حج

    حج اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے۔ یہ زندگی کی عبادت ہے۔اس عبادت سے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے اور دین کامل ہوتاہے اور ابراہیمؑ کے زمانے سے فرض ہے۔ اور قرآن پاک میں ہے:
    ’’اور (ابراہیمؑ سے کہا گیا) کہ لوگوں میں حج کے (فرض) ہونے کا اعلان کردیں لوگ تمہارے پاس حج کے لیے چلے آئیں گے ۔پیادہ اور دبلی اونٹوں پر اور دور دراز راستوں سے‘‘
    حج کے متعلق جوخاص احکامات ہیں وہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر96تا03میں موجود ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا جو شخص (استطاعت کے باوجود)حج کے بغیر مرے تو چاہے یہودی مرے اور چاہے نصرانی ہوکر مرے۔
    اور حج فرض کیا گیا ہے صرف ان لوگوں پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔استطاعت میں زاد راہ شامل ہے۔سورۃ بقرہ میں دیے گئے خاص احکام یہ ہیں کہ جب کسی نے حج یا عمرہ شروع کیا تو اس کا پورا کرنا لازم ہوگیا بیچ میں نہیں چھوڑ سکتا اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے رک گیا تو اس پر قربانی لازم ہے قبل اس کے کہ احرام کھولے اور بال منڈوائے اور اگر بیماری کی وجہ سے حجامت کرانا ضروری ہو ایک دنبے یا بکری کی قربانی ہے یا تین روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔اور جو حج اور عمرہ ایک ہی ساتھ کرے تو اس تمتع کے لیے ایک بکری کی قربانی لازمی ہے اور اگر قربانی نہ میسر ہو تو دس روزے پورے کرنے ہونگے۔تین حج کے دنوں میں اور سات جب لوٹے۔اور حج و عمرہ ایک ساتھ کرنا صرف باہر سے آنے والوں کے لیے ہے جو لوگ مکہ کے رہنے والے ہیں ان کے لیے نہیں۔اور حج صرف انہیں دنوں میں ہے جو سب کو معلوم ہیں اس کے علاوہ حج نہیں ہاں عمرہ سال میں کسی بھی وقت کرسکتاہے۔پھر جس نے اپنے اوپر حج فرض کرلیا اور احرام باندھ لیا تو عورت سے بے حجاب ہونا جائز نہیں نہ گناہ کرنا نہ جھگڑا کرنا حج کے دنوں میں اور ضروری ہے کہ زاد راہ ساتھ لے کر چلو ۔یہ غلط دستور ہے کہ خالی ہاتھ حج کے لیے چل پڑے اور اس کو توکل سمجھ کر ثواب سمجھے اور ہوتا یہ ہے کہ وہاں جا کر ہر ایک سے مانگتے پھرتے ہیں اور لوگوں کو پریشان کرتے ہیں ۔حج کے دوران سوداگری مباح ہے اس میں کوئی نقصان نہیں ۔مزدلفہ میں قیام کرے اور عرفات تک جانا ہے اور قیام عرفات حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں ہوتا۔اور حج کے دوران اور عرفات سے واپسی پر ﷲ کا ذکر زیادہ سے زیادہ کرے اور تمام مناسک حج پورے کرنے کے بعد قربانی کرے۔
حج کے ارکان جن کے بغیر حج نہیں ہوتا:
    1۔احرام باندھنا    2۔طواف        3۔طواف کے بعد سعی        4۔عرفات میں ٹھہرنا
    حج کو تمام عبادات کا مجموعہ کہا جاتاہے۔مثلاََ
    1۔ہجرت            تمام حاجی گھر بار چھوڑ کر کعبہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں
    2۔نماز اور جماعت        تمام دنیا کے لوگ ایک ہی جماعت بن کر نماز ادا کرتے ہیں۔
    3۔توحید ورسالت        ساری دنیا کے لوگ ایک ہی لبا س میں ملبوس ہوتے ہیں ۔رنگ و نسل کی تمام تمیز مٹاکر تمام سفید لباس میں ہوتے ہیں۔زبانوں کے اختلافات ختم کرکے ایک ہی زبان میں تسبیح وتہلیل بیان کررہے ہوتے ہیں۔ایک ہی چشمے سے پان پیتے ہیں ۔
    4۔جہاد            تمام ارکان کو بروقت اور جلدی جلدی ادا کرنے کے لیے جہاد کرتے ہیں
    5۔روزہ            بھوک پیاس کی فکر کے بجائے ارکان کی ادائیگی میں کوشاں رہتے ہیں اور ایک قسم کے روزہ کی کیفیت ہوتی ہے۔
    6۔قربانی            قربانی کے لیے اپنے جسم کو تکلیف میں ڈالتے ہیں اور جانور بھی ذبح کرتے ہیں
