افکارو نظریات

ابتدامیں جناب مجدد نظریہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔ چنانچہ اسی عقیدے کی روشنی میں آپ نے ایک رباعی لکھ کر جناب خواجہ باقی با اللہ کی خدمت میں پیش کی وہ رباعی یہ تھی۔
    اے دریغا کیں شریعت ملت آمائی است
    ملت ماکافری و ملت ترسائی است
    کفرو ایماں ہر دوزلف وردئے آں زیبائی است
    کفر و ایماں ہر دو اندر راہ ما یکتائی است
جناب خواجہ نے اپنے بلنداقبال اور طالع مند مرید مجدد الف ثانی کو فوراً ایک خط میں سختی سے تنبیہ کی اور انہیں لکھا کہ وہ ملحدانہ رباعی جو آپ نے لکھی تھی۔ آپ نے اس میں بہت ہی نا سمجھی اور کم عقلی کی ہے۔ ایسی لغو رباعی لکھنے والا کبھی مقبول نہیں ہو سکتا اس لئے ادب کو نگاہ میں رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بڑاغنی اور غیرت مند ہے۔مرید باسعادت نے مرشد کامل کے فرمان کو چشم بصیرت سے دیکھا اور گوش ہوش سے سنا اور مراد کو پہنچ گئے۔ چنانچہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابتدا ً مجھے سلوک کی تین منزلوں سے گزرنا پڑا۔ اولاً وجود یت ۔ ثانیاً قلیت ثالثاً عبدیت یعنی پہلے مرحلے میں جناب مجدد وحدت الوجود کے قائل تھے۔ اور خدا اور کائنات میںعےنےت کا اعتراف کرتے تھے۔ دوسرے مرحلے پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ کائنات کا وجود تو ہے لیکن وہ حقیقت مطلقہ کاظل ہے یہاں دوئی کا تصور پیدا ہوا اور ان کی نگاہ میں وحدت الوجود کے مسئلے کی صداقت کھٹکنے لگی۔ پھر جب آپ عبدیت کے مقام پر پہنچے تو خدا و کائنات میں دوئی بد رجہ اتم ثابت ہوگئی۔ اور انہوں مسئلہ وحدت الوجود کو باطل ثابت کر دیا۔ عالم تمام حلقئہ دام خیال ہے۔

 
 
7.png