قرآن کا تصوّرِ اِلٰہ

خدا کی ہستی کا اعتقاد کسی وقت بھی انسانی ذہن کا کارنامہ نہیں رہا بلکہ یہ اعتقاد انسان ی فطرت میں پیدائشی طور پر شامل ہے۔انسان کے ذہن میں وجودِ باری تعالیٰ کا جو پہلا تصوّر قائم ہوا وہ اُس کی یکتائی اور توحید پر مبنی تھا۔اوّلین دور میں باشعور انسان آج کل کی طرح کی متمدّن زندگی بسر نہیں کرتے تھے۔ وہ پہاڑوں اور جنگلوں کے باسی تھے اپنے ارد گرد ماحول میں موجودہر قسم کے جانوروں اور حشرات الارض سے اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتے تھے۔اُن کا شکار کرنا اور غذا میں استعمال اس بات میں رکاوٹ رہا کہ وہ ان میں سے کسی چیز کو خدا کا درجہ دیں۔چاند ،سورج،ستارے بلکہ آمان میں کوئی چیز بھی ان کے دلوں میں ہیبت پیدا نہ کرسکی کہ وہ ان کو خدا ماننے لگ جاتے۔لیکن ان کے اندر اس بات کا شعور موجود تھا کہ یہ سب کچھ کسی نے بنایا ہے۔جب زمین و آسمان کا بنانے والا کوئی بھی سامنے موجو دنہ پایا تو اپنی فطرت اور ہی ماحول کے تحت جس میں اس نے اپنے آپ کو گھرا ہوا پایا وہ ایک ہستی کے اعتقاد پر مجبور ہو گیا جو ان تمام چیزوں کو پیدا کرنے والی تھی جنہیں وہ اپنے اردگرد دیکھ رہاتھا۔آہستہ آہستہ انسان نے تسلیم کرنا شروع کردیا کہ وہ تمام صفات جو انسان میں موجود تھیں وہ انتہائی مکمل صورت میں اس ہستی یعنی اﷲمیں موجود ہیں۔
قرآن پاک کا ارشاد بھی یہی ہے:۔’’ابتدا میں تمام انسان ایک گروہ تھے لیکن بعد میں اختلاف میں پڑگئے‘‘    19/10
’’ابتدا میں تمام انسان ایک ہی گروہ تھے پھر اس کے بعد اختلاف کرنے لگے پس اﷲ نے ایک کے بعد ایک نبی مبعوث کیے‘‘    2/213
انسان جب تمدّنی دور میں داخل ہونے لگا تو وہ اپنے آپ کو کچھ چیزوں سے کمزور سمجھنے لگا،محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے لگا اور جب پناہ گاہوں سے باہر نکلتا تو بہت چیزو ں سے خوف کھانے لگا۔بجلی کی کڑک، پہاڑوں کی آتش فشانی،زمین کا زلزلہ،ژالہ باری،طوفان، سیلاب۔ان سب چیزوں نے انسان کے اندر ایک خوف پیدا کردیا ۔اپنے علاوہ ہر شے اسے دشمنی اور ہلاکت پر تلی نظر آتی۔زہریلے جانوروں اور درندوں سے خوف زدہ رہنے لگا۔۔سورج کی بے پناہ تپش اور بدلتے موسم اسے اپنی عافیت کے دشمن نظر آنے لگے اور یوں ایک خوف ودہشت کے خدا کا تصور قائم کرلیا۔
جوں جوں ماحول میں تبدیلی آتی گئی انسان کو رحمت کے عنصر بھی نظر آنے لگے۔رزق کا سامان مہیا کرنے والا ، دولت عطا کرنےء والا ، حسن و علم عطا کرنے والا ور اسی طرح کی جمالی صفات کا ایک اور خداکا تصور قائم کرلیا۔عیسیٰ علیہ السلام کی سراسر رحمت کی تعلیم سے لوگوں نے ان کے متعلق الوہیت کا عقیدہ اپنا لیا اور خدا کا بیٹا ماننے لگے لیکن قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ خدا کے تصور سے وہ تمام تمثیلی اور تشبیہی پردے اٹھادیتا ہے اور اس میں تجسم کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہتا’’اس کی مثل کوئی شے نہیں‘‘    19/14
’’انسان کی آنکھ اسے نہی پا سکتی لیکن وہ انسان کی نگاہ کو دیکھ رہا ہے‘‘    130/6
ﷲ کی ذات یکتا ہے ،بے نیاز ہے ہر چیز سے، نہ تو اس سے کوئی پیدا ہو ا نہ وہ کسی سے، نہ کوئی ہستی اس کے برابر ہے۔قرآن اﷲ کی ذات میں تمام صفات کا اثبات کرتاہے مگر ہر صفت کو کسی مشابہت کے اثر سے بھی بچا لیتاہے۔ وہ کہتاہے خدا زندہ ہے۔ قدرت والاہے۔پیدا کرنے والا،رحمت والا،سب کچھ سننے اور جاننے والاہے لیکن ساتھ ساتھ یہ واضح کردیتاہے کہ اس کا زندہ ہونا ہماری طرح کا نہیں اس کا دیکھنا سننا ہماری طرح کا نہیں اس کی قدرت کے لیے ہاتھ کی تشبیہہ اور ہر چیز کو محیط ہونے کی تمثیل اور عرش پر استوا جیسے استعارے ضرور ہیں لیکن اس کا وہ مطلب نہیں جو انسانی افعال کے متعلق ہمارے ذہن میں آنے لگتا ہے۔قرآن کا تصورِ توحید ایک محکم تصور ہے کہ خدا ایک اور بس ایک ہے اور اس کی مانند کوئی نہیں اور جب اسکی مانند کوئی نہیں تو ضروری ہے کہ جو صفات بھی اس کے لیے مختص بتائی جائیں ان میں بھی کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔پہلی بات کو توحید فی الذات سے اور دوسری کو توحید فی الصفات سے تعبیر کیا جاتاہے۔قرآن اسی بات پر زور دیتاہے کہ ہر طرح کی عبادت اور نیاز کی مستحق صرف خدا کی ذات ہے پس اگر تم نے عابدانہ عجز ونیاز کے ساتھ کسی دوسری ہستی کے آگے سر جھکایا تو توحیدِ الہٰی کا اعتقاد باقی نہ رہا۔قرآن میں شاید ہی کوئی سورۃ یا صفحہ ردِ شرک سے خالی ہو۔قرآں میں سارا زور توحیدِ ذات اور توحیدِ صفات پر دیا گیا ہے اس لیے کہ انسان کی عظمت برقرار رہے اور انسان اﷲ کے سوا کسی دوسرے کی غلامی سے آزاد رہے اور قرآن کے توحید کے اس خصوصی اعتقاد میں کسی دوسرے مذہب سے مفاہمت کو جائز نہیں رکھا۔قرآن میں الٰہ کے تصور کی بنیاد انسان کے عالمگیر وجدانی احساس پر رکھی ہے اور یہ انسان کا عالمگیر وجدان کیا ہے؟ یہ کہ کائنات ہستی خود بخود پیدا نہیں ہوگئی بلکہ پیدا کی گئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایک صانع ہستی موجو دہو۔قرآن بتاتاہے:
’’ جو لوگ اﷲ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تو اس پر خود راہ کھول دیں گے‘‘    29

