حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲ

ولادت

۱۷۹ہجری سرہند میں پیدا ہوئے کہتے ہیں کسی زمانے میں یہ مقام ایک جنگل تھا جس میں شیر رہا کرتےتھے۔ جب یہاں شہر آباد کیا گیا تو اسی مناسبت سے اس کا نام "شیر مند تجویز ہوا۔ جو آگے چل کر " شیر مند " سے بگڑتے بگرتے سرہند بن گیا ۔
اللہ تعالیٰ نے اسی سرہند میں جناب عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کی ایک اولاد کو لاکر یہاں آباد کردیا۔ جن کے بزرگ محترم جناب شیخ عبدالاحد فاروقی رحمتہ ﷲعلیہ سلسلہ چشت کے ایک عالم با عمل بزرگ۔ یہی بزرگ جناب شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲعلیہ کے والد گرامی قدر تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے پائی۔ ان کے علاوہ آپ نے دیگر علمائے اسلام کے سامنے بھی زانوئے تلمذتہ کیا۔ مبداء فیاض نے آپ کو کچھ ایسا ذہن رسا عطا فرمایا تھا کہ جملہ اسلامی علوم تمام و کمال سترہ برس کی عمر تک حاصل کر لئے۔ بلکہ ان میں کمال تبخر پیدا کر لیا۔ اولاً آپ نے قرآن حکیم حفظ کیا پھر فقہ، حدیث و تفسیر و دیگر اسلامی علوم حاصل کئے غرض نہایت ہی قلیل مدت میں آپ ایک متجر عالم دین ہوگئے۔
علوم ظاہری و باطنی میں تکمیل پانے کے بعد آپ کے والد محترم مولانا شیخ عبدالاحد فاروقی نے آپ کو فرقہ خلافت عطا فرمایا اور اس امانت کے سونپنے کے بعد مولانا عالم جاودانی کو رحلت فرماگئے۔    والد کے انتقال کے بعد آپ حج کے ارادے سے دہلی تشریف لے گئے وہاں ایک بزرگ کے ہاں قیام کیا۔ انہوں نے ایک عارف کامل جناب خواجہ باقی باللہ نقشبندی رحمتہ ﷲعلیہ کا آپ سے ذکر کیا۔ آپ کو ان کے فضائل سن کر ان سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ چنانچہ آپ ان کے ہمراہ جناب خواجہ باقی باللہ رحمتہ ﷲعلیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔مختصراً یہ کہ دونوں ایک دوسرے سے مل کر بہت مسرور ہوئے۔ اور دونوں ان بزرگ سے آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات کرانے کے شکر گزار تھے۔ خواجہ باللہؒ کے طرز عمل آپ سے نہایت مخلصانہ و مشفقانہ رہا انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا کہ یہ جناب شیخ احمد ؒکے مرید ہیں۔ حالانکہ جناب شیخ احمد سرہندیؒ جناب خواجہ باقی باللہ ؒکے مرید تھے۔خواجہ باقی باللہ رحمتہ ﷲعلیہ آپ کا بڑااحترام کرتے اور آپ سے دلی محبت رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے آپ سے فرمایا۔ ہم نے یہاں سرہند میں ایک بہت بڑا چراغ روشن کیا۔ اس کی روشنی یک لخت بڑھنے لگی۔ پھر ہمارے جلائے ہوئے چراغ سے بیسیوں چراغ روشن ہوگئے اور وہ چراغ تم ہو۔دسویں صدی ہجری ، اکبر کے زمانے میں اسلام ایک ایسے دور سے دو چار تھا جس میں کفر و زندقہ والحاد نقطہ عروج پر تھا۔ ایک طرف علمائے اسلام کے آپس میں خرخشے، ایک دوسرے پر حملے، شدید باہمی رقابتیں۔ دوسری طرف ہندوستان کی زمام اقتدار اکبر جیسے بے علم و بے دین بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ جسے ملک پر حکومت کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نئے مذہب کا بانی بن کر لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ کرنے کی خواہش تھی۔