سلسلہ نقشبندیہ کی خصوصیات

نقشبندی سلسہ جسے ہندوستان میں خواجہ باقی باللہ رحمتہ اﷲعلیہ نے قائم کیا اور ان کے بعد آپ کے مریدیگانہ روز گار جناب مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲعلیہ نے اسے ترقی دی یہ سلسلہ اسلام کی شریعت کے عین مطابق ہے۔ تصوف کے دوسرے سلسلوں کی طرح اس میں شریعت اسلامی سے مطلقا ً کوئی آزادی نہیں ۔ مثلاً سجدہ تعظیمی ۔ قبروں پر روشنی غلاف اور چادر ڈالنا۔ پیروں کے قدم چومنا۔ مریدعورتوں کا اپنے پیروں سے بے پردہ رہنا غرض اس قسم کی تمام باتوں کی قطعاً اجازت نہیں۔نقشبندی سلسلے میں یہ تمام باتیں شریعت اسلام کے بالکل خلا ف ہیں۔
    اسکے  علاوہ چلہ کشی۔ ذکر با الجہر اور سماع بالمز امیر وغیرہ مراسم اختیار کرنے بھی مناسب نہیں سمجھے جاتے۔ نقشبندیوں کو صحابہ کرام کی سی زندگی۔ انہی کی طرح بود و باش وضع قطع اور معاشرت اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔اورنقشبندی سلسلے میں صحابہ کرام تمام اولیائے عظام سے افضل مانے جاتے ہیں۔ المختصر شریعت اسلام کی تمام و کمال پیروی کرنا اس مسلک کی بنیاد اولین ہے چنانچہ اس سلسلے میں جناب مجدد رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں۔ بعض درویشوں پر مجھے تعجب ہوتا ہے کہ وہ شریعت کی مخالفت پر جرات کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت وہ شے ہے کہ اگر جناب عیسیٰ وموسیٰ بھی ہمارے پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ؐ کے بعد ہوتے تو وہ بھی اس شریعت کے تابع ہوتے ۔
    المختصر نقشبندی سلسلہ جناب مجددرحمتہ اﷲعلیہ کی مساعی ہی سے ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل گیا اور ہندوستان سے باہر بھی نقشبندی سلسلے کے مراکز قائم ہوئے جنہیں آپ کے بے شمار خلفا ء مریدین نے آپ کے بعد اپنی کوششوں سے مضبوط و مستحکم کیا۔
جناب مجدد مکتوبات کے آئینہ میں:
    رد بدعت۔ مخالفت شیعت اور احیائے اسلام یہ تین موضوع جناب مجدد کی تمام تر مساعی کا ما حا صل ہیں۔ آپ کے مکتوبات کے مضامین انہی تین امور پر مشتمل ہیں۔ وہ لوگ جو گوشہ تنہائی میں تسبیح لئے بیٹھے تھے جن کو دنیا کے کاموں سے مطلق کوئی سرو کار نہ تھا۔ جن کو صرف گوشہ عافیت ہی میں بھلائی نظر آتی تھی جناب مجدد رحمتہ اﷲعلیہ نے انہیں دلیر کیا۔ ان کی ہمت بندھائی اور ان سے کہا کہ یہ وقت نہیں ہے کسی کونے یاگوشے میں جا کر بیٹھ رہنے کا۔ یاد خدا کرنا ہے تو میدان عمل میں آئو تسبیح کے دانے بھکرے ہوئے ہیں۔ انہیں قوت عمل سے پرونے کی ضرورت ہے اٹھواور خدا کی راہ میں جہاد کرو کہ اس وقت یہ جہاد ہزار عبادتوں کی ایک عبادت ہے کفر کی طاقت بڑھتی چلی جارہی اگر وقت پر اس کی مدافعت نہ کی گئی تو یادرکھو کہ تم دنیا سے مٹ جائو گے۔ اور کہیں تمہارا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔
    جناب مجدد رحمتہ اﷲعلیہ کے حساس دل پر خلا ف اسلام واقعات کا بڑا اثر تھا اس لئے وہ نہ صرف بادشاہ کے مخالف تھے بلکہ غیر مسلموں سے بھی سخت نفرت کرتے تھے۔ اور جذبہ انتقام ہر وقت ان کو بے چین کئے رکھتا تھا
 
 
3.png
monu60-446x298.jpg