عقلی دلیل

ناقابلِ افکار حقائق میں کائنات کے ہر فرد کا ایک دوسرے کے ساتھ حلقہ زنجیر کی طرح وابستہ ہونا اور نوعِ انسانی کا دوسرے حیوانا سے ربط اور دونوں مل کر جمادات سے تا بہ آخر اسی طرح زمین مربوط ہے مہر وقمر سے اور افلاک کے ساتھ اور افلاک کے ساتھ سورج چاند ستارے اور زمین ہر ایک پرکار کی طرح اپنے محور پر گردش کررہے ہیں۔ان میں جس تناسب کے ساتھ ایک کرہ کو دوسرے کرہ کے ساتھ ربط اور علاقہ ہے اسے بنانے میں وہ لامحالہ مجبورہے۔اگر ان اجرام فلکی میں سے کوئی ایک فرد اپنے عمل سے ذرّہ برابر کوتاہی کربیٹھے تو پورا نظام درہم برہم ہوجائے۔مثلاََ آفتاب معمول کے مطابق زمین کو اپنے نور تمازت میں کمی کردے تو تمام دنیا کا نظام ابتر ہو جائے گا۔ہم دیکھتے ہیں کہ عالم کا ذرّہ ذرّہ اپنے مقررہ عمل میں سر گرم ہے جس کی وجہ سے کائنا ت میں خلل واقع نہیں ہوتا۔اس سے بھی انکار نا ممکن ہے کہ شمس و قمر اور ان کے دوسرے رفقائے فلکی اور ارض و فلک حتّٰی کہ کائنا ت کے ہر ذرہ کا جس طرح ایک دوسرے جزو سے ربط ہے اسی طرح ان سب کا ربط ایک ایسی طاقت کے ساتھ ہے جو ان کے ایک دوسرے کے ساتھ ربط و تعلق رکھنے میں پاسبانی کررہی ہے بلکہ وہ طاقت ایک دوسرے کے تصادم پر بھی نگران ہے اور یہی طاقت ہے جس فیض و کرم کے طفیل اجرامِ کائنات وجو دمیں آئے۔ وہی ذات جس کی توجہ کے صدقے میں اجرام میں سے ہر ایک اپنی اپنی راہ پر گامزن ہے۔انسان کے لیے بھی وہی ذات معبود ہے جس کے حضور تمام کائنات حکماََ سربسجود ہے۔ وہی ایک ذات تنہا پرستش کے لائق ہے۔