازت و خلافت ہوئے۔اس وقت ان کی اولادمسند ارشاد سنبھالے ہوئے ہے۔پیر محمد امین شاہ صاحب سید پور ضلع چکوال نقل مکانی کر کے وہاں قیام پذ یر ہوگئے ہےں۔ جبکہ پیر محمد سعید شاہ صاحب و دیگر فرزندگان بساہاں شریف میں رہتے ہیں۔ یہاں پر ہر سال عرس مبارک تزک و احتشا م  سے منا یا جاتا ہے۔
حبیب اللہ شاہ صاحب بمقام  اڑائی علاقہ منڈی ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر
محمود شاہ، حسن شاہ ۔سکنہ چھاترہ  آزا د کشمیران کے علاوہ جناب شاہ نور محمد قدس سرہ کے اور بھی بہت سے خلفاء ہیں جن کو اجا زت و خلافت سے نوازا گیا ۔اورجن کے فیض سے خلق خدا مستفیض ہوئی۔حضرت جناب خواجہ شاہ نور محمد ؒ کے چار فرزند تھے ۔خواجہ شاہ احمد گل ؒ ،خواجہ شاہ فقیر محمد ؒ ،خواجہ دین محمد ؒ ،خواجہ شاہ محمد ؒ تھے ۔ حضرت باباجی صاحب ؒ نے اپنے چاروں فرزندوں کو چہار سلاسل میں خلافت عطافرماکر مسند آراء فرمایا۔ اور کسی ایک کیلئے یہ منصب خاص نہ فرمایا ۔اگر کوئی شخص بھی اس کے بر خلاف بات کہتا ہے تو وہ حضرت بابا جی صا حب کی ذات  اقدس پر افتراء پر دازی کے سوا کچھ نہیں ۔اور حقیقت کے با لکل بر عکس ہو گا۔حضرت خواجہ شاہ احمد گل ؒ کے علاوہ بقیہ تینوں فرزند ان نے بھی چورہ شریف میں مستقل سکونت اختیا ر کر لی تھی۔ اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے شب و روز لگے رہے ۔تینوں حضرات نے ملک ہندوستان میں کئی عظیم خلفاء پیدا کیے۔حضرت شاہ نور محمد ؒ کا وصال ۳۱شعبان المعظم۶۸۲۱ ھ کو ہوا آپکا مزار مقدس چورہ شریف کی ذیلی بستی دربار شریف میں مرجع خاص و عام ہے ۔جہاں پر ہر سال نہایت جوش و خروش محبت و عقیدت سے موزوں موسم میں عرس منایا جاتا ہے ۔