پہلا رکن : کلمہء شہادت

لا ﷲالا ﷲ محمد رسول اﷲاس کلمہ میں پہلا جملہ توحید پر مشتمل ہے اور دوسرا جملہ رسول ﷲ  کی رسالت پر ۔ توحید کا تقاضا ہے کہ ان امور کا اعتقاد کیا جائے کہ ﷲ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا،یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں ،وہ بے نیاز ہے ،کوئی اس جیسا نہیں،وہ قدیم ہے وہ ازل سے ہے ،کوئی اس کی ابتدا نہیں ہمیشہ رہنے والا ہے اس کی کوئی انتہا نہیں ۔وہی اوّل ہے وہی آخر ہے وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے۔
یہ کہ ﷲ تعالیٰ نہ صورت  نہ جسم رکھتاہے نہ وہ محدود ذی مقدار ہے۔نہ وہ عرض ہے نہ اس میں کوئی حلول کیے ہوئے ہے۔لیس کمثلہ شیئٌ    اس کی مثل کوئی شے نہیں ۔وہ عرش پر ہے جیسے  اس نے کہا یا جیسے ارادہ کیا ۔وہ عرش سے ،آسمان سے ،زمین سے ہر چیز سے اوپر ہے ۔ وہ بندہ کی شاہ رگ سے بھی قریب ہے مگر قربت اجسام ک قربت کے مشابہ نہیں وہ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے ۔کوئی آنکھ اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔وہ زندہ ہے،قادر ہے، جبار و قہار ہے۔نہ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔وہ ملک و ملکوت والا ہے۔ وہ صاحب عزت و جبروت ہے۔تمام مخلوقات اس کی مٹھی میں ہے۔اس نے مخلوق کو پیدا کیا کوئی چیز اس کے دست ِ قدرت سے باہر نہیں۔تہہِ زمین سے لے کر آسمان کی تمام بلندیوں تک جو کچھ ہے اس کا علم سب کو محیط ہے۔کوئی ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں۔ہر پوشیدہ اور ظاہر بات اس کے علم میں ہے۔اس کا علم ازلی و ابدی ہے وہ صاحب ارادہ ہے تمام کائنات اس نے اپنے ارادے سے تخلیق کی ہے کوئی کام اس کے منشاء کے بغیر ممکن نہیں لیکن اس کی رضا اعمال صالح میں ہے ۔ وہ سمیع و بصیر ہے ۔ دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے اور باریک سے باریک چیز اس کی نظر سے خفیہ نہیں۔ اس کا دیکھنا سننا ہماری طرح کا نہیں وہ کلام کرنے والا ہے مگر اس کا کلام ہماری طرح کا نہیں۔
کلمہ کا دوسرا جملہ رسالت کے متعلق ہے ۔خدا کی وحدانیت کے ساتھ ساتھ یہ اقرار بھی ضرور ی ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے نبی اُمّی قرشی محمد ؐ کو عرب و عجم ، جن و انس تمام دنیا کے تمام انسانوں کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔نیا و آخرت کے متعلق جن امور کی خبر آپ نے دی اس کی تصدیق واجب ہے۔کسی بندہ کا ایمان قابل قبول نہیں جب تک وہ آپ کی رسالت پر ایمان نہ لے آئے وار موت کے بعد کے حالات کی جو خبر آپ نے دی اس پر ایمان لائے۔یعنی تمام ملائکہ پر ایمان لائے۔جبرائیل ؑ وحی لانے والے تھے،عزرائیل ؑ روح قبض کرنے پر مامور ہیں،اس طرح تمام فرشتوں کے کام مقرر ہیں  وہ ہر وقت خدا کی حکم برداری میں رہتے ہیں۔منکر و نکیر برحق ہیں۔یہ قبر میں امتحان لینے والے ہیں۔اﷲ کی نازل کی ہوئی تمام کتابیں زبور،تورات ،انجیل وار قرآن ﷲ کی طرف سے پیغمبروں پر نازل ہوئیں۔سب سے آخری کتاب قرآن مجید ہے جو ﷲ کے آخری پیغمبر محمدؐ پر نازل ہوئی اس کے بعد نہ کوئی نبی آنے والا ہے نہ کوئی اور کتاب نازل ہونے والی ہے۔اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو وہ کذّاب اور جھوٹا ہے۔ اور یہ کہ رسول ﷲ ؐ کا فرمان حق ہے کہ دنیا فنا ہوگی۔قیامت بپا ہوگی ۔قیامت کے دن تمام لوگ زندہ ہوکر دوبارہ جی اٹھیں گے ہر ایک کا حساب کتاب ہوگا۔میزان حق ہے جس کے اعمال صالح کا وزن بھاری ہوگا وہ جنّت میں جائے گا اور جس کے اعمال صالح کم ہوں گے وہ سزا پائے گا ۔منکر و کافر دوزخ میں جائیں گے۔جنت و دوزخ حق ہیں ان کی تمام صفات جو بیان کی گئیں ہیں قرآن و حدیث میں وہ برحق ہیں ۔چاہے وہ ہماری عقل میں آئیں یا نہ آئیں۔پل صراط پر گزرنا بر حق ہے۔اﷲ تعالیٰ کسی کلمہ گو کو جو اس پر دل سے ایمان لایا ہوگا اپنے فضل و کرم سے دوزخ میں باقی نہ رکھے گا۔ شفاعت پر ایمان کہ سب سے پہلے انبیاء ؑ سفارش کریں گے پھر شہداء اور صالحین اور اولیاء کی سفارش درجہ بدرجہ قبول ہوگی اور منجملہ تمام انبیاء و مرسلین کا ماننا ضروری ہے۔