دینِ اسلام کی اعتقاد و عمل کی اصل کیاہے؟

دین اسلام کے اعتقادی اور عملی تقاضوں کا بیان بہت مختصر مگر جامع طو پر قرآن مجید میں یوں ہے:
سورۃ بقرہ،آیت نمبر77    ’’نیکی کچھ یہ نہیں کہ اپنا منہ (عبادت کے وقت)مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کرو لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے کہ جو ایمان لائے ﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت پر رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں(لوگوں کو آزاد کرانے کے لیے)اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکوٰۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو(وعدہ کو)جب عہد کریں اور صبر کرنے والے مصیبت میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں پرہیز گار‘‘
قرآن مجید کے احکام اور رسول ﷲ ؐ کے فرمودات کی روشنی میں اسلام کی بنیاد پانچ ارکان کو قرار دیا گیا ہے۔ یعنی:
  1۔کلمہء توحید    2۔نماز    3۔روزہ        4۔زکوٰۃ         5۔حج