تصوف بزرگانِ دین کی نظر میں 

۱۔حضرت معروف کرخیؒ نی یہ تعریف کی ہی۔ التصوف الا خْذ بالحقائق و الیاس مما فی ایدی الخلائق۔تصوف حقیقت کی معرفت حاصل کرنے اور ان چیزوں سے نا امید ہو جانے کا نام ہی جو مخلوقات کی ہا تھ میں ہے ۔
۲۔حضرت جنید بغداد یؒ سی تصوف کی ماہیت کی باری میں دریافت کیا گیا تو انہوں نی فرمایا۔ان تکون مع اﷲ بلا علا قۃ (عوارف:۳۵)یہ کہ تو بغیر کسی نسبت و ظاہری تعلق کی ہر وقت اﷲ کی ساتھ رہے۔
۳۔ابوتراب الخنشی ؒ نی فرمایا۔الصوفی لا یکدرہ شی و یصفوبہٰ کل شئی۔
صوفی وہ ہی جس کو کوئی چیز گندا نہ کر سکی ہر چیز اس کی ذریعہ صاف اور پاک ہو جائی ۴۔ حضرت سہل بن عبداﷲ التستری نی فرمایا ۔الصوفی من صفا من الکدرومتلاء من الفکرو ا نقطع الی اﷲ من البشر و استویٰ عندِہ الذھب والمدِر ۔( نشاۃ التصوف )۔صوفی اسی کہتی ہیں جو گندگی سی پاک ہو غورو فکر میں مصروف ہو لوگوں سی انقطاع اختیار کر کی واصل باﷲ ہو اور اس کی نظر میں سونا اور مٹی کا ڈھیلہ برابر ہو
۵۔حضرت ذوالنون مصری ؒنی فرمایا۔الصوفی من لا یتعبہ طلب و یز عجہ سلب (نشاۃ التصوف)۔صوفی وہ ہی جو کسی چیزکی طلب میں سرگرداں نہ ہو۔ نہ کسی چیز کی چھن جانی سی غمزدہ ہو ۔
۶۔حضرت ابو محمد الجریزیؒ نی تصوف کی تعریف کرتی ہوئے فرمایا۔ھو الد خول فی کل خلِق سنی و الخروج من کل خلق دنی (الرسالۃ القشیریہ)۔تصوف جملہ اخلاق فاضلہ کو حاصل کرنے اور جملہ عادات دنیوی سی چھٹکارا حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔
۷۔حضرت ابوالحین امزین ؒنے تصوف کی تعریف کی ہی۔التصوف الانقیاد الحق۔اﷲ تعا لیٰ کی مکمل فرما نبرداری کا نام تصوف ہے۔
۸۔شیخ ابو علی رو زباری نے فرمایا ہے۔الصوفی من لبس الصوف علی الصفا و اذاق  الھوی ٰ طعم الجفا و لزم طریق المصطفیٰ وکانت الدنیا منہ علی القفا۔صوفی  وہ  ہےجو صفائی قلب کی ساتھ صوف پوشی اختیار کرتا ہے۔  ہوائے نفسانی کو سختی کا مزہ چکھاتا ہے۔  شرع مصطفوی ؐکو لازم قرار دیتا ہی۔ اور دنیا کو پس پشت ڈال لیتا ہے۔
۹۔حضرت امام قیشری ؒ(صاحبِ رسالۃ قیشریہ جو تصوف پر شاید ’’ کتا ب اللمع ‘‘کے بعد پہلا رسالہ ہے)  تصوف کی معنی صفائی کے لئی ہیں یعنی صفائی باطن یا تصفیہء اخلاق و اصلاح و تعمیر ظاہر و باطن  اسی لئی تصوف کی تعریف  یوں فرماتے ہیں۔الصفاء محمودبکل لسان و ضدۃ الکدورۃ و ھی َ مذمومہ
۰۱۔ نو ری ؒ نے فر مایا ۔ تصو ف کسی رسم و مرتبی کا نام نہیں ہے نہ کسی علم کا۔یہ  تو  صرف مکا رم اخلا ق کا نام ہے۔ کیو نکہ اگر یہ کو ئی مر تبہ ہوتا تو مجا ہدہ سے حا صل ہو جا تا یا کو ئی علم ہو تا تو تعلیم سی حاصل کیا جا سکتا ہے۔