اکبر نے اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایک ایسی چال چلی جسے آج ہمارے زمانے کی زبان میں ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ وہ ہر مذہب و ملت کے شخص کی دل جوئی کرتا اور اس کے مذہب کو برحق سمجھتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ نہایت چالاکی سے اسے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا کہ اب زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات و خیالات اور تقاضوں کے پیش نظر یہ مذہب ختم ہوگیا اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔اکبر چاہتا تھا کہ ہندوستان کے تمام مذاہب کو مٹا کر ایک نیا مذہب قائم کیا جائے۔ جس میں تمام مذاہب کے لو گ اپنا اپنا دین و مذہب ترک کر کے شامل ہوں۔ اور اس کی سلطنت کے استحکام کا باعث بنے۔ چنانچہ ملا مبارک جو اپنے زمانے کا ایک متجر عالم تھا۔ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طلب میں اکبر کے فاسد خیالات کا سرگرم کارکن بن گیا۔ اکبر ایسے بے علم بادشاہ نے ملا مبارک جیسے عالم و فاضل انسان کی تائید و حمایت پاکر " دین الٰہی کے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔ اور اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ایک عہد نامہ ترتیب دیا۔ جس کے الفاظ یہ تھے۔
میں فلاں ابن فلاں اپنی ذاتی خواہش و رغبت اور دلی ذوق و شوق دین اسلام مجازی و تقلید ی کو ترک کر کے اکبر کے " دین الٰہی "  میں داخل ہوتا ہوں۔اور اس دین کے اخلاص کے چاروں مرتبے قبول کرتا ہوں۔ یعنی ترک مال، ترک جان، ترک عزت و ناموس اور ترک دین کا اقرار کرتا ہوں۔
اکبر کے دین الٰہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سورج کی پرستش چار وقت لازمی قرار دی گئی ۔ آگ ، پانی، درخت اور گائے وغیرہ کا پوجنا جائز ہوگیا۔ ماتھے پر قشقہ لگانا۔ گلے میں زنار پہننا۔ مذہب حقہ کی علامت بن گیا۔ ان کے علاوہ داڑھی منڈوانا، غسل جنابت نہ کرنا، ختنہ کی رسم کو بیکار و باعث آزار سمجھ کر ترک کرنا۔ دین الٰہی کے ماننے والوں کی شناخت قرار پائی۔غرض تمام شعائر اسلامی کو یہ کہہ کر ترک کر دیا کہ دین اسلام ایک ہزار برس گزر جانے کے بعد بالکل اسی طرح بیکار و بے مصرف ہوگیا۔ جس طرح اسلام سے پہلے کے مذاہب اپنے ہزار سال گزارنے کے بعد عضو معطل کی طرح ختم ہوگئے۔اصل میں اکبر شروع شروع میں ایک مسلمان آدمی تھا۔ لیکن بعد میں جوں جوں ہندوئوں سے اس کا میل جول بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ ان کے ہاں رشتے ناطے ہونے لگے توں توں ان کے اختلاط کے اثر سے وہ ہندو مذہب کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا گیا۔ وہ اسلامی روایات جو اس کے بزرگوں نے قائم کی تھیں۔ ہندووں سے گہرے اختلاط کے سبب ایک ایک کر کے مٹنے لگیں۔
ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ ایک عارف کامل اور مرد مجاہد کی جو اسلام کی مدافعت میں سینہ سپر ہو کر باطل کی قوتوں کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ اور اپنے سینہ میں وہ عزم و جوش اور ولولہ پیدا کر کے میدان عمل میں آگے بڑھے کہ اس کی ہیبت وصولت سے قدم قدم پر کامرانی اس کی قدم بوسی کرے۔
