نماز
نماز پانچ وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے۔
’’یقینا نماز مسلمانوں پر فرض ہے اور وقت کے ساتھ‘‘    4/103
نماز صرف رکوع و سجود اور تلاوت و تکبیر کا نام نہیں بلکہ اس کیفیت کو کہتے ہیں جس سے دل میں ایمان پیدا ہو۔(/177) صادق مومن وہ ہے جو حضور قلب کے ساتھ نماز اد اکرے اور اس ذات تعالیٰ سے ہدایت کے لیے استمداد کرے۔نماز دین کا ستون اور عبادات کی اصل ہے۔آنحضرت ؐ سے عرض کیا گیا سب سے اچھا عمل کون سا ہے آپ نے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا(بخاری ومسلم)اور فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور فرمایا جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا اور جماعت کے ساتھ نماز متنہا شخص کی نماز سے ستائیس درجہ افضل ہے(بخاری و مسلم) آنحضرتؐنے ایک دن کچھ لوگوں کے گھروں کو آگ لگادی جو نماز میں نہیں آتے(بخاری و مسلم)معلوم ہوا کہ بلا عذر یا مجبوری کے سبب نماز کا گھر پر پڑھنا حضورؐ کی ناراضگی کا موجب ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتاہے وہی آباد کرتاہے ﷲ کی مسجدوں کو جو ﷲ اور کو آخر پر یقین لایا۔/17ملائکہ تم میں سے ہر ایک پر اس وقت تک رحمت بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ رہ جہاں نماز پڑھتاہے۔(بخاری و مسلم) جتنی بھی عبادتیں مشروع ہیں ان میں صرف نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جو غفلت کے منافی ہے۔باقی عبادتوں میں غفلت ہو سکتی ہے اور وہ اصل مقصود کے لیے نقصان دہ نہیں ہے زکوٰۃ عبادت ہے اگرانسان اس میں غفلت کرے بھی تو کیا ہے جس وقت بھی زکوٰۃ ادا کرے ہو جائیگی۔روزہ کا مقص تقویٰ ہے اور تقویٰ روزہ کے بغیر بھی حاصل کرنا ممکن ہے ۔ حج میں تمام ارکان ادا کرنے ہی پڑتے ہیں چا ہے غفلت سے کرے لیکن نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں ذکر ،تلاوتِ قرآن،قیام سجود و قعود کے علاوہ کچھ نہیں اور نماز میں کیا جانے والا ذکر ﷲ سے مناجات اور اس سے کلام ہے اور ذکر  ومناجات سے اصل مقصود گفتگو اور خطاب ہی ہے اگر غفلت کی حالت میں زبان سے حروف نکلتے رہیں ار آوازیں خارج ہوتی رہیں تو کوئی فائدہ نہیں کہ ایسی صورت تو ہذیان کی حالت میں بھی ہو سکتی ہے ۔یہ خطاب اور مناجات اس صورت میں صحیح ہو گا جب آدمی اپنے دل کی بات ظاہر کرے اور دل کی بات کا اظہار حضور دل کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔رکوع و سجود ﷲ کی تعظیم کے لیے ہیں اگر کوئی آدمی صرف مشق کے طور پر رکوع و سجود کرتارہے اور دل میں ﷲ کی تعظیم کا مقصد نہ ہو تو ﷲ کی تعظیم تو نہ ہوگی مگر صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ریا ہوگی۔نماز اطمینان اور تعدیل ارکان اور رعایتِ مشروط کا محافظت آداب کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔نماز وقت معین میں سفر و حضر اطمینان خوف ہر حالت میں اسی وقت میں ادا کرنا ضروری ہے یہ نہیں کہ جب چاہو پڑھ لو۔اور ﷲ فرماتاہے:
 ’’پھٹکار ہو ان نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غفلت بتتے ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں‘‘    (ماعون)
 ذرا ان الفاظ پر غور کریں۔ ان نمازیوں پر’’پھٹکار‘‘ جو اپنی نماز سے غافل ہیں نمازی ہونے کے باوجود غافل ہونے کے یہی معنی ہیں کہ نماز کے لیے جو ظاہری آداب مثلاََوقت کا لحاظ اور ادائے ارکان میں اعتدال وغیرہ اور باطنی آداب مثلاََ خشوع و خضوع، تضرّع و زاری اور فہم و تدبر وغیرہ ضروری ہیں ان سے نمازمیں غفلت برتی جائے اور دکھاوے کی نماز یہ ہے کہ عام لوگوں کو دکھانے کے لیے پڑھی جائے تاکہ عام لوگ اسے نمازی سمجھیں۔سورۃ توبہ کی آیت نمبر 5میں یہ بات قطعی واضح ہوتی ہے کہ جس بات کے بعد ایک جماعت مسلمانوں کی جماعت تسلیم کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ زبان سے اسلام کا اقرار کریں اور عمل میں دو باتیں ضروری ہیں یعنی بماز کی جماعت کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی۔اگر یہ دو عملی باتیں مفقود ہوں تو ان کا شمار مسلمانوں میں نہ ہوگا۔