حضرت پیرمحمد سعید شاہ رحمۃﷲ علیہ

حضرت پیر محمد سعید شاہ صاحب ؒ اٹھارویں صدی کےآخریعشرہ میں چو ُر ہ شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کی صغر سنی میں ہی آپ کے والد گرامی حضرت غلام شاہ صاحب ؒ کا وصال ہو گیا تھا۔ کمسنی میں ہی ان کی طرف سے تحریری طور پر آپ کو خرقہ خلافت عطا فرما دیا گیا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ نہایت مدبراوردوراندیش خاتون تھیں انہوں نے آپ کی بقیہ تعلیم کا بہتر انتظام فرمایا۔ آپ نے مختلف مقامات پر تحصیل علم کیا۔ آپ فرمایا کرتے تھے۔ کہ میرے استاد حضرت میاں جی مرحوم ومغفور مجھے ساتھ لیکر سفر بھی کرایا کر تے تھے اور ساتھ ہی پڑھاتے بھی تھے۔بعد میں آ پ نے اپنے ماموں قبلہ صاحبزادہ حضرت شاہ صاحب ؒ (مدفون جموں) سے  اکستاب فیض کیا۔ سلوک کی منازل طے کیں۔ اسی لئے آپ جموں کے خاندان کی بہت عزت فرمایا کر تے تھے۔آپ نے قرأت کسی عرب قاری سے سیکھی تھی ۔ آپ کی قرأ ت اس قدر سحر آ فرین ہوا کر تی تھی کہ جب کبھی آ پ کوئی جہر ی نماز پڑھارہے ہوتے تھے تو کئی بچے اور کئی بے نماز لوگ محض قرأت سے لطف اندوز ہو نے کے لئے نماز میں شامل ہو جاتے۔ آپ کومثنوی مولانا رومؒ سے بہت محبت تھی ۔ مثنوی پڑھنے میں صاحب طرز تھے۔ مولانا عبدالرحما ن مر حوم (عباسپور) نے بتایا ۔ کہ ابتدائی زمانہ میں جب کبھی آپ وعظ کے دوران مثنوی کے اشعار پڑھتے تو لوگ جھوم اٹھتے۔ وعظ بھی بہت اچھا فرماتے تھے۔ طبیت میں توکل زیادہ تھی زندگی بھر مال جمع کر نے کی حرص نہ رکھی ۔ تحریک خلافت تحریک پاکستان میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ مسلم لیگ کی زبردست حمایت کی۔ مگر لیاقت علی خان سے اصولی اختلاف کی وجہ سے سیاست سے  با لکل کنارہ کش ہو گئے۔ جہاد کشمیر میں ذاتی طور پر حصہ لیا۔ سینکڑوں جو ڑے کپڑے اور بوٹ خود محا ذ جنگ پر جا کر تقسیم کیے۔ اورمجا ہدین کی حوصلہ افذائی کی۔ چوہدری غلام عباس مرحوم ۔ سردار محمد ابراہیم خان ،سردار محمد عبدالقیوم خان آپ کی بہت عزت واحترام کیا کر تے۔ کرنل شیر احمد خان مرحوم تو آپ کے خا ص مر یدوں میں شامل تھے۔ کشمیر میں آپ نے دینی ، معا شرتی و تہذیبی اصلا ح کیلئے بہت کام کیا۔ جب کشمیری  مہا جرین واہ اور مانسر کیمپوں میں پہنچے تو آپ نے نہ صر ف مقامی افسران کو ساتھ لیکر ان کی مشکلات کے ازالہ کیلئے کام کیا ۔ بلکہ اپنی جیب سے بھی خدمت کی ۔ جناب کرنل خان محمد خان صاحب مر حوم آپ کے بہت عزیز ساتھی تھے۔ آ پ سے انہیں بہت محبت و عقیدت تھی ۔ خان صاحب مر حوم خود بھی صف اوّل کے لیڈر تھے۔اور قوم  کی اصلاح کا جذبہ بدرجہ اتم رکھتے تھے۔ لہٰذا جب کبھی قبلہ حضرت صاحب پلند ری کے علاقہ میں دورہ پر تشریف لاتے۔ خان صاحب مرحوم حضرت صاحب کے ساتھ رہتے۔ اور لوگو ں سے رسومات بد کے ترک کرنے اور شریعت محمدیہ پر سختی سے پابندی کیلئے  تقا ریر کرواتے۔  پلند ری کی جامع مسجد کی تعمیر میں بھی آپ کی بہت بڑی خدمات ہیں۔ آ پ کی ذات بیک وقت کئی صفات کامجموعہ تھی۔ آپ ایک متبحر عالم، بہترین مقررو  قاری اور عظیم مدبرو مصلح تھے  فقہ میں آ پ کو بہت مہارت تھی۔ آپ کے استاد حضرت مو لانا جناب شا ہ صاحب ؒ اور نگ آبادی جو کہ اس وقت کے عظیم استاد عالم اور مناظر تھے۔اکثر اوقات مناظروں کے دوران آپ کو ساتھ لےجاتے کیونکہ کسی مسئلہ کو ضبط تحریر لانے میں آپ کو حد درجہ کمال مہا رت حاصل تھی۔ مجھے اکبر علی مرحوم سرانوالی کے خلف الرشید عبدالرزاق (architect)  نے بتایا۔کہ مجھے شہادت حضرت امام حسین ؑ کے بارہ میں دل میں کچھ شکوک پیدا ہوئے ۔ رات خواب میں قبلہ حضرت صاحب نے ہدایت فرمائی