اکبر کے عہد حکومت میں ہندو بڑی بڑی کلیدی آسامیوں پر فائز تھے۔ ہر جگہ ان کا اقتدار قائم تھا۔ وہ بے خوف و خطر مسلمانوں کی دلآزاری کرتے۔ مسجدیں شہید کر کے وہاں مندر بناتے کعبہ کی طرف بیٹھ کر حوائج ضروریہ سے فراغت پاتے ۔
ہندوئوں کے برت کا دن آتا تو اکبر کی طرف سے تمام سخت حکم نافذ کیے جاتے ۔ کہ آج کے دن کوئی مسلمان روٹی نہ پکائے۔ اور نہ کچھ کھائے پیئے۔ اس کے برعکس جب رمضان کا مہینہ آتا۔ ہندو اعلانیہ کھاتے پیتے۔ اور کھلے بندوں رمضان کے مہینے کی بے حرمتی کرتے۔ شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں میں پھرا کرتے تھے۔ان دنوں اکبر کا دارالحکومت بجائے دہلی کے آگرہ ہوتا تھا۔ اور اس زمانے میں آگرہ کا نام اکبر آباد تھا۔ جناب شیخ احمد مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲعلیہ سرہند سے آگرے کو روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر آپ نے بڑی دلیری و بے باکی سے اکبر کے درباریوں سے فرمایا۔
”اے لوگو! تمہارا بادشاہ اللہ اور اس کے رسول  ؐ کی اطاعت سے پھر گیا اور اللہ کے دین سے باغی ہوگیا ہے۔ جائو اسے میری طرف سے جاکر کہہ دہ کہ دنیا کی یہ دولت و حشمت اور تخت و تاج سب فانی ہیں۔ وہ توبہ کر کے خدا اور اس کے رسول کے دین میں داخل ہوجائے اور ان کی اطاعت کرے۔ ورنہ اللہ کے غضب کا انتظار کرے۔”
درباریوں نے آپ کا پیغام لیا اور اکبر کو پہنچا دیا۔ لیکن اکبر نے سنی ان سنی کر دی۔ اور مطلق پرواہ نہ کی بلکہ الٹا آپ کو مباحثہ کا چیلنج کر دیا۔ جسے آپ نے فوراً قبول کر لیا۔
دنیا کو دین پر ترجیح دینے والے علماء اکبر کی طرف تھے۔ دنیا کو دین پر قربان کرنے والے چند بوریہ نشین اصحاب آپ کے ساتھ۔ مباحثہ کا انتظام ہوچکا تھا۔ مگر کارکنان قضا وقدر کو منظور نہیں تھا۔ کہ اکبر ایسے بے علم و بے دین بادشاہ کے دربار میں جناب محمد رسول اللہ  ؐکے دین پر مر مٹنے والوں کی رسوائی ہو۔ ابھی مباحثہ کا آغاز ہونے بھی نہ پایا تھا کہ ہوا کا ایک سخت طوفان آیا اور تمام دربار اکبری تہ و بالا ہوگیا۔خیموں کی چوبیں اتنے زور سے اکھڑیں کہ ہزار کوششوں کے باوجود پھر انہیں سنبھالا نہ جا سکا۔
قدرت خدا کہ اکبر اور اس کے تمام ساتھ تو زخمی ہوگئے۔ لیکن جناب شیخ اور ان کے درویشوں میں سے کسی کو ایک خراش تک نہ پہنچی۔ مورخین کہتے ہیں کہ انہی زخموں کی وجہ سے جو مباحثہ کے دن خیموں کی چوبوں سے اکبر کو آئے اکبر کی موت واقع ہوئی۔ نیز لکھا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ اپنے عقائد سے تائب ہوا اور بستر مرگ پر نئے سرے سے اسلام قبول کر کے دنیا سے گیا۔
اکبر کے مرنے کے بعد اب آپ کا دوسرا محاذان دنیا پرستوں کے خلاف قائم ہوا جن کے خوشامد ، چاپلوسی اور بے جا تعریف سے اکبر عقل سلیم سے محروم ہوکر دین الٰہی قائم کرنے کا مدعی ہوا۔ ان لوگوں میں علماء فضلا بھی شامل تھے۔ اور وہ لوگ بھی شریک تھے جن کے اغراض محض سیاسی تھے۔
اب ہندوستان کے تخت پر توشہنشاہ نورالدین جہانگیر تھا۔ اور حکم اس کی ملکہ نور جہاں کا چلتا تھا۔ جہانگیر خود کہا کرتا تھا۔ ہم نے ایک سیر شراب اور آدھ سیر گوشت کے عوض سلطنت نورجہاں کودے دی۔
