تصو ف پر اعترا ضا ت

تصوف پر سب سے بڑا ا عتراض یہ کیا جا تا ہے کہ چونکہ یہ لفظ رسول اﷲ ؐ کے زما نۂ اقد س میں مروج نہ تھا لہٰذا غیر اسلامی ہے۔اگر یہی بات ہے تو علم تفسیر ،علم حدیث؛ علم فقہ، علم البیان، علم المعانی،علم الکلام بھی غیر اسلامی ہونے چا ہئیں کیونکہ نہ یہ الفاظ رسول اﷲؐکے زما نۂ مبا رک میں مروج تھے اور نہ یہ علوم وفنون اس زمانے میں مرتب  ہو ئے تھے ۔با ت یہ ہے کہ نہ علم تفسیر غیر اسلامی ہے نہ علم حدیث ،نہ علم فقہ، نہ علم معرفت جسے عرفِ عام میں تصوف کے نا م سے مو سوم کیا جا تا ہے۔اگر چہ یہ علوم و فنون آ نحضرتؐ کے زما نۂ مبا رک میں مرتب نہیں ہوئے تھے۔ کےونکہ صحا بۂ کرا م ؓ اس قلےل عرصے مےں جہاد فی سبےل اﷲ مےں منہمک تھے۔تا ہم عملاً صحابۂ کرام بہت بلند پا ےہ مفسر بھی تھے ،محدث بھی تھے فقےہ بھی تھے اور خدا رسےدہ صوفےانِ با صفا بھی ۔اس وقت نہ کوئی مفسر کہلاتا تھا ،نہ محدث ،نہ فقےہ، ان حضرات کے لئے سب سے بڑا اعزاز صحبت رسول اﷲؐ تھا اور اصحاب رسول اﷲؐ کہلا تے تھے۔ رسول اﷲؐ کے بعد سب سے بڑا اعزاز صحبت صحابہ تھا جن حضرات کو صحابۂ کرا مؓ کی صحبت ملی وہ  تا بعےن کہلاتے تھے ۔صحا بۂ کرام کے بعد سب سے بڑا اعزاز صحبت تا بعےن تھا اور تابعےن کے صحبت ےافتہ لوگ تبع تا بعےن کے نام سے موسوم ہوئے  اور بعد مےں جب اسلا می سلطنت کی سرحدےں وسےع ترہو گئیں اور قرب و جو ار کے علا وہ دور دور تک تما م رےا ستےں ےا تو مسلما نوں نے فتح کر لےں ےا وہ مسلما نوں کے زےر نگےں آ گئےں۔تو  اسلا می سرحدوں کی بے پنا ہ وسعت کے بعد جہا د کا سلسلہ کچھ عرصے تک مو قوف کر دےا گےا  اور مسلما نوں نے مختلف علوم و فنون ِ اسلا مےہ کی طرف اپنی توجہ مبذول کی اور تحقےق کے بعد اپنے اپنے فنون پر کتابےں تا لےف کےں اور ان کو با قا عدہ علوم و فنون کی صورت مےں مرتب کےا جن حضرات نے خالصتاً قرآن مجےد کے معانی و مطالب پر کام کےا وہ مفسرےن کہلائے جنہوں نے حدےث نبویؐ پر کام کےا  اور اسے با قا عدہ فن کے طور پر مرتب کیا وہ محدثین کے نام سے مشہور ہوئے جنہوں نے اسلامی قانون پر کام کیا وہ فقہاء کے نام سے مشہور ہوئے اور جنہوں نے اسلام کے باطنی و روحانی پہلو پر کام کیا وہ صوفیاء کے نام سے موسوم ہوئے ۔ اب اگر چہ رسولِ خداؐ کے زمانۂ اقدس میں علوم کے ماہرین نہ مفسرین کہلاتے تھے نہ محدثین ،نہ فقہا، نہ صوفیاء بلکہ اصحاب رسول ؐ کہلاتے تھے تاہم صحابۂ کرام علم تفسیرمیں بھی ماہر تھے حدیث میں بھی اور فقہ میں بھی اور علم روحانیت یا معرفت میں بھی ماہر اور کا مل تھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں جو حضرات علم تفسیر پر کام کر رہے تھے وہ دیگر علوم (علمِ حدیث ،فقہ، اور معر فت) سے نا واقف تھے ۔