حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ تیراہی رحمتہ اللہ علیہ

جیسا کہ پہلے بیا ن کیا جا چکا ہے حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ تیراہی  رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت حافظ شاہ جمال اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے رام پوری  سے بیعت کی تھی۔بیعت کے بعد حضرت حافظ جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو حضرت شاہ عیسیٰ ولی  رحمتہ اللہ علیہ  کے سپرد فرما دیا تھا جنہوں نے آپ کی تربیت کی اور تکمیل کرائی۔حضرت خوا جہ محمد فیضﷲ شا ہ  رحمتہ اللہ علیہ  بمقا م تیزئی علا قہ تیرا ہا ہ  کے مقا م پر پیدا ہو ئے ۔ آ پ نہا ےت ہی  با کما ل بزرگ تھے ۔ کشف و کرا ما ت میں آ پ کا مقا م بہت ہی بلند تھا ۔حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ  تیراہی  رحمتہ اللہ علیہ  کے والد گرامی کا اسم مبارک محمد تھا  جو کہ علاقہ شادی خیل ضلع کو ہاٹ میں تدرےسی کام سر انجام دیتے تھے ۔ اس علاقہ میں حضرت قاضی خان محمد کے نام سے مشہور تھے درس و تدریس میں آپ بہت ماہر تھے علوم دینی کے علاوہ علوم با طنی میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔ آپ نے حضرت محمد فیض اللہ شاہ  رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیم خود ہی مکمل کرائی تھی ۔انوار الاصفیاء میں خلیفہ محمد سعید کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے ۔ کہ حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ صاحب  تیرا ہا ہی رحمتہ اللہ علیہ اکیس سا ل کی عمر میں علوم ظاہری و باطنی سے فارغ ہو گئے تھے ۔ آپ نہایت ہی باکمال متشرع اورصاحب کشف و کراما ت تھے۔
علوم ظاہری سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ کو  شیخ کی تلاش ہوئی۔ چونکہ آپ خود ایک بلند پایہ عالم نہایت متقی پرہیز گار اور پا بند شریعت تھے ۔ چھوٹی سی چھوٹی سنت کا ترک بھی روا  نہ رکھتے تھے ۔اس لئے اکثر مقاما ت میں اپنے مقصود کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ تاہم مایوس ہرگز نہ ہوئے اور گوہر مقصود کی تلاش جاری رہی۔ اوائل  عمر  میںایک دفعہ ایک بزرگ کی شہرت سن کر اس مقام پر حاضر ہوئے اور دیکھا کہ وہ بزرگ نماز میں مشغول ہیں مگر دوران نماز ادائیگی ارکان میں سنت رسولؐ سے غفلت برتی جا رہی ہے نماز میں دونو ں پائوں کا فاصلہ سنت کے مطابق نہیں ہے ۔ یہ دیکھ کر آپ فوراً وا پس لوٹ آئے ۔ کہ جس کو خودہی شریعت میں اہتمام نہیںہے اور نماز میں عدل ارکا ن سے غفلت برتی جا رہی ہے وہ میری تربیت کیسے کرے گا  اور میں اس سے کیونکر فیض حاصل کرسکوں گا۔ابتدا میں آپ  نے  پیشہ  سپہ گری  اختیار کیا قلیل عرصہ میں فنون جنگ میں مکمل دسترس حاصل کرلی۔  اور احمد شاہ ابدالی کی فوج میں شامل ہو گئے ۔آپ اپنے مشاہےر میں سے کچھ ضرور پس انداز فرما لیاکرتے تھے اور یہ رقم فقراء و صلحاء ومساکین پر خرچ فرمایا کرتے تھے۔ اسی دوران حضرت حافظ سید شاہ جمال اللہ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کا وا قعہ پیش آیا  اور آپ نے ان سے بیعت حا صل کر لی ۔حضرت شاہ عیسیٰ ولی رحمتہ اللہ علیہ  نے آپ کی تربیت فرما کر کمال تک پہنچا دیا ۔ایام ملا زمت  کے دوران شاہی خاندان سے مراسم کی وجہ سے بعد میں کئی ایک شہزادے آپ کے مرید ہو گئے چنانچہ آج بھی ابدالی خاندان کے افراد کا تعلق دربار عالیہ چو ُر ہ شریف سے قائم ہے۔حضرت شاہ عیسیٰ ولی  رحمتہ اللہ علیہ  جب عازم ملتان ہوئے آپ نے حضرت فیض اللہ شاہ صاحب کو حضرت شاہ جمال اللہ قدس سرہ کی خدمت پر مامور کیا ۔ چنانچہ آپ نے مسلسل چار سال تک نہایت خوش اسلوبی سے اپنے شیخ کی خدمت سر انجام دی۔ آپ اپنے پیر کے کپڑے خود دھوتے۔ وضو کے لئے پانی  لا کر دیتے۔ اٹھارہ سال کے بعد حضر ت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ صاحب کو حضرت شاہ جمال اللہ ؒ نے وطن جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس طویل عر صہ کے بعد جب آپ وطن جاتے ہوئے موضع ڈوڈہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہاں تپ( بخار) کی بیماری عام ہے۔ وہاں پر لوگوں نے آپ سے دعا کی درخواست کی ۔ چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کو اس  مر ض سے نجات دلانے کیلئے دعا کی دم وغیرہ فرمایا ۔ تو یہ وباء جلد ہی ختم ہو گئی۔ وہاں کے لوگ پہلے ہی آپ کے بزرگوںکے بہت معتقد تھے بہت خوش ہوئے آپ نے مسلسل تین ماہ تک موضع ڈوڈہ میں قیام کیا ۔ اور خلق خدا نے آپ سے ظاہری و باطنی فیوض و برکات حاصل کئے۔اسی دوران مفتی کوہاٹ قاضی عبدالحمید صاحب سے جو کہ حضرت شاہ محمد فیض اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد رشید تھے ملاقات ہوئی ۔ قاضی صاحب نے اپنی دختر نیک اختر کو اپنے نکاح میں قبول فرمانے کی استدعا کی ۔آپ نے استخارہ کر کے جواب دینے کا وعدہ فرمایا ۔چنانچہ استخارہ میں آپ کو یہ عقد کر لینے کا حکم ہو ا ۔اوراشارہ ہوا کہ اس بی بی صاحبہ کے بطن سے آپ کو ایک فرزند ہو گا۔ وارث علوم امام ربانی ہو گا۔ اور ایک عالم ان کے فیض سے فیض یا ب ہو گا ۔ یہ مائی صاحبہ علوم دینیہ میں کامل دسترس رکھتی تھیں ۔فقہ کی بہت بڑی ماہر تھیں ۔چنانچہ آپ نے یہ عقد کر لیا اور پھراپنے وطن تیراہ تشریف لے گئے۔
اٹھا رہ سال کے بعد جب آپ اپنے وطن تیزئی  پہنچے۔ تو آپ کی پہلی بیوی صاحبہ نے جن کے بطن سے ایک صاحبزادی  صاحبہ تھیں۔ اور انکی عمر اس وقت انیس سال ہوچکی تھی۔ طویل مفا رقت کی وجہ سے وہ آپ کو نہ پہچان سکی تھیں۔کیونکہ حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ جب گھر سے تشریف لے گئے تھے ۔تو ملازمت کے سلسلہ میں گئے ۔ مگر اب تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔ چنانچہ  اس وقت کے لباس وضع قطع ،چال ڈھال اور اب کے حالات میں زمین آسمان فرق ہو چکا تھا ۔اس پر آپ نے کسی دوسرے مکان میں مع دوسری بیوی صاحبہ ڈیرہ ڈال دیا۔ اور مسلسل تین ماہ تک دوسری بیوی کے ہمراہ اسی گائوں دوسری جگہ پر رہے۔ایک دن اتفاقاً مولوی شیر محمد جو کہ کافی عرصہ تک آپ کے والد گرامی کے شاگرد رہے تھے ۔ایک جنازہ میں ملاقات ہوگئی ۔ حضرت خواجہ صاحب  رحمتہ اللہ علیہ کو فورا ًپہچان گئے ۔مولوی شیر محمد کے استفسار پر آپ نے اپنی ملازمت ،بیعت  و خلافت ،واپسی او ر پھر اندرون خانہ  و دیگر لوگوں کی عدم شناخت کے دلچسپ واقعات سنائے۔مولوی شیر محمد نے گائوں کے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اور حضرت کی تصدیق کی ۔اور اس طرح انہیں اپنے گھر میں داخل  ہونے کی اجا زت دی گئی ۔آپ حضرت خواجہ شاہ عیسیٰ و لی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت کیلئے ہر سال گنڈا پور تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ایک دفعہ رستے میں سخت بیمار ہو گئے ۔ایک حجرے میں قیام پزیر تھے ۔کہ حضرت شاہ عیسیٰ ولی  رحمتہ اللہ علیہ کہیں سے تشریف لائے ۔اور لوگوںسے کسی بیمار مسافرکے بارے میںدریافت  فر ماےا۔ لوگوں کے بتانے پر آپ اس مسجد کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ جہاں آپ صاحب فراش تھے ۔جونہی حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ  رحمتہ اللہ علیہ  کی نظر اپنے شیخ پر پڑی۔ آپ پر حالت وجد و جذب طاری ہوگئی۔ حضر ت نے آپ کو  اٹھا کر اپنے سینہ مبارک سے لگا کر تسلی دی ۔بس ایک ہی معانقہ کے بعد آپ کی طبیعت سنبھلنے لگی۔ صبح تک مکمل صحت یاب ہو گئے ۔ ہر دو بزرگان نے وہاں دو روز قیام کیا اور پھر وہاں سے روانہ ہو گئے۔
