منکرین تصوف کا رد

مسلمانوں میں ایک اچھا خاصہ تعلیم یا فتہ طبقہ اکثر یہ کہا کرتا ہے کہ جبکہ دین کی اصل قرآن کریم موجود ہی جس کی عملی تفسیر آنحضرتؐ نی اپنی اسوۂ حسنہ سے کی پھر آپؐ سی صحابہ ؓنی دین سیکھا اور پھر ان سےتابعین نے مگریہ جہری و خفی اذکار ،یہ با طنی اشغال  یہ فنا و بقا، یہ مجاہدات و ریاضات یا اولیائے طریقت کی باطن شریعت کی تحصیل کا یہ عمل ہمیں نہ تو نبی ٔ کریم ؐ کی اسوہ میں ملتا ہے نہ صحابہ کرام ؓ کی حیات طیبہ میں بلکہ بعد کی بزرگوں نی ان چیزوں کا اضافہ کیا ہے لہٰذا مروجہ تصوف بدعت ہے۔ایسا کہنا درست نہیں ہے اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے بدعت کی مفہوم کو متعین کرنا ہو گا یوں تو متعدد علماء نی مختلف انداز میں بدعت کی تعریف کی ہے لیکن ایک جامع تعریف یہ ہے کہ ’’ بدعت دین میں کسی ایسی چیز کے اضافے کو کہتے ہیں جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو نہ دلیل ‘‘اسے دوسری الفاظ میں دین میں نئی بات نکالنا کہہ لیجیے۔اس تعریف کی ضمن میں جب ہم مروجہ تصوف کا جائز ہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تصوف کی اصل قرآن و حدیث اور اعمال صحابہ میں موجود ہے۔تصوف کی تعریف پہلے گزر چکی ہے یعنی تصوف نام ہے قلب کو مخلوقات سے مکمل طور پر فارغ کر لینے نفسانی خواہشات پر قابو پا لینے ، روحانی کمالات کے حصول کی کوشش اور اتباع شریعت کے ذریعہ وصول اِلی اﷲ ۔اس تعریف کو پیش نظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل آیات قرآنی پر غور فرمائیں۔

محبتِ الٰہی

والذین اٰمنو اشدُّ حبّاﷲِ (البقرۃ  ۵۶۱)اور جو لوگ ایمان والے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ محبت اﷲ سے ہوتی ہے۔

خشیتِ الٰہی

سورۃ انفال میں ارشاد ہوا۔ انمالمو منون الذین اذا ذکراﷲ و جلت قلوبھم و اذا تلیت علےھم ا یتہ ذادتھم ایماناوّعلیٰ ربھم یتوکلون (انفال:۴)ایمان وا لے تو بس وہ ہو تے ہیں کہ جب (ان کے سا منے ) اﷲ کا ذ کر کیاجا تا ہے ۔تو ان کے دل سہم جا تے ہیں ۔اور جب انہیں اس کی آ یتیں پڑھ کر سنا ئی جا تی ہیں تو وہ ان کا ایما ن بڑ ھا دیتی ہیں ۔اور وہ اپنے پر وردگا ر پر تو کل رکھتے ہیں ۔
 تقشعر منہ جلودالزینَ یخشون ربھم ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ٰ ذکر اﷲ (لزمر  ۳۲) ۔اس سے ان لو گوں کی جِلد جو اپنے پر وردگا ر سے دڑتے ہیں کا نپ اٹھتی ہے۔پھر ان کی جلد اور ان کے قلب اﷲ کے ذ کر کے لئے نر م ہو جا تے ہیں ۔ یا ایھا الذین اٰمنواتقو اﷲ التنظر نفس ما قدمت لغدواتقو اﷲ۔(الحشر۸۱)اے ایمان والو ڈرتے رہا کرو اﷲ سے اور ہر شخص کو دیکھنا چا  ہیے کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے کل کے لئے اور  ڈرتے رہا کرو اﷲ سے۔