ہر گز نہیں بلکہ بحیثیت مسلمان عمومی طور پر وہ ان  سب علوم وفنون سے آ گاہ تھے۔ مگر جس ایک فن میں انہوں نے مہارت حاصل کی اسی نام سے مشہور ہو گئے لہٰذا تصوف کو غیر اسلا می فعل کہنا اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کےزمانۂ اقدس میں غیر مروّج کہنا سرا سر بے بنیاد اور غلط ہے۔اس کے ساتھ ہمیں ہہ دیکھنا چاہیے کہ دین میں کونسی چیز مقصود اور مامور ہے جس کا حاصل کرنا حضور ؐ نے ضروری قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر دین سیکھنا اور سکھانا تعلیم و تعلم مامور بہ ہے اور یہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضورؐ کے دور میں یہ کام صحبت سے حاصل ہو جایا کرتا تھا بعض اوقات توآپ ؐکی ایک جنبش نظر مقدر سنوارنے اور ذرے کو آفتاب بنانے کے لیےکافی ہوا کرتی تھی اسی لئےآپؐ کے دورِ سعود میں اس ’’ تعلیم و تعلم ‘‘ کے لیے کوئی مستقل نظام موجود نہ تھا نہ کتابیں لکھی گئیں نہ مدارس قائم کئے نہ تحقیقی مراکز اور نہ اکیڈمیاں۔ مگر بعد میں ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ صحبت باقی نہیں رہی بلکہ کتابوں اورمدرسوں کی ضرورت پیش آگئی تو اﷲ کے نیک بندوں نے اپنی ساری عمر اسی میں صرف کر دی انہوں نے کتابیں تصنیف کیں اور مدرسے بنائے اور یوں تعلیم و تعلم کا سلسلہ چل پڑا ۔کیاسلف صالحین کے اس اقدام کو دین میں اضافہ کا نام دیا جا سکتا ہے؟نہیں،اس لئے کہ دین میں اضافہ تو اس وقت ہوتا جب دینی کتب اور بنائے مدارس کومامور بہ امرسمجھ کر انجام دےا جاتا لےکن اگرکسی ذرےعے ےا وسےلے کو کسی دور میں ناکافی سمجھا جانے لگے اور ضرورت محسوس کی جائے کہ امر شرعی کے حصول کے لےے دےگر ذرائع ےا وسائل اختےار کےے جائےں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں جب لہجوں میں اختلاف کی بنا پر قرآن میں اختلاف ہونے لگااور صحابہ کرامؓ نے ضرورت محسو س کی کہ قر أتِ قریش پہ سب کو جمع کیا جائے ۔تو حضرت عثمان ؓنے حضرت  حفصہؓ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد کا جمع کیا ہوا قرآن منگوا کر اسکی نقلیں کروائیں اور متعدد نقول کوفہ ، مصر ،شام وغیرہ کے علاقوں میں بھیج دیں تا کہ لوگ قرأت قریش پر جمع ہو جائیں۔کیا حضرتِ عثمان ؓ کے اس فعل کو بدعت قرار دیا جا سکتا ہے؟گفتگو یہ ہے کہ کسی عمل پر ’’احدث فی الدین یا بدعت ‘‘ کا حکم لگانے سے پہلے نہایت ضروری ہے کہ یہ جانچ لیا جائے کہ آیا یہ کام امور بہ سمجھ کرکیا جا رہا ہے یا امر مامور بہ کی غر ض سے ۔ اس کو وسیلہ اختیار کیا گیا ہے لہٰذا یہ اعتراض درست نہیں ہے۔