اس کے بعد کا واقعہ ہے ایک دفعہ پھر آپ حضرت حافظ سید جما ل ا للہ قدس سرہ‘ کی زیارت کیلئے رام پور تشریف لے گئے۔ اور مسلسل سات سال تک حضرت کی شب و روز خدمت  کی ۔اور پھر اپنے شیخ کے حکم کے مطابق  اپنے وطن مالوف تشریف لے آئے ۔ اس دوران حضرت خواجہ شاہ عیسیٰ ولی رحمتہ اللہ علیہ دو مرتبہ تےز ئی تشریف لائے۔قیام تےز ئی شریف کے دوران ایک اونچے چبوترے پر آپ تشریف رکھتے تھے۔ وہاں ایک درخت بہت ہی بلند قامت اور موٹا مگر خشک تھا۔ آپ اس سے ٹیک لگا کر کتاب لکھا کرتے تھے۔ جس وقت آپ پانی پیتے تو جو پانی بچ جا تاتھا ۔وہ اس درخت کی جڑوں میں  ڈال دیا کرتے تھے۔ ایک ماہ کے مختصر عرصہ کے بعد وہ خشک درخت دوبارہ ہرا ہو گیا ۔ اسی طرح ایک اور وا قعہ  بیا ن کیا جاتا ہے ۔کہ ایک دفعہ پا نی کی سخت قلت تھی ۔تولوگوں نے عرض کیا کہ حضوردعا فرمایئے ۔کہ جہاں پر ہم زمین کھودیں تو پانی نکل آئے۔ چنانچہ آپ لوگوںکو ساتھ لیکرایک درخت کے نیچے آ گئے۔ اور وہاں پر زمین کھودنے کا حکم دیا لوگوں نے فورا ً حکم کی تعمےل کی۔ ابھی تھوڑی سی ہی کھدائی کی تھی۔ کہ نہایت صاف شفاف اور میٹھا پانی نکل آیا۔ لوگ حضور کی کرامت کے معتقدہو گئے۔وہ پانی ایک چھوٹی سی نہر کی صورت میں اب تک جاری و  سا ری ہے۔آپ نہایت مستجاب الدعوات تھے۔ جو کو ئی حاجت لے کر آتاحضر ت کی دعا سے اس کی حاجت  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پوری ہو جاتی۔ آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی بھی زیارت نصیب ہوئی۔ جب کہ آپ حضرت خواجہ محمد فیض اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ، حضرت حافظ سید رحمتہ اللہ علیہ صاحب آپ کے ہمراہ تھے۔آپ کے ہاں اولاد نر ےنہ نہ تھی۔ آپ دونوں بیویوں کے ہمراہ تیزئی  شریف میں مستقل طور پر قیام پزیر تھے۔ آپ کی پہلی بیوی صاحبہ نے جو کہ آپ کے والد گرامی کے زمانہ میںعقد میں تھیں ۔درگاہ باری تعالیٰ میں یہ منت مانی۔ کہ اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ محمدفیض اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو فرزند عطا کرے ۔تو میں سو رکعت نماز نفل تا زیست ادا کرتی رہونگی۔ اسی طرح دوسری بیوی صاحبہ نے رب کے حضور وعدہ کیا۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے فرزند عطا کیا تومیں اسے بڑی بیوی صاحبہ کو بخش دوں گی۔ اور میں خود اس سے کوئی واسطہ غرض نہ رکھوں گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی سال چھوٹی بیوی صاحبہ کو فرزند ارجمند عطا فرمایا۔ بڑی بیوی صاحبہ نے اس فرزند بلند مرتبت کو اٹھا کر اپنی گود میں لے لیا۔ اور دودھ پلانا شروع کر دیا ۔قدرت خدا وندی سے بڑی بیوی صاحبہ کو ایسے دودھ اترنا شروع ہو ا  گویا یہ فرزند انہی کے بطن پاک سے تولد ہوا ہے۔حضرت خواجہ محمد فیض ا للہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ صاحب نے اپنے اس بیٹے کا نا م  شا ہ نور محمد  رکھا ۔اور اپنے اس استخارہ کا ذکر فرمایا ۔کہ جس میں آپ کو عقد ثانی سے فرزند کے پیدا ہونے کی بشارت دی گی ۔نیز یہ بھی بتایا گیا کہ یہ فرزند، جانشینِ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی  رحمتہ اللہ علیہ ہو گا۔ اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کو اس کی ذات سے ایسا فروغ ہو گا۔ کہ اس کے ہم عصر وں میں سے  شا یدہی کسی کو ہو ۔حضرت خواجہ محمد فیض اﷲ شاہ ؒ کے چار فرزند ان کے اسماءِ مبارک خواجہ شاہ گل محمد ،خواجہ شاہ جان محمد ،خواجہ شاہ صالح محمد اور خواجہ شاہ محمد نور ہیں ۔ جن میں سے خواجہ شاہ نور محمد چورہ شریف آکر آباد ہو گئے۔خلفاء میں آپ کے صاحبزادگان کے علاوہ سید شہزاد ،شیر محمد زادہ محمد شاہ اورمولوی محمد امین کے نام مشہور ہیں ۔آپ نے ۰۲ ربیع الاول ۵۳۲۱ء کووفات پائی آپکا مزار مبارک موضع تیزئی علاقہ تیراہ میں واقعہ ہے۔