اللہ کے جن بندوں کو آدابِ محمدی ؐ آتے ہیں وہ آداب شاہی کی کبھی پرواہ نہیں کرتے۔ ایک طرف ہندوستان کا طاقتور بادشاہ اکبر دوسری طرف اکبر کی حکومت سے ٹکر لینے والا اللہ کا وہ نیک بندہ جو بظاہر ایک بوریہ نشین سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔یہ معرکہ لوگوں کی نگاہ میں بڑی اہمیت حاصل کرگیا۔ حکومت کے بڑے بڑے اراکین سے معمولی سے معمولی آدمی تک سب کے دلوں میں آپ کی حق گوئی و بے باکی نے آپ کی شخصی عظمت ، عملی فضیلت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی روحانی قوت کا رعب و جلال بٹھا دیا۔ ایک خلق خدا آپ کے حلقہ ارادت مندی میں داخل ہوگئی۔دنیا پرست لوگوں کا وہ گروہ جس نے دین کے عالموں کا لبادہ پہن کر بادشاہ کی مصاحبت و رفاقت اختیار کی۔ آپ کی دن پر دن بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اپنے لیے سخت مہلک محسوس کیا۔ چنانچہ وہ آپ سے حسد کرنے اور آپ کے اثر و نفوْذ کو کم کرنے کے لیے آپ کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلانے لگے۔ حتیٰ کہ آپ کے مکتوبات کی تحرےف کر کے انہیں لوگوں میں پھیلانا شروع کیا۔ان بدباطن لوگوں کی کاروائیوں نے یہاں تک اثر کیا کہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی ایسے بزرگ ان کی باتوں میں ا ٓگئے اور انہوں نے آپ کے خلاف کتابیں لکھیں۔ اور آپ کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔ جس کا انہیں بعد مین عمر بھر قلق رہا۔حاسدوں نے آپ کے خلاف جہانگیر کے کان بھرنے کے لیے نور جہاں کا آلہ کار بنایا۔ نورجہاں چونکہ اپنے بھائی آصف جاہ کوولی عہد سلطنت بنائے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور یہ لوگ اس کی تائید میں تھے۔ اس لیے اس آرزو کی تکمیل کے لیے اس سے جہاں تک بن پڑا اس نے جہانگیر کو آپ کے خلاف خوب اکسایا۔آخر چند غلط فہمیوں میں مبتلا ہو کر جہانگیر نے آپ کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ تشریف لے گئے۔ وہاں چند سوال و جواب ہوئے۔ آپ کے طرز کلام میں چونکہ کوئی ایسی بات پیدا نہ ہوئی۔ جو قابل مواخذہ ہوئی۔ لہٰذا سلامتی کے ساتھ واپس آگئے۔بد باطن لوگوں نے دیکھا کہ ان کا پہلا وار ناکام گیا۔ اب انہوں نے دوسرا حربہ یہ اختیار کہ جہانگیر کی نظر سے وہ کتابیں گزاریں جو غلط فہمیوں میں پڑ کر شاہ عبد الحق محدث دہلوی نے آپ کے خلاف لکھی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آپ کی طرف اشارہ کر کے جہانگیر سے کہا کہ یہ شخص آپ کی حکومت کے لیے سخت خطرناک ہے۔ سجدئہ دربار جو اکبر بادشاہ کے زمانے سے رائج چلا آرہا ہے۔ یہ اس کے خلاف اپنا فتویٰ دے چکا ہے۔ اس کے پاس اس وقت کم و بیش دوہزار سوار ہیں۔ جو کسی وقت بھی آپ کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔حاسدوں نے سوچا کہ ہماری یہ چال دوہرا کام کرے گی۔ کہ اگر آپ نے بادشاہ کو سجدہ نہ کیا تو بادشاہ کے عتاب میں آجائیں گے۔ اور اگر کر دیا تو اپنے مریدین سے جائیں گے۔ ان کے دلوں میں آپ کی فضیلت و عظمت مطلق باقی نہ رہے گی۔
جہانگیر کو مذہب کے معاملے میں حکومت زیادہ پیاری تھی۔ وہ یہ باتیں سن کر تلملا اٹھا اس نے فوراً آپ کو دربار میں حاضر کیے جانے کا حکم دیا۔ آپ دربار میں تشریف لے گئے لیکن سجدہ شاہی جس کا وہ طالب تھا قطعاً ادا نہ کیا۔ اس پر جہانگیر عقب ناک ہوا۔