مگر یہ بات  لازم نہیں کہ ہر نیا عمل کتاب و سنت کے احکام سے متصادم ہی ہوگا۔اگر  ایسا ہو تو اس کو’’ بد عتِ سئیہ‘‘کہیں گے اور اگر یہ نیا عمل احکا ماتِ شریعت کے متصادم اور اضافی نہ ہو تو اسے ’’بد عت ِ مباحہ‘‘  کہیں گے۔ اگر اس بنیادی فرق کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے اور ہر نئے عمل اور نئے کام کو اس کی ما ہئیت ،افادیت ،اور مقصدیت کے تجزئیے کے بغیر بدعت قرار دیا جائے تو خلا فت راشدہ سے لے کر آج تک لا کھوں شرعی و اجتماعی فیصلے ،معاملات اور احکا مات ضلالت اور گمرا ہی بن جائیںگے ۔اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دینی معاملات میں اجتہاد اور استصلاح کا دروازہ بند ہو جائے گا۔اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اسلا م کا قابل عمل ہونا بھی نا ممکن بن کر رہ جائے گا۔
بہرحال سر دست عرض کرنا یہ مقصود ہے کہ اگر کوئی عمل کتاب میں مذکو ر نہ ہواور نہ امت کے رسول نے اس کا حکم دیا ہو مگر بعد ازاں امت کے علماء اور صلحاء نے از خود کسی نئے عمل کو وضع کر لیا ہو مگر اس کا محرک فقط اور فقط رضائے الٰہی کا حصول ہو تو ’’انماالاعمال بالنیات‘‘  کے مصداق یہ امر بھی عند اﷲ مقبول اور باعث اجروثواب قرار پا جاتا ہے ۔اسی کو ’’بدعتِ حسنہ‘‘یا امرِ مستحسن کہتے ہیں ۔ارشاد باری تعالٰی ہے۔
ثم قفّینا بعیسیٰ ابن مریم و اٰ تینٰہُاالانجیل وجعلنا فی قلوب الذین اتّبعوہُ رافۃورحمۃ۔ و رھبانیتہ نِ ابتدعوھا ما کتبنٰہاعلیہم الاّابتغآء رضوانﷲ فما رعوھا حق رعایتہا فا تینا الذین اٰمنوا منہم اجرھم و کثیرمّنہم فٰسقون۰ترجمہ۔ پھر ہم نے ان کے پیچھے اسی راہ پر اپنے رسول بھیجے اور ان کے پیچھےعیسٰی ابن مریمؑ کو بھیجا انہیں انجیل عطا فرمائی اور ہم نے ان کے صحیح پیر وکاروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود وضع کر لی تھی (ہاں)مگر انہوں نے یہ صرفﷲ تعالٰی کی رضا چا ہتے ہوئے وضع کی پھر وہ اسے نباہ نہ سکے جیسے اس کے نباہنے کا حق تھا ۔پس ہم نے عطا فرما یا جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے (ان کے حسن عمل اور حسن نیّت کا اجر)اور ان میں سے اکثر نا فرما ن تھے۔(الحدید۔۷۲)
 سورۃالحدید کی ان آیات سے معلوم ہورہا ہے کہ دین عیسوی میں رہبانیت اصلا فرض نہ تھی اور نہ ہی تعلیمات مسیح میں کہیں اس کا ذکر ملتا ہے۔