روزہ

’’ تمہارے اوپر روزہ فرض کیا گیا جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تاکہ تم پرہیز گار بنو‘‘    2/183
        ’’رمضان شریف مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا سو تم میں سے جو اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے‘‘    2/185
    روح کو جسم پر غالب اور انسانیت کو بہمیت پر غالب کرنے کے لیے روزہ فرض کیا گیا۔روزہ مدارج میں ترقی اور تقویٰ میں قوّت پیدا کرتاہے۔طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک حوائجِ نفسانی سے دست کش رہنا اور آغاز شب بے تحاشا لذتوں میں انہماک روزہ کا مقصد نہیں ۔ایسے روزہ دار کی مثال اس چور سی ہے جو سرقہ کرنے سے اس لیے خود کو دور نہیں رکھتا کہ یہ فعل انسانیت کے منافی ہے بلکہ قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے چوری نہیں کرتا۔روزہ کے لیے ضروری ہے کہ مکروہ چیزوں کی طرف التفات نہ کرے۔ زبان کو یاوہ گوئی ،جھوٹ ،غیبت، چغلخوری اور فحش گوئی سے محفوظ رکھے ۔بہتر ہے زبان کو زیادہ وقت تلاو ت قرآن میں مشغول رکھے۔بری باتیں سنن سے بھی بچے۔اکل حلال سے سحر و افطار کرے۔افطار کے وقت اتنا نہ کھائے کہ پیٹ پھول جائے۔ دن بھر روزہ کے بعد اتنا کھانا کہ عام دنوں میں دو وقت بھی اتنا نہ کھایا جاتا ہو روزہ کے منافی ہے۔روزہ رکھ کر برے اور گناہ کے کاموں میں ملوث ہونے۳سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حصہ میں نہیں آتا۔یہ سال حج کے موقع پر ابراہیم ؑ کے اسوہ پر عمل کرکے ان کی یاد تازہ کی جاتی ہے لیکن جب محمدؐتشریف لائے تو دنیا کے لیے اسوہ محمدیؐکی حقیقت اعلیٰ رونما ہوئی اس اسوہ کا پہلا منظر عالم ملکوتی کا استغراق تھا جب آپ نے انسانوں کی صحبت ترک کرکے خدا کی صحبت اختیار کی ۔گھر چھوڑ کر غارِ حرا کے قدرتی حجرے میں عزلت گزیں ہوگئے۔آپ بھوکے پیاسے رہتے تھے۔پس تمام مومنوں کو حکم ہوا کہ تم بھی ان ایام میں بھوک پیاس سے رہو(روزہ رکھو)تاکہ ان برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پائو جو نزول قرآن کے ایام کے لیے مخصوص ہیں۔آپ نے گھر بار چھوڑا اور ایک تنہا گوشے میں خلوت نشیں ہوئے ۔پس حکم ہو اکہ اس ماہ مقدس میں ہزاروں لوگ اعتکاف کے لیے ایک گوشہء مسجد میں نشیں ہوں تاکہ اعتکافِ غارِ حرا کی یاد ہمیشہ باقی رہے۔آپ ؐ راتوں کو بارگاہِ الہٰی میں مشغولِ عبادت رہتے تھے۔پس امت کو حکم ہوا کہ وہ بھی رمضان المبارک کی راتوں میں قیامِ لیل کریں(تراویح پڑھیں)اﷲ سبحانہ‘ و تعالیٰ کی رضا اس میں ہے کہ اپنے پیارے حبیب ؐ کی ہر ادا کی یاد باقی رکھی جائے۔ ان لوگوں کے لیے مقامِ غور وفکر ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن کے علاوہ آپؐ کی زندگی ہمارے جیسے انسانوں کی طرح کی ہے اور آپ ؐ ہمارے جیسے انسان تھے۔اﷲ تعالیٰ کی پناہ ایسے لوگوں سے جن کے دلوں پر قفل پڑے ہیں۔اللّٰھم صَلِّ وسلِّم و بارِک علیٰ سیدنا محمدِِ وَّ علیٰ آلِہٖ و اصحابِہٖ اجمعین۔