آپ نے جہانگیر سے بڑی دلیری کے ساتھ پوچھا ۔ مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ اپنے لیے سجدہ تعظیم ۔ اللہ کا بندہ کبھی غیر کا بندہ نہیں۔ ہو سکتا۔ جو حاکموں کے حاکم کی بارگاہ میں سر جھکائے وہ کبھی کسی جھوٹے اور مٹ جانے والے حاکم کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ بھلا میں اپنے ہی جیسے ایک مجبور و بے بس انسان کو سجدہ کروں۔ ہرگز نہیں کیونکہ سجدہ خدا کے سوا کسی کو جائز نہیں۔
جہانگیر آپ کے یہ کلمات حق سن کر آپے سے باہر ہوگیا۔ اس کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ اس کے سان گمان میں کبھی یہ بات نہیں آسکتی تھی۔ کہ کوئی شخص اتنی دلیری ، بے باکی اور جرأ ت  کے ساتھ گفتگو کرے گا۔ اس نے فوراً آپ کے قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔ اللہ اکبر حکم قتل پاکر آپ کے چہرے پر مطلق کسی پریشانی اور خوف و ہراس کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔ نہایت استقلال اور حوصلے کے ساتھ کھڑے رہے۔ مگر اس مقلوب القلوب کی حکمت دیکھیے کہ تھوڑی ہی دیر میں جہانگیر نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ اور بجائے قتل کے قید کیے جانے کا حکم دیا۔    چنانچہ آپ قید کردیے گئے اس کے علاوہ جہانگیر کے حکم سے آپ کا گھر بھی لوٹا گیا۔ یہ وقت اصل میں وہ تھا کہ جس کی پیش گوئی آپ قید ہونے سے بہت پہلے اپنے درویشوں مریدوں اور معتقدوں سے کر چکے تھے۔
آپ کے قید کیے جانے کی اطلاع پاکر سب سے پہلے شاہجہان نے آپ سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے خاص الخاص دومعتمد افضل خان اور خواجہ عبدالرحمٰن کو آپ کی خدمت میں بھیجا۔ اور فقہ کی وہ کتابیں جن میں سجدہ تعظیمی کی اباحت بیان کی گئی تھی۔ ہمراہ بھیجیں اور کہلا بھیجا کہ اگر آپ بادشاہ سے ملاقات کے وقت سجدہ تعظیمی کرلیں۔ تو میں ذمہ لیتا ہوں کہ آپ کو مطلق کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔
آپ نے شاہجہاںکے پیغام میں اسے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ ہر چند جان بچانے کے لیے یہ بھی جائز ہے لیکن عزیمت اسی میں ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ نہ کیا جائے۔
جہانگیر نے حکومت کے بڑے بڑے اراکین کو آپ کے قید کیے جانے سے پہلے ہی مختلف علاقوں کے گورنر بنا کر ادہر ادھر بھیج دیا تھا۔ مصلحت اس کے نزدیک یہ تھی کہ آپ کے اوپر گرفت کرنے میں اسے آسانی رہے۔ لیکن جب ان گورنر وں کو آپ کی گرفتار کا علم ہوا تو سب نے آپس میں ایکا کر کے جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی جتنی کہ مہابت کان۔ مرتضےٰ خان۔ تربیت خان۔ سید صدر جہاں۔ اسلام خاں ۔ خاں جہاں لودھی۔ حیات خان۔ دریا خان ۔ غرض آپ کے تمام معتقدین جہانگیر کے مقابلے کو نکل آئے۔
مہابت خان نے بادشاہوں بدخشاں و خراسان اور توران سے امداد لے کر جہانگیر ریشکر کشی کا حکم دے دیا۔ جہانگیر بھی اپنی فوج و سپاہ لے کر مقابلے کو نکلا۔ ابھی دونوں لشکر مقابلہ پر آئے ہی تھے کہ جہانگیر کے لشکر سے بہت سے آدمی مہابت خان سے جا ملے۔ آخر جہانگیر اور آصف جاہ دونوں کو مہابت خان نے گرفتار کر لیا۔ اور خطبے و سکے سے اس کا نام باہر نکال دیا۔