بعد میں لوگوں نے از خود زیادہ ریاضت،عبادت،اور مجاہدہ کے ذریعے رضائے الٰہی کے حصول کےلئے رہبانیت کی صورت پیدا کرلی جس کو قُرآن نے’’اِبتدعُوھَا‘‘(اِس بدعت کو اپنا لیا)کے الفاظ سے تعبیر کیا چونکہ یہ عمل فقط رضائے الٰہی کی خاطر تھا  اِسی لئے قُرآنی بیان کے مطابق پروردگار عالم نے اسے امرِمستحسن سمجھ کر نہ صرف قبول کر لیا بلکہ جِن لوگوںنے اِس کے جملہ تقاضے پورے کئے اِنہیں اپنے اجر سے بھی نوازا اور جو اس کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکے انہیں نا فرمان قرار دیا۔ ہم نے اِس سے پہلے چند بزرگانِ دین جو خود راہِ تصوف کے شہسوار تھے اِن کے اقوال کی روشنی میں تصوف کی تعر یفات پیش کیں جِن سے ہمیں معلوم ہوا کہ معرفت الٰہی ،اطاعت الٰہی ،خشیتِ الٰہی ،رضائے الٰہی ،ذکر الٰہی، تسبیح و تحلیل، علم و عمل کی تکمیل ،اخلاقیات کی تکریم  ،تصوف کے موضوعات ہیں اور ان تمام موضوعات اور اُمو ر کامحرک اور بنیادی مقصد صرف اور صرف اﷲتعالٰی کی رضا اور خوشنودی ہے اور خود قُرآن اس با ت پر شاہد ہے کہ خدا کی رضا اور  خو شنو دی کےلئے جو نیک عمل بھی کیا جائے وہ با رگاہِ خدامیں مقبول و منظور ہی نہیں باعثِ اجر و ثواب بھی ہے۔تصوف کی ان تعریفات، تشر یحا ت اور موضوعات کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم مروجہ تصوف کا جائزہ لےتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کی اصل قرآن مجید اور اعما ل صحابہؓ میں موجود ہے اور ان تما م موضوعات اور امو ر کی تعلیم اور تبلیغ تو خود قرآن میں ہے ۔پس تصو ف نام ہے مجموعۂ شر یعت ، طر یقت اور معر فت کا ۔
شر یعت: احکا ما ت الٰہیہ کو ہم شریعت کہتے ہیں شر یعت کا لغو ی معنیٰ ہے مذہبی قا نون۔عر بی میں کہتے ہیں  شر عک ما بلغک ا لمحل۔  (تُمہا رے لئے اُسی قدر زادِ را ہ کا فی ہے ، جو تُم کو منزلِ مقصو د تک پہنچا دے)
طر یقت:  احکاما تِ الہٰیہ کی اتبا ع اور پیر وی کا نام طر یقت ہے۔(جس کا مقتضا صر ف خوشنو دئ خُدا ہو ۔) گو یا اس زا دِ راہ یعنی شر یعت کے ہمرا ہ جس راستے پر چلا جا ئے ، اُ س کو طر یقت کہتے ہیں۔
حقیقت:  یہ را ستہ جس مقا م اور منز ل تک پہنچا تا ہے، اُ سے حقیقت کہتے ہیں۔یعنی اتبا عِ شر یعت کی بدو لت انسان جب قُر بِ خُدا وندی حا صل کر لیتا ہے تو وہ حقیقت ہے۔
معر فت:  آ غو شِ قُر بِ خُدا وندی میں پہنچ کر سالکِ راہ ِ طر یقت کو جو علم حا صل ہو تا ہے ، اُ سے معر فت کہتے ہیں۔
اس تشریح سے معلو م ہو ا کہ شریعت اور تصو ف میں کو ئی مغا یرت نہیں بلکہ شریعت پر عمل   کر نے کا نا م ہی طریقت یا تصو ف ہے۔خُدا ئے بز ر گ و بر تر نے انسان کو ایک امانت تفو یض کر کے خلیفتہ اللہ کے اعزا ز کے ساتھ عا لم آ ب و گلِ میں بھیجا۔اس امانت کی حفا ظت اور اعزا زِ خلیفتہ اللہ کو ہرلحا ظ سے ملحو ظ رکھنا ہی کمال ِ بندگی ہے اور یہ صر ف تصو ف ہی کے ذ ریعے مُمکن ہے۔