صبح اٹھ کر توبہ کی۔آپ کے خلفاء میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں محمد حسین شا ہ، چھا ترہ۔ضلع پو نچھ، اکبر شاہ ، چھا ترہ ۔ضلع پو نچھ،عبد السلا م شا ہ پشا وری  مو لوی گلا ب خا ن ، کو ٹ دادو خان نزد حسن ابدال،میا ں اکبر علی ، نزد سا نگلہ ہل محمدیو سف شاہ ، لا ل پُل لا ہو ر  ،شاہ  زما ن شاہ گو گڈار تحصیل حویلی ضلع پو نچھ،میرمظفر شا ہ ،پلنگی ضلع پو نچھ۔آزاد کشمیر کے علا قہ  پلند ری کے ا حبا ب کے تقا ضا پر وہا ں جا نے کا  ارادہ فر مایا۔ تو میں نے عرض کیا کہ حضو ر آپ کا ضعف سفر کی صعو بت کا متحمل نہیں ہو سکے گا ۔ لہٰذا  بہتر ہے کہ آپ یہ پر و گرا م منسوخ کر دیں ۔ آپ نے فر ما یا کہ یہ مےری زندگی کا آخر ی سفر ہو گا۔ اس کے بعد کبھی سفر نہ کر و ں گا ۔پلندری پہنچ کر دو ستو ں سے بھی یہی الفا ظ  دوہرا ئے ۔ پلند ری کےمقام سے مجھے آخر ی خط تحریر فر مایا ۔جس میں نمبر لگا کر مجھے مختلف امو ر کے با رہ  میں ہد ایا ت دی گئی تھیں۔دورہ پر جا نے سے کچھ عر صہ قبل میری وا لدہ ما جدہ سے کہا کہ مجھے بشارت مل رہی ہے کہ اب میرے یہ دن آخری ہیں ۔کسی وقت بھی بلا وہ آسکتا  ہے ۔محتاط رہنا مگر مختا رالحسن شا ہ سے اس کا  تذ کر ہ  ہر گز نہ کر نا ۔۶۲  مئی ۹۶۹۱ء  بمطا بق  ۹ ربیع ا لاوّل۹۸۳۱ھ  تین  بجے دن سینے میں ہلکا سا  درد اُٹھا آپ کا خا دم اما م صا دق (میر ے خا دم خلیفہ عبد الجبا ر کا وا لد )  حاضر تھا۔اس نے دبا نا شرو ع کیا ۔اما م صا د ق نے بیا ن کیا کہ آہستہ آہستہ ہو نٹ ہلنےلگے ۔ کلمہ ورد ِ زبا ن تھا ۔ اسی حا لت میں آپ خا لق حقیقی سے جا ملے اسی شا م بذریعہ فون مجھے اطلا ع مل گئی۔منشی محمد اعظم مر حوم (ملا زم حا جی غنی جو ُ مرحوم) کا بیا ن ہے  کہ جب پنڈی میں مَیں نے قبلہ حضرت صا حب کا چہر ہ مبا رک دیکھا تو چہرے کی نو را نیت کی تا ب نہ  لا سکا ۔آپ زندگی بھر کبھی کھلکھلا کر نہ ہنسے تھے۔ہلکی سی مسکرا ہٹ فر ما یا کر تے تھے۔وصال کے بعد ہلکی سی مسکرا ہٹ آپ  کے چہر ے پر نما یا ںتھی۔  جو کہ تد فین تک رہی۔
    ؎  نشا ن ِ  مردِ  مو من   باتو  گو یم            چوں مرگ آید تبسم  بر لب اوست              
دو سری صبح دس ربیع الا ول ، حا جی غنی جو ُ  مر حو م، عبا س پور ۔حا جی قر با ن خان، پلندری۔    شیخ الحدیث مو لا نا محمدیو سف و د یگر کئی دوست آپ کا جسد مبا رک لے کر چو رہ شر یف پہنچے بعد دوپہر آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ 
آپ کےصا حبزا د گا ن کے نام یہ ہیں ۔
۱۔  پیر محمو د الحسن شا ہ رحمۃ اﷲ علیہ
۲۔ پیر مسعو د الحسن شا ہ رحمۃ اﷲ علیہ
۳۔ پیر مختا ر الحسن شاہ رحمۃ اﷲ علیہ
۴۔ پیر محمد طفیل شا ہ
۵۔ پیر محمد طیب شا ہ