اس کے بعد مہابت خان نے آپ کی خدمت میں واقعات کی تفصیل عرض کی اور درخواست کی کہ ہماری خواہش ہے کہ مغل سلطنت کے تخت شاہی پر اب آپ جلوہ افروز ہوں۔ آپ نے اس کے جواب میں مہابت خان کو لکھا۔ مجھے سلطنت پانے اور حکومت کرنے کی ہرگز ہوس نہیں۔ اور میں تمہارے اس فتنہ و فساد کو پسند نہیں کرتا۔ میں نے جو قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی ہیں وہ کسی اور مقصد کے لیے ہیں۔ وہ مقصد جب پورا ہو جائے گا تو میں آپ سے آپ قید سے رہائی  پالوں گا۔ یہ فسا د میرے مقصد میں حائل ہے۔ بہتر ہے کہ تم بغاوت سے باز آجائو۔ اور فوراً اپنے بادشاہ کی اطاعت قبول کرلو۔ میں بھی انشاء اللہ تعالےٰ جلد ہی قید سے رہائی پالوں گا۔
اسی اثنا میں نور جہاں کو بھی گرفتار کیا جا چکا تھا۔ کہ جہانگیر و آصف جاہ کی گرفتاری کی اطلاع پر انہیں چھڑانے آئی تھی۔ قریب تھا کہ مہابت خان کے غیض و غضب سے یہ تینوں اپنے کیے کی سزا پالیتے کہ آپ کا خط آگیا۔مرشد کے حکم کی تعمیل کی مہابت خاں جہانگیر کے پاس آیا اور کہا میں آپ کو اپنے مرشد کے حکم سے رہا کرتا ہوں۔ اور اس کے بعد جہانگیر کو تخت شاہی پر بٹھا کر تمام آداب شاہی بجالایا۔
تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ آپ کامل ایک برس تک زنداں میں پڑے رہے جہانگیر نے جب دیکھا کہ ان کے مریدوں نے جوشی محبت میں آکر بغاوت کے اور قریب تھا کہ سلطنت مغلیہ کا چراغ گل کر دیا جاتا۔ ایسے حالات میں بھی آپ نے سلطنت سے کوئی دل چسپی نہیں لی بلکہ انہوں نے اپنے مریدوں کو بغاوت سے روک دیا تو اس کے دل سے بدکردار لوگوں کے پیدا کیے ہوئے آپ کے خلاف شکوک و شبہات جاتے رہے اور اس نے آپ کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ رہا کر دیا۔
جو اللہ کے ہو جاتے ہیں اللہ ان کا ہوجاتا ہے۔ بھلا ان کی نگاہوں میں دنیا کی کیا قدر و قیمت رہتی ہے۔ جہانگیر نے واقعات کی روشنی میں ایک طرف آپ کی بے نفسی دیکھی تو دوسری طرف نو ر جہاں اور اس کے بھائی آصف جاہ کی سازشوں کو دیکھ لیا۔
جناب شیخ سرہندی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے۔ آصف جاہ اورنور جہاں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اس کے بعد جہانگیر کو آپ سے اتنی عقیدت پیدا ہوئی کہ کشمیر سے آتے جاتے دو مرتبہ آپ کے لنگر یا باورچی خانے سے کھانا کھانے کی سعادت حاصل کرتا۔ اگر چہ کھانا سادہ ہوتا۔ لیکن وہ تعریف کیے بغیر نہ رہتا۔ کہتا میں نے ایسا لذیذ آج تک نہیں کھایا۔
تذکرہ نگار لکھتے ہیں کہ جہانگیر آخیر عمر میں اکثر یہ بات کہا کرتا کہ میں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جس سے نجات کی امید ہو۔ البتہ میرے پاس ایک دستاویز یہ ہے کہ مجھ سے ایک روز جناب شیخ احمد سرہندی نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت لے جائے گا تو ہم تیرے بغیر نہ جائیں گے۔
