حضرت خوا جہ شا ہ محمد رحمۃ اﷲ علیہ

حضر ت خو ا جہ شا ہ محمد ؒ حضر ت خو ا جۂ  خواجگا ن شا ہ نور محمد قدس سرہ‘ کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ جنہیں عام طور پر’’حضرا ت خورد‘‘کہا جا تا تھا۔حضر ت بابا جی صا حب ؒکو آ پ سے بہت زیا دہ محبت تھی۔ چنا نچہ حضرت با با جی صا حب ؒ  فر ما تے کہ ’’  شا ہ محمد ہما رے گھر کا چر ا غ ہیں‘‘ آپ حا فظ قرآن تھے۔ پند رہ پا رے صبح اور پندرہ  پا رے شا م کے وقت پڑھنا آ پ کا معمو ل تھا ۔دینی تعلیم مخدومیاستاد کلا ں حضرت محمد امین ؒ سے حا صل کی۔تحصیل علم کے بعد جنا ب خوا جہ شا ہ نور محمدقدس سرہ‘ نے آپ کو چہا ر سلا سل میں بیعت فر ما کر قلیل عر صہ میں ہی سلوک کی منا زل طے کر ادیں ۔ محبو ب فر ز ند ہو نے کی وجہ سے  جلد ہی خرقہ ٔ خلا فت عنا یت فر مایا ۔آپ کو ا کثر سفر پر روانہ  فر مایا کر تے تھے۔آپ کی گفتگو نہایت مؤ ثر ہوا کر تی تھی۔کئی غیر مسلم آ پ کی صحبت کیمیاءاثر میں بیٹھ کر نہ صرف مسلما ن ہو گئے بلکہ خود صا حب ارشا د ہو ئےاو ر آج تک ان سے سلسہ رشدو ہدایت جا ری ہے۔سرا نوالی ضلع سےا لکوٹ میں اکژ جایا کر تے تھے۔میاں محمد اسلا م؛ میا ں غلا م محمد ، میا ں محمد ا عظم آپ کی صحبت میں قبول اسلام سے قبل کبھی کبھا ر حا ضر ہوا کر تے تھے۔آپ کی مجلس کا ان پر ایسا اثر ہوا کہ تینوں چچا ، تا یا ذاد بھا ئی اپنا سکھ مذہب ترک  کر کے مشرف بہ اسلا م ہو گئے۔ سکھ برا دری کے جبر و تشدد کے با وجو د دوبا رہ سکھ مذہب کی طر ف ما ئل نہ ہو ئے۔ ان میں سے میا ں محمد اسلا م صا حب کی طبیعت زیا دہ صوفیا نہ تھی چنا نچہ حضرت خو اجہ شا ہ محمد قدس سرہ‘ نے ان کو سلو ک کی منا زل طے کر وا کر  اجا زت بیعت و خلا فت سے نواز ا۔ ان کے بعد ان کے فرزند میا ں اکبر علی مسند آرا ء ہوئے ۔ انہیں حضرت قبلہ پیرمحمد سعید شا ہ صا حب  رحمۃ اﷲ علیہ نےخر قہ خلا فت عطا فر مایا۔حضرت خوا جہ شا ہ محمد ؒ نہایت مستجا ب الدعوا ت تھے۔ایک دفعہ حضرت قاضی محمد عادل شا ہ صا حب ؒ کے جوا ں سا ل صا حبزا دے نبی شا ہ اٹھا رہ سال کی عمر میں یکم محر م الحرا م۴۱۳۱ھ کو وفا ت پا گئے ۔قا ضی  صا حب ؒبہت مغموم رہنے لگے۔ایک دن حضرا ت خورد  جنا ب حضرت شاہ محمد علیہ رحمۃ نے فر ما یاکہ مجھے جنا ب با با جی صا حب ؒ نے بشا رت دی ہے کہ اﷲ تعا لیٰ مر حوم نبی شا ہ کا نعم ا لبدل عطا فر ما دے گا۔ چنا نچہ کچھ عر صہ بعد حا فظ رشید احمد پیدا ہوئے۔حضور نے جا کر گود لیا پیا ر کیا اور دعا دی۔آپ فر ما یا کر تے تھے ۔ جو مخدو م بننا چا ہے تو اسے چا ہیے کہ وہ اپنے مر شد کی خد مت و تعظیم کر ے۔کیو نکہ ان کے نزدیک تعظیم ہی سے مر شد را ضی اور مہر با ن ہو سکتا ہے۔وہ فرما تے کہ پہلے خو د خا دم بنے تو پھر وہ مخدوم ہو گا۔
 ع:۔ہر کہ خد مت کرد او مخدوم شد
آپ اپنے متوسلین سے بہت محبت فر ما یا کر تے تھے۔ اکثر دوستوں کے سا تھ ہی کھا نا تنا ول فر ما تے تھے۔ حضر ت جنا ب با با جی صا حب ؒ کی حیا ت میں لنگر کا انتظام آپ ہی فر مایا کر تے تھے۔ آپ کے دو فرزند حضرت امام شاہ صاحب ؒاور حضرت غلام شاہ صاحب  ؒتھے۔ آپ ہی سے اجازت بیعت وخلافت ہوئے اور سلسلۂ رشدوہدایت جاری رکھا حضرت امام شاہ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کے دو فرزند تھے۔ پیراکبر شاہ صاحب  رحمۃ اﷲ علیہ اور پیر محمد بخش صاحب رحمۃ اﷲ علیہ جو بڑے مہمان نواز تھے کسی نہ کسی کو کھانا کھلانے کیلئے ساتھ لے آتے تھے ۔خود نماز پابندی سے با جماعت ادا فرماتے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔ تہجد بھی پابندی سے ادا فرماتے ۔ پورے خاندان سے  نہایت ہمدردی فرماتے۔سادہ غذا مرغوب تھی۔ ایک حادثہ میں زخمی ہوئے تقریباَایک سال بستر پررہے آخر۵ ،مئی۰۸۹۱ ء انتقال ہوا۔ حضرت شا ہ محمد ؒکے دونوں صاحبزادگان کے علاوہ آپ کے دیگر چند ایک خلفاء کے نام یہ ہیں۔میاں محمد اسلام ،سرانوالی نزد سانگلہ ہل   شیخو پورہ ۔ نور شاہ پونچھ شہر(مقبو ضہ کشمیر)۔ پیر بہادر شاہ، اڑائی والا۔ شاہ محمد، بساہاں شریف ۔ اکبر شاہ، کرتو والا ۔میر صاحب، پہاڑنگ ۔ محمد سعید ،پنج وڈ فیصل آباد۔ محمد خان ،دھم تھل۔پیر محمودشاہ،چھاترہ۔پیرحسن شاہ چھاترہ(آزاد کشمیر)۔آپ نے ۷۱ ،رجب۵۱۳۱ھ وفات پائی ۔اور چورہ شریف میں حضرت جناب بابا جی صاحبؒ کے مزار کے مشرق کی طرف دفن ہوئے۔