نبوّتِ محمدی ؐ کی عقلی دلیل

آخری نبی محمد رسول ﷲ ؐ کی بعثت مبارک کے وقت جو آج سے قریباَایک ہزار پانچ سو برس پہلے تھا کی طرف پلٹ کر دیکھیں کہ یہ کیسی دنیا تھی۔انسانوں کے درمیاں تبادلہء خیالات کے وسائل بہت کم تھے۔قوموں اور ملکوں کے درمیان معلومات کا پہنچنا بہت مشکل تھا۔انسان کی معلومات بہت کم تھیں۔جہالت زیادہ اور علم کی روشنی کم تھی۔ذرائع رسل و رسائل محدود تھے۔مدرسے ،کالج،اخبار،رسالے اور کتابیں کمیاب تھے۔جو باتیں آج بچے کو ہو ش سنبھالتے معلوم ہوجاتی ہیں اس زمانے میں وہ سینکڑوں میل سفر کرکے حاصل ہوتیں۔آج کی جاہلانہ باتیں اس وقت کی مہذب باتیں تھی۔ اس تاریک دور میں عرب کا ملک سب سے الگ پڑا ہوا تھا۔چاروں طرف سمندر تہذیبوں کے ملاپ میں رکاوٹ تھا یا ریت کے سمندر تھے جو سفری رکاوٹ تھے۔عرب سوداگر اونٹوں کے ذریعے مہینوں کے سفر کے بعد صرف اموالی تجارت کا تبادلہ کرلیتے تھے۔علوم و فنون سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ملک میںگنتی کے چند لوگ تھے جو لکھناپڑھنا جانتے تھے۔کوئی حکومت یا قانون نہ تھا۔ہر قبیلہ خود مختار تھا۔ہر قبیلہ کے اپنے قانون تھے۔پاک و ناپاک ،شائستہ اور ناشائستہ کی تمیزنہ تھی۔زنا ،جوا ،شراب ،چوری ،رہزنی،قتل و خونریزی ان کی زندگی کے معمول تھے۔بالکل برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کرتے۔پاب کی وفات پر سوتیلی ماں سے شادی کرلیتے تھے۔مذہب کے معاملہ میں بت پرستی اور شرک میں مبتلا تھے۔
ایسے زمانہ میں ایک شخص اس ملک میں پیدا ہوتاہے۔بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اٹھ جاتاہے۔ایسی حالت میں اگر کچھ تربیت مل سکتی تھی وہ بھی نہ مل سکی۔ہوش سنبھالتے گلہ بانی کاکام کرتاہے۔جو ان ہو کر سوداگری میں لگ جاتاہے۔ تعلیم نام کی کوئی شے نہیں حاصل کرتا۔کسی عالم کی صحبت بھی میسر نہیں رہی تھی ۔چند مرتبہ شام کے علاقہ تک تجارتی سفر کیے۔وہاں اتنا وقت ہی کہاں ہوتا کہ کسی صاحبِ علم کی صحبت میں رہ کر کچھ سیکھ لیتے۔ایسی محدود اور منتشر ملاقاتوں سے کسی انسان کی سیرت اتنی کیسے بدل سکتی ہے کہ وہ ان پڑھ بدوئوں کا نہیں ایک ملک یا زمانے کا نہیں بلکہ تمام زمانوں کا راہ نما بن جائے۔یہ شخص جن لوگوں میں پیدا ہوا ان سے ابتدا ہی میں مختلف نظر آتاہے ۔اس کی ساری وقم گواہی دیتی ہے کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔فحش کلام نہیں کرتا۔کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔سوداگری کا پیشہ اختیار کرتاہے توسب لوگ اس کی ایمانداری پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لوگوں میں امین کے لقب سے مشہور ہوتاہے۔اتنا حیادار کہ ہوش سنبھالنے کے بعدکبھی کسی نے برہنہ نہیں دیکھا۔ شراب ،جوئے سے فطرتاََ نفرت کرتاہے۔بے کسوں کی مدد کو ہروقت تیار رہتاہے۔مسافروں کی میزبانی کرتا۔قبیلہ کی لڑائیوں سے دامن بچاتا اور صلح کی کوشش کرتا۔سب سے بڑھ کر یہ کہ بت پرستوں کے درمیاں وہ ایسا سلیم الفطرت اور صحیح العقل ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز اسے پرستش کے لائق نظر نہیں آتی ۔کسی مخلوق کے آگے سر نہیں جھکاتا۔اس کا دل خود بخود شرک اور مخلوق پرستی سے نفرت کرتاہے۔ چالیس سال کی شریفانہ اور نہایت پاکیزہ زندگی گزارنے کے بعد اس کی زندگی میں انقلاب آتاہے۔ وہ ارد گرد کے تمام برائیوںسے بچنے کے لیے دور پہاڑوں کی غار میں تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارتاہے ۔روزہ رکھ کر اپنے دل و دماغ اور روح کو اور زیادہ پاک کرتاہے۔غورفکر کرتا رہتا ہے۔ روشنی کی تلاش می ہے۔جس سے ظلمت و تاریکی کو دور کرسکے۔یکایک اس کی حالت میں عظیم انقلاب آتاہے۔وہ پیدائشی طور پر ہی ﷲ تعالیٰ کی نگرانی میں رہا۔وہ ﷲ کا پسندیدہ اور منتخب اولوالعزم تھا۔ اسے ایک خاص انقلابی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ اس کی پرورش اسی مقصد کے لیے فطرتاََ کی گئی۔اب وہ وقت آگیا تھا کہ ﷲ اس بندے کو حکم دے کہ وہ اپنی نبوّت کااظہار کردے لوگوں بتادے کہ وہ ﷲ کا رسول ہے اور ﷲ کا پیغام ہے کہ یہ بت معبود نہیں نہ کوئی انسان درخت اور نہ کوئی اور روح معبود ہوسکتی ہے۔