عرض یہ تھے وہ احوال مسلمانوں اور برائے نام مسلمان حکومت کے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کے ایمان کی تجدید کرنے کا موقع دیا اور آپ کوا لف ثانی کا مجدد بنایا جیسا کہ یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے۔آپ نقشبندی سلسلے کے بزرگ خواجہ باقی باللہؒ کے مرید ہوئے۔ اس لیے آپ سے تصوف کا جو سلسلہ آگے چلا اسے مجددیہ نقشبندیہ کہا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جناب خواجہ بہائوالدین نقشبندیہ رحمتہ ﷲ علیہ سے شروع ہوتا ہے۔ تذکرہ نگاروں نے اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کی ہے کہ وہ کپڑے پر نقش و نگار اور گل بوٹے نکالنے کا کام کرتے تھے۔
سلسلہ نقشبندیہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ پر جا کر ختم ہوتا ہے۔جبکہ دیگر سلاسل سیدنا علی رضی اﷲعنہ پر جا کر ختم ہوتے ہےں۔ جس طرح سیدنا ابو بکر صدےق رضی اﷲعنہ کودےگر صحابہ پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح ان کی ذات سے جا ری ہونے والے سلسلے کو بھی دےگر تمام سلاسل پر فوقیت اورفضیلت حاصل ہے۔
شجرہ نقشبندیہ
۱۔    جناب محمد رسول اللہ ؐ
۲.    جناب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ
۳.    جناب سلمان فارسی رضی اﷲعنہ
۴.    امام محمد بن قاسم ابن ابو بکر صدیق رحمتہ ﷲ علیہ
۵.    امام جعفر صادق رحمتہ ﷲ علیہ
۶.    حضرت بایزید بسطامی رحمتہ ﷲ علیہ
۷.    حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمتہ ﷲ علیہ
۸.    ابو القاسم گر گانی رحمتہ ﷲ علیہ
۹.    خواجہ ابواعلی فارمدی رحمتہ ﷲ علیہ
۰۱.خواجہ یوسف صمدانی رحمتہ ﷲ علیہ
۱۱.خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمتہ ﷲ علیہ
۲۱.خواجہ  عارف رپوکری رحمتہ ﷲ علیہ
۳۱.خواجہ محمود ابوالخیر فغنوی رحمتہ ﷲ علیہ
۴۱.خواجہ عزیز الغلی رام تیسنی رحمتہ ﷲ علیہ
۵۱.خواجہ محمد بابا سماسی رحمتہ ﷲ علیہ
۶۱.خواجہ سید امیر کلاں رحمتہ ﷲ علیہ
۷۱.خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمتہ ﷲ علیہ بانی سلسلہ نقشبندیہ
۸۱.خواجہ علائو الدین رحمتہ ﷲ علیہ
۹۱.خواجہ یعقوب چرخی رحمتہ ﷲ علیہ
۰۲.خواجہ عبید اللہ احرار رحمتہ ﷲ علیہ
۱۲.خواجہ محمد زاہد رحمتہ ﷲ علیہ
۲۲.خواجہ درویش محمد رحمتہ ﷲ علیہ
۳۲.خواجہ محمد امکنگی رحمتہ ﷲ علیہ
۴۲.خواجہ محمد  عرف باقی باللہ رحمتہ ﷲ علیہ
۵۲.امام ربانی جناب شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲلہ علیہ
تصانیف:
۱۔    مکتوبات
۲۔    مبداء و معاد
۳۔    معارف لدنیہ
 ۴۔    مکاشفات غیبیہ
۵۔    شرح رباعیات حضرت خواجہ باقی اللہ
 ۶۔    رسالہ تہلیلیہ
۷۔    رسالہ فی اثبات النبوت
۸۔    رسالہ بسلسلہ احادیث
اولاد :۔    آٹھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں۔
وفات:آپ کو اکثر جوڑوں کے درد کی شکایت رہی۔ شاید یہ مرض ایام قید میں لاحق ہوا ہوگا۔ آخیر عمر میں اس بیماری نے بہت غلبہ پالیا۔ وفات سے تین دن پہلے آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ دعا کیجئے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ جمعہ کے دن مسجد میں گئے۔ وعظ کیا اور ادائے نماز سے فراغت پائی تو لوگوں سے یہ کہہ کر کہ مجھے امید نہیں کل اس وقت تک دنیا میں رہوں۔ آپ خلوت میں تشریف لے گئے۔ چنانچہ آپ کی اطلاع کے مطابق دوسرے دن دوپہر میں تریسٹھ سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملے۔ تاریخ وفات ۹ربیع الاول ۹۷۰۱ ہجری ہے۔

 
 
1.png