زکوٰۃ

    ’’بے شک قارون موسیٰ کی قوم سے تھاپھر وہ ظلم و زیادتی کرنے لگا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی اس کی قوم نے اس سے کہا تو مت اترا(فخر نہ کر) بے شک ﷲ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور ﷲ کے دیے میں سے آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کر اور لوگوں پر احسان کر جیسا کہ تجھ پر اﷲنے احسان کیاہے اور زمین پر فساد نہ پھیلا ﷲ فساد پھیلانے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘     28/76,77
        ایک شخص کے پاس بہت دولت ہے اس کی ضرورت سے بہت زیادہ روپیہ بچ رہتاہے دوسرے انسان محتاج ہیں ان کی حالت کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر دولت مند اپنے خزانے مقفل رکھتاہے اور خدا کے بندوں کے لیے خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے کچھ نہیں نکالتا اور ضرورت مندوں پر خرچ نہیں کرتا تو یہ فساد ہے۔اس کے برعکس اولیاء و صلحاء کا دل حرص و طمع سے پاک ہوتاہے رشک و حسد سے نفرت کرتے ہیں وہ جزائے اخروی کے آگے دنیوی دولت کو ہیچ سمجھتے ہیں لیکن ہر آدمی ان نیک سیرت لوگوں جیسا نہیں ہوتا تو ﷲ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو اسلام کا بنیادی رکن قرار دیا ہے اور بہت جگہ پر قرآن پاک میں اس کا ذکر نماز کے ساتھ کیا ہے۔(اور قائم کرو نماز تم لوگ اور دو زکوٰۃ    2/43) اور آنحضرت ؐ ارشاد فرماتے ہیں۔
    ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزو ں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ ﷲ کے سوا کوئی معبو د نہیں ور یہ کہ محمدؐ ﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ،نماز قائم کرنااور زکوٰۃ دینا‘‘الخ(بخاری و مسلم)    اور ﷲ تعالیٰ فرماتاہے:
    ’’جو لوگ خزانہ جمع کرکے رکھتے ہیں سونے اور چاندی کو اور اسے ﷲ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے سو ان کو المناک عذاب کی بشارت سنا دو‘‘    9/34
    اور فرمایا رسول ﷲ ؐ نے حضرت ابوذر ؓ روایت کرتے ہیں میں آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرماتھے۔جب آپ نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا قسم ہے رب کعبہ کی یہی لوگ زیادہ نقصان میں ہیں ۔میں نے عرض کیا یارسول ﷲ ؐوہ کون لوگ ہیں آپ نے فرمایا وہ لوگ جو بہت زیادہ دولت والے ہیں مگر وہ لوگ (نقصان میں نہیں)جو اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے اس طرح ہاتھ کریں(یعنی خیرات کریں)کوئی اونٹ اور گائے اور بکری والا ایسا نہیں کہ وہ اپنے اونٹ ، گائے یا بکری کی زکوٰۃ ادا نہ کرے مگر قیامت کے روز اس کے وہ جانور بہت زیادہ موٹے اور بڑے ہو کر آئیں گے جس حالت میں پہلے تھے اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے کھروں سے کچلیں گے۔جب تمام جانور ختم ہوجائیں گے تو پھر وہی پہلا عمل دہرایا جائے گا اور یہ عذاب اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کردیا جائے۔    (بخاری و مسلم)
    زکوٰۃ کا نصاب اور شرح مختلف اموال پر مختلف ہے جو فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔زکوٰۃ چاہے جانورں چوپائے سے ہو یا نقد پر یا اموال تجارت پر یا پیداوار پر صرف اس شخص پر واجب ہے جو آزاد ہو ، مسلمان ہو اور احناف کے نزدیک وہ بالغ ہو اور مجنون نہ ہو۔جس مال پر زکوٰۃ واجب ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ شرائط پائی جائیں۔    1۔مخصوص چوپائے    2۔جنگل میں چرنا    3۔اس مال پر ایک برس گزر جائے    4۔اس مال کا پوری طرح مالک ہونا    5۔نصاب کا پورا ہونا اور یہ بھی کہ وہ مال نامی (بڑھنے والا) ہو یا وہ بڑھانے کی قوّت رکھتاہو۔
    زکوٰۃ اصل میں غریبوں کا حق ہے جو دولتمندوں سے لے کر ان تک پہنچایا جاتاہے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کرنا اسلامی حکومت کا حق ہے انفرادی طور پر زکوٰۃ دینے سے لینے والا اپنے آپ کو کمتر سمجھتاہے اور اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔لیکن ریاست اگر تقسیم کرے گی تو لینے والے پر کسی کا احسان نہ ہوگا۔زکوٰۃ نہ دینے والے سے جبراََ وصول کی جا سکتی ہے حتی کہ اس کے ساتھ جنگ کرنا بھی جائز ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ جب خلیفہ بنے تو کئی صحابہ کرام کی مخالفت کے باوجود آپ نے فرمایا جب تک کوئی شخص زکوٰۃ کی ایک رسی تک نہ دے دے گا میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا۔نظام زکوٰۃ سے معاشرے میں مساوات قائم کی جاسکتی ہے۔