ذکر الٰہی

الذین یذ کرونﷲ َ قیاما وقُعُوداوعلی جنو بھم ( آل عمران ۱۹۱)اور وہ لوگ جو اﷲ کو ہر وقت اور ہر حالت میں یاد کرتے اور یاد رکھتے ہیں، کھڑے ،بیٹھتے  اور بستروں پر لیٹے ہوئے۔
فاذ کرو نی اذکرکم۔(البقرۃ ۲۵۱)۔تم میرا ذکر کرو میں تمھا را ذکر کروں گا۔
الذّاکرین اﷲکثیراوالذّٰاکرات اعدﷲلھم، مغفرۃَواجراعظیما۔
ﷲ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیا ں ۔ اﷲ نے ان کے  و ا سطے تیا ر  کیا  ہےبخشش اور بہت بڑا ثواب۔
الذین اٰمنو و تطمئنَّ قلوبھم بذکر اﷲ الا بذکراﷲ تطمئن القلوب ۔(الرعد۔ ۱۲)۔وہ لوگ  جو ایما ن لا ئے  اور اﷲ کے ذکر سے انہیں اطمینا ن ہو گیا خو ب سن لوﷲ کےذ کر سے دلو ں کو اطمینا ن ہو ہی جا تا ہے۔
رجال لاتلھیھم تجا رۃ ولا بیع عن ذکر اﷲ ۔ ( النور  ۷۳) ۔ایسے لو گ جنہیں نہ تجا رت غفلت میں ڈا ل دیتی ہے نہ (خرید و ) فروختﷲ کی یا د سے۔
وَلَذِکرُﷲاکبر( العنکبوت  ۵۴)۔اور البتہ یادﷲ کی بہت بڑی ہے۔
و الذ کر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا۔(مزمل۔ ۸)۔اور ذکر کیا کرواپنے رب کے نام کا اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔

تسبیح و تحلیل

یایھاالذینَ اٰمنوذکرواﷲ َ ذکرا کثیراوسجّوہُ بکرۃ واصیلا(الاحزاب۱۴)اے ایمان والو!ﷲ کا کثرت سے ذکر کیا کرواور صبح، شا م اس کی تسبیح بیا ن کیا کرو۔
واذکُرربّک کثیراوسبح نالعشی وا لابکار۔ (آل عمران۔۱۴)۔اور یاد کر اپنے رب کو بہت اور تسبیح کر شام اور صبح کو۔
فاذا قضیتِ الصلوٰۃ فا نتشروا فی الار ض وابتغوامن فضل اﷲ والذکرو ﷲ کثیرالعلکم تفلحون۔(الجمعہ۔ ۱۱)۔پھر جب نماز پو ری ہو چکےتوزمین پر پھیل جا ئواورﷲ کا فضل تلا ش کرواورﷲ کو بکثرت یا د کر تے( رہو) تا کہ تم فلا ح پا ئو۔
سبح اسم ربک الاعلٰی(الا علٰی۔۱)۔آپ ؐپاکی بیان کریں اپنےرب کے نام کی جو سب سے بر تر ہے۔

دنیا وی محبتو ں سے لا تعلقی

یایھاالذین امنوالاتلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکراﷲ (المنافقون۔۹)
اے ایما ن وا لو! کہیں تمہا رے مال اور تمہا ری اولا د تمہیںﷲ کی یا دسےغا فل نہ کر دیں ۔

اخلا قیات

ولا تستوی الحسنۃ ولا السّیّئۃادفع با لتی ھی احسن(حٰمٓ السجدہ۴۳)
نہیں یکسا ں ہوتی نیکی اور برا ئی۔ برا ئی کا تدا رک اس( نےکی) سے کرو جو بہتر ہے۔
اسکےعلاوہ تصوف کے مزید کتنے ہی موضوعات ہیں جن کی ترغیب ہمیں قرآن سے ملتی ہے ۔ مشلا سحر خیزی ،  توکل،  صبر ، شکر ،اخلا ق حسنہ ،تعلیم و تعلم ، دنیاوی محبتوں سے بے تعلقی اور مجا ہدہ وغیرہ۔

احادیث کی روشنی میں

عن ابی موسیٰ الاشعری ؓ قال قال النبی ؐ مثل الذی یزکر ربۃ والذی لا یذکر ربہ مثل الحی والمیت۔ جو آدمی اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو آدمی اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا۔ ان کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ یعنی اﷲ کا ذکر کرنے والا زندہ اور   دوسرا مردہ۔صحیح مسلم شریف سے روایت ہے ۔کان رسول اﷲ ؐ یسبر فی طریق مکۃ فمر علیٰ جبل یقال لہ حمد ان فقال سےر و احمد ان سبق امفردون۔ قبل و ما المفردون ےا رسول اﷲ؟ قال المستغرقون بذکرِ اﷲ ےصنع الذکر عنھم القالھم فیالونﷲ یوم القیامۃ حفا فاَ۔مکہ معظمہ کے سفر کے دوران حضوؐرایک پہاڑ حمدان نامی کے پاس سے گزرے تو آپ ؐنے صحابہ کرامؓ سے فرماےا کہ تم حمد ان کی سےر کرو مگریاد رکھو کہ ’’مفردون‘‘ سبقت لے گئے لوگوں نے دریافت کیا کہ مفردون سے آپ ؐکی کےامراد ہے آپؐ نے فرمایا مفردون انکو کہتے ہیں جو اﷲ کے ذکر میں مستغرق ہو تے ہیں ذکر کی بدولت سے ان کے سارے بوجھ اتر جاتے ہیں اورقیامت کے دن وہ اﷲ کے حضور ہلکے پھلکے ہونگے۔