حضرت سلطان محمودشاہ صاحب رحمۃﷲ علیہ

آپ بڑے ہی درویش صفت قلندر مزاج اور صاحب کرامت برزگ تھے۔ بھوئی گاڑ ضلع اٹک میں تحصیل علم حاصل کیا ۔ تصنع اور غیر شرع امور سے سخت نفرت فرماتے تھے۔ طویل عرصہ تک تبلیغ دین کے سلسلہ میں سفر پر رہا کرتے ۔ مریدین سے بہت محبت اور شفقت فرماتے تھے ۔ لیکن دین کے معاملہ میں بہت سخت تھے۔ ذراسی کوتاہی برداشت نہ فرماتے۔اکثر پیدل سفر کیا کر تے تھے ۔ بعض اوقات خاموشی سے دوسری جگہ تشریف لے جاتے۔ صاحب خانہ ودیگر مریدین تلاش کرتے رہ جاتے۔ آپ نے کئی ایک مساجد بنوائیں۔ جو بات کہتے پوری ہوکر رہتی۔صاف ستھر ا صوفیانہ لباس پہنتے تھے۔ سادہ مگر اچھی غذا کھاتے چائے بہت ہی عمدہ تیارکرواتے۔
آپ کے بڑے صاحبزادے محمد ایوب شاہ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ۶۸۹۱ء میں  حج پر تشریف لے گئے۔اور  ۶۸۔۷۔۱۲ کو وہاں مدینہ شریف میں ان کا انتقال ہو گیا۔اور جنت البقیع میں دفن ہو ئے اب انکے صا حبزا دے ،صا حبزا دہ علی عبا س حسینی مسند آراء ہو ئے ہیں۔۷۸۹۱ء میں جب میں خود حج کی سعادت حاصل کرنے گیا ۔تو جناب عارف شاہ صاحب بخاری (ایم ۔پی۔اے) دوہٹہ شریف کی نشان  دہی  پر ان کی قبر پر حاضری دی۔ حضر ت خواجہ سلطان محمود شاہ صاحب ؒ کے خلفاء میں قاضی غلام حیدرکوٹ سونڈکی،قاضی محمد غوث فیصل آباد ، صوفی عبدالعزےز ،ایبٹ آباد زےا دہ مشہو ر ہےں۔ حضرت خواجہ سلطان محمود شاہ صاحب ؒموضع کٹھانہ ضلع جہلم میں مائی نادرہ کے گھر بیمار ہوئے۔ وہ ا نہیں  چو ُرہ شریف لے آئیں۔ چند روز بعد مورخہ  ۲۱،مئی۸۶۹۱ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔اور چو ُرہ شریف میں دفن ہوئے۔