مگر ایک ﷲ ہے جو سب کا ،جو کچھ زمین وآسماں کے اندر ہے معبو د ہے۔زمین وآسماں اور اس میں موجود ہر چیز اس کی مخلوق ہے وہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ بے نیاز ہے اسے کوئی احتیاج نہیں۔ سب انسان برابر ہیں اس کے سامنے بزرگ وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والاہے۔    جاہل قوم ایک دم اب رسول ﷲ ؐکی دشمن ہوجاتی ہے۔باپ دادا کی تقلید میں ان کا چلن رہتاہے۔وہ دینِ فطرت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں آپ ؐ کے دشمن ہوجاتے ہیں۔آپ ؐ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر طرح کی تکلیف پہنچاتے ہیں۔سماجی بائیکاٹ کردیاجاتاہے۔ان تک سامانِ خوراک بھی پہنچنا مشکل کردیاگیا۔مگر آپؐ یہ سب تکلیفیں برداشت کرتے ہیں آخر آپ ؐ کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبو رہونا پڑا اور ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔وہاں بھی آپ کو آرام اور چین سے نہیں رہنے دیا جاتا۔آپؐ سب تکلیفیں برداشت کرتے ہیں مگر اپنی بات سے نہیں ٹلتے۔قوم سے کوئی دشمنی نہ تھی کوئی جائداد کا جھگڑا نہ تھا آپ کی قوم آپ کو بادشاہی دینے پر آمادہ تھی۔دولت کے ڈھیر آپ کے قدموں میں ڈالنے کو تیا ر تھی۔بشرطیکہ آپ اس تبلیغ سے باز رہیں مگر آپ ؐ نے سب کچھ ٹھکرادیا۔ظلم سہنا قبول کیا،یہ سب آخر کیوں؟ آپ ؐ کو کوئی بھی ذاتی فائدہ نہ تھا۔کوئی جھوٹا شخص اتنے ظلم اور تکلیف کیوں برداشت کرسکتا تھا۔کوئی اپنی طرف سے بات گھڑ کر اتنی زیادہ مصیبت مول لینے کو تیا ر ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔مگر آپ ؐ کی استقامت اور عزم اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ آپ کو یقین کامل تھا اگر آپؐ کے دل میں ذرہ برابر شک و شبہ ہوتا تو مسلسل 21سال مصائب کے پے در پے طوفان کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکتے ۔ چالیس سال کی عمر تک آپ میں کوئی خرابی قوم نے نہ دیکھی ۔کوئی ایسی انوکھی بات نہ دیکھی کہ معلوم ہوتا آپ کو کچھ بننے کا شوق ہے۔چالیس سال بعد آپ ؐ غار سے نکلے تو ایک نیا پیغام لے کر آئے ۔کایا پلٹ چکی تھی۔ قوم کی مخالفت سامنے تھی۔اب آپ ایک ایسا کلام پیش کررہے تھے کہ سارا عرب مبہوت ہوگیا۔ رسول ﷲ ؐ سے بہت سارے معجزات بھی صادر ہوئے۔بہت لوگ ان معجزات کو دیکھ کر ایمان بھی لائے۔مگر آپ ؐ نے اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے ایک نرالا دعویٰ بھی پیش کردیا۔دنیا کے کسی ملک میں کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا ہو جو دنیا بھر سے نرالا اور فائق تر ہو۔جیسے خاتم النبینؐ کے اعلام سے نمایاں ہے اور ثبوت میں ایک تصنیف کو پیش کردیا ہو(قرآن حکیم) اور اس کو پانے صدق و کذب کا معیارٹھہرایا ہو اور اس دعویٰ کاانکار کرنے والوں کو ضلالت و خلودِ نار وغیرہ کی ذلّتوں کے مواعید سے جوش بھی دلایاہو مگر سب قادرالکلام اور سحر البیان اسی ملک اسی زبان کے مالک ساکت اور خاموش رہ گئے۔حیرت انگیز کلام سن کر سارا عرب مبہوت ہو گیا۔ اس کلام کی شدتِ تاثیر کا یہ حال تھا کہ اس کے سخت دشمن بھی اس کو سنتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ دل پر اثر نہ کرجائے۔اس کی فصاحت و بلاغت اور زور بیان کا یہ عالم تھا کہ تمام قوم عرب کو جس میں بڑے بڑے شاعر، خطیب اور زبان آوری کے مدعی تھے اس نے چیلنج دیا اور باربار چیلنج دیا کہ تم سب مل کر ایک ہی سورت اس کے ماند بنا لائو مگر کوئی اس کے مقابلہ کی جرت نہ کرسکا۔ایسا بے مثال کلام عرب والوں نے کبھی سنا ہی نہ تھا۔یہ معجزہ دائمی ہے۔تاقیامت محفوظ رہے گا۔اس کو پڑھ اور سن کراور سمجھ کر اگر کوئی محمد رسول ﷲ  کی رسالت کا انکار کرے یا تو بالکل عقل سے عاری ،غورو فکر سے گریزاںیا پھر انتہائی تعصب میں غرق مجنون ہی ہوگا۔خاتم النبین محمد رسول ﷲ ؐ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اس کے بغیر ایمان نامکمل رہے گا اور آخرت میں بے سود و نامقبول ہو گا۔