وحدت الشھود

گیارہویں صدی ہجری میں جناب مجد د الف ثانی رحمتہ اﷲعلیہ نے شیخ اکبر کے وحدت الوجود کے عقیدے کی تردید کی شیخ اکبرا بن عربی کا ا ستدلال یہ تھا کہ ذات صفات کی عین ہے۔ کائنات صفات کی تجلی ہے اور چونکہ صفات عین  ذات ہیں۔ اس لئے کائنات بھی عین ذات ہے۔
جناب مجدد رحمتہ اﷲعلیہ نے فرمایا صفات عین ذات نہیں بلکہ زائد علی الذات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وجود فی ذاتہٖ کامل ہے اسے اپنی تکمیل کے لئے صفات کی احتیاج نہیں۔ صفات اس کے وجود کے تعینات ہیں وہ موجود ہے لیکن اس کا وجود خود اس کی ذات ہے وہ سمیع ہے اپنی ذات سے وہ علیم ہے اپنی ذات سے وہ بصیر ہے۔ اپنی ذات سے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی صفات عین ذات نہیں بلکہ اس کی ذات کے اظلال ہیں۔
پس مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ کے اس نظریئے سے یہ معلوم ہوا کہ کائنات اس کی صفات کی تجلی کا نام نہیں بلکہ اس کی صفات کا ظل یعنی پر تویا سایہ ہے۔ اور ظل کبھی عین اصل نہیں ہوتا اور مظہر کبھی عین ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ ہے مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ کا وہ نظریہ جیسے عقیدہ وحدت الشہود کہتے ہیں۔
بقول مولانا شبلی علیہ الرحمہ کے وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے نظریے میں فرق یہ ہے کہ وحدت الوجود کے عقیدے کے لحاظ سے ہم ہر شے کو خدا کہہ سکتے ہیں۔ جس طرح حباب اور موج کو بھی پانی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن وحدت الشہود میں یہ اطلاق جائز نہیں۔ کیونکہ جس طرح انسان کے سائے کو انسان کہنا محال ہے۔ اسی طرح اظلال صفات کو خدا نہیں کہا جا سکتا۔
مظہر کے عین ظاہر نہ ہونے کے باب میں جناب مجدد  رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ ایک صاحب فن اپنے طرح طرح کے کمالات کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ حروف و اصوات ایجاد کرتا ہے۔ یہ حروف و اصوات کمالات کا آئینہ بن کر کمالات کے ظہور کا باعث بنتے ہیں لےکن ان حروف و اصوات کو جو مرایائے کمالات ہیں عین کمالات قرار نہیں دیا جا سکتا  پس یہ بات قطعی طے ہو گئی کہ اس کائنات کو صفات ذات کو مظہر تسلیم کر لینے سے بھی مظہر عین ظاہر ثابت نہیں ہو سکتا۔
شیخ اکبر نے کائنات کی نفی سے وحدت کے وجود پر جو استدلال کیا ہے جناب مجدد رحمتہ اﷲعلیہ کے نزدیک یہ بات شیخ نے مقام ٖ فنا میں کہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب صوفی اس مقام سے کسی بلند تر مقام پر پہنچتا ہے تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے۔ فنا کے مقام میں محبوب کی محبت کے غلبے کے باعث ہر چیز مستور ہوجاتی ہے اور چونکہ صوفی محبوب کے علاوہ کسی کو دیکھتا نہیں اس لئے وہ محبوب کے سوا کسی شے کو موجود نہیں پاتا۔
اگرچہ شیخ اکبر نے اثبات باری تعالیٰ سے کائنات کی نفی پر استدلال کیا ہے تا ہم جناب مجدد کہتے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کے اثبات سے کائنات کے وجود سے انکار لازم نہیں آتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص آفتاب کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔ تو اس یقین محکم سے یہ لازم نہیں کہ وہ آفتاب کے چمکنے پر ستاروں کو پیش نظرنہ پاکر سرے سے ان کے وجود ہی سے انکار کر دے۔
جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ ستارے ہیں لیکن آفتاب کے نور کی تابش سے مستور ہوگئے ہیں۔ اس لئے وہ اس لئے وہ ان کے وجود کا منکر نہیں ہو سکتا اسی طرح ذات باری تعا لیٰ کے اثبات سے کائنات کی نفی کو ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ درحقیقت وجود کائنات کی نفی کرنا تعلیمات اسلام کے یکسر خلاف اور منشا ئے وحی الٰہی کے بالکل برعکس ہے۔
مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ اگر کائنات کا وجود نہ ہو تو جملہ اوامرو نواہی سب کے سب عبث وبیکار ٹھہرتے ہیں۔ ان کا پھر کوئی معنی و مقصد سمجھ میں نہیں آتا اور تمام عقائد باطل ہوجاتے ہیں۔ غرض عذاب و ثواب جزا ئو سزا ۔ اجر و گناہ دین و دنیا عقبی ٰ  و آخرت یہ تمام باتیں بے معنی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کائنات کا واقعی کوئی وجود نہیں تو پھر خدا نے کس شے کو بنایا اس کی وہ کیا مخلوق ہے جس کا وہ خالق ٹھہرا ؟ پس یہ ماننا پڑے گا کہ کائنات کا وجود ہے۔
آیہ قرآنی ۔نحن اقرب الیہ من حبل الورید کہ ہم انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اس سے شیخ اکبر نے قربت کو جو عینیت قرار دیا ہے۔ مجدد صاحب  رحمتہ اﷲعلیہ نے اس سے بھی اختلاف کیا ہے۔ آپ کے نزدیک قربت کو عینیت خیال کرنا صحیح نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کی کیفیت کا فہم و ادراک ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ہمارے دماغ اور ذہن اس کے مفہوم کا تعین کس طرح کر سکتے ہیں اور قربت کو کیونکر عینیت قرار دے سکتے ہیں نیز اس حدیث نبوی کے بارے میں خلق الادم علیٰ صورتہٖ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۔ مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ کہتے ہیں کہ اس کامطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا مجسمہ ہے یا انسان عین خالق ہے بلکہ اس سے کہنا یہ ہے کہ روح ربانی کی طرح روح انسانی بھی لامکانی ہے اور اسی اعتبار سے دونوں میں مشابہت ہے۔
بصورت دیگر خالق و مخلوق میں قطعاً کوئی عینیت نہیں ہو سکتی مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں ایک مکڑی جو بڑے حزم و احتیاط سے اپنا جال بناتی ہے۔ اس ذات سے کیونکر عینیت کا دعویٰ کر سکتی ہے جو پلک جھپکنے میں زمین و آسمان کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ مجدد صاحب  رحمتہ اﷲعلیہ کے نزدیک من عرف نفسہٖ فقد عرف ربہٖ سے بھی انسان کا عین خدا ہوناثابت نہیں وہ فرماتے ہیں کہ معرفت نفس کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے نقائص و معائب کومعلوم کر لیا ہے اس پر حقیقت روشن ہو جاتی ہے تمام کمالات و محاسن اس کی ذاتی کوششوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل و کرم سے حاصل ہوتے ہیں۔ تمام کمالات و محاسن کا اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سرچشمہ ہے اور صرف اسی نقطہ نظر سے معرفت نفس اللہ کی ذات کی معرفت کا ذریعہ قرار پا سکتی ہے۔
کائنات کے پیدا کرنے کی غرض کے بارے میں شیخ اکبر نے جو یہ حدیث نقل کی ہے اور اس پر وحدت کے وجود کا استد لال کیا ہے کہ کنت کنز ا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الخلق کہ میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہنچانا جائوں  بس میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ اس استدلال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں کامل نہیں اس لئے وہ اپنی ذات کی تکمیل کے لئے تخلیق کا محتاج ہوا (اور احتیاج کا پایا جانا رب کی شان کے خلاف ہے) اور یہ خیال تعلیم وحی کے خلاف ہے اس لئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تخلیق کا مقصد معرفت نہیں۔
اللہ تعالیٰ خود اپنے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ عالمین سے غنی ہے یعنی بے نیاز ہے ان اللہ لغنی عن العالمین کائنات کی تخلیق کے مقصد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس غرض سے پیدا کیا ہے کہ وہ ہماری عبادت کریں و ماخلقت الجن والانس الا لیعبد ون
حاصل کلام یہ کہ مجدد صاحب نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ وحدت الوجود کا نظریہ اسلام کی شریعت کے یکسر خلاف ہے کیونکہ اس عقیدے کی رو سے مخلوق بے وجود ہو جاتی ہے حالانکہ قرآن حکیم نے مخلوق کو جابجاذی وجود کہا ہے۔
مجدد صاحب رحمتہ اﷲعلیہ  کے نزدیک یہ کائنات ظل صفات ہے ۔ صفات ۔ اظلال صفات ہیں۔ کائنات چند منازل تنزلات و تعینات سے وجود میں آئی ہے وہ اس طرح کہ وجود مطلق ۔وصف وجود کی علت ہے وصف وجود سے صفت حیات اس سے صفت علم اس سے صفت قدرت۔ پھرصفت ارادہ پھر صفت  سمع۔ پھر بصر۔ اس کے بعد صفت کلام اور صفت تکوین کا ظہور ہوا۔ اور صفت تکوین تخلیق کائنات کا باعث ہوئی۔

 
 
2.png