    7۔انفاق فی سبیل اﷲ        خدا کی راہ میں اپنا پیسہ اور وقت خرچ کرکے انفاق فی سبیل ﷲ پر عمل ہوتاہے۔
^    تمام عبادات میں یکسانیت ہوتی ہے۔ اور توحید کے نغمے تمام کے لبوں پر ہوتے ہیں۔ سر کے بال منڈوانے یا ترشوانے کا مقصد یہ ہے کہ جو چیزیں احرام کی حالت میں حرام تھیں وہ سب اب حلا ل ہیں۔اور جاننا چاہیے کہ حج کا اصل مقصد ہر شخص کو اپنا اپنا اسمٰعیل خدا کی راہ میں قربان کرنا ہے ۔وہ خواہش نفس کی صورت میں ہو، دولت کی حرص ہو، بخل کی صورت میں ہو،دوسروں کا حق غصب کرنے کی صورت میں ہو یا جو بھی ہو اس نفس کے پیارے اسما عیل کو وہاں قربان کرنا مقصدِ اولیں ہے۔ زبان پر ہمہ وقت تسبیح و تہلیل کا جاری رکھنا اس لیے ہے کہ واپس آکر اپنی زبان کو تمام قسم کی برائیوں سے محفوظ رکھے۔
    سورہ حج کی آیت نمبر8اور8میں یہ بات واضح کردی کہ قربنی کا گوشت خود بھی کھائو اور محتاجوں کو بھی کھلائو۔مقصود صرف خون بہانا نہیں جیسا کہ اس وقت لوگ سمجھتے تھے۔بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کے لیے غذا کا سامان ہو۔ آیت نمبر 37میں صاف صاف فرمادیا کہ اصل عبادت تمہارے دل کا تقویٰ ہے نہ کہ قربانی کا گوشت۔خدا کو نہ تو گوشت پہنچتا ہے اور نہ وہ خون جس بہایا جائے۔اصل شے جو مقبول ہے وہ دل کی نیکی اور طہارت ہے۔ آج کل ہم اپنے ہاتھ سے جو قربانی کرتے ہیں اور قبانی کے میدان میں یونہی چھوڑ آتے ہیں اور پھر سعودی حکومت ان کو بلڈوزروں کے ذریعے وہی دفن کرکے ضائع کردیتی ہے تو یہ قربانی صرف خون بہانے کے زمرے میں آجاتی ہے۔ جبکہ مکہ مکرمہ میں یہ انتظام موجود ہے کہ آپ رقم بینک میں جمع کرادیں یا جانور خرید کر ان کے حوالہ کردیں تو وہ آپ کی طرف سے قربانی کردیتے ہیں اور اس قربانی کا گوشت دنیا میں ضرورت مندوں تک سعودی حکومت اپنے خرچ پر بھیج دیتی ہے۔
r    حج کے سفر میں ہو مسلمان کیایک دلی آرزو مدینۃ الرسول ؐ کی حاضری پوری ہوتی ہے۔یہ شہر عقیدتوں کا اور کروڑوں دلوں کی دھڑکنوں کا مرکز ہے ۔ یہ شہر مقدس آنحضرت ؐ کی رضا کے مطابق جائے ہجرت اور آپ ؐ کا مسکن بنا۔ یہیں جناب محمد رسول ﷲ ؐ کی آخری آرام گاہ گنبد خصرا میں ہے۔یہ وہ نام مبارک ہے جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتاہے اور کروڑوں دلوں کو مسرور وتازگی سے مالا مال کرتاہے ۔ہمارے لب اور ہمارے دل اس نام سے پندرہ سو سال سے ایمان میں تازگی اور برکتیں حاصل کررہے ہیں اور یہ بہرہ مندی قیامت تک جاری رہے گی۔ اور اس کے بعد بھی۔ ادھر صبح صادق ہوئی مٶذن نے اذان دی ۔بنی آدم کو ﷲ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہونے کی تلقین کی ادھر کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود وسلام کے تحفے بھیجنے شروع کردیے ۔دن اور رات کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہوتا جہاں ہروقت ﷲ کے بندے درود و سلام نہ بھیج رہے ہوں۔آپ ؐ سے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کا یہ حال ہے کہ جونہی آنحضرت ؐ کا نام مبارک آیا تو ان کے دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑیں اور زبان سے درود وسلام جاری ہوگیا۔یہ تو دنیا کے مختلف حصوں میں دور دراز رہنے والوں کا حال ہے لیکن وہ کیفیت کیسی ہوتی ہے جب کوئی بندہ خود بصد عجز ونیاز روضہ اطہر کے سامنے کھڑا درود وسلام کا تحفہ پیش کررہاہوتاہے اور اسے یقین کامل ہوتاہے کہ حضور ؐ سفارش بھی فرمائیں گے اور ﷲ تبارک وتعالیٰ اسے منظور بھی کرے گا کیونکہ ﷲ سبحانہ‘ وتعالیٰ کا پنا فرمان ہے کہ اگر کوئی اپنی جان پر ظلم کربیٹھے اور گناہ سرزد ہوجائے اور وہ آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر گناہوں کی معافی چاہے اور حضورؐ کی سفاعت طلب کرے اور آپ ؐاس کی سفارش بھی کریں تو ﷲ تعالیٰ ضرور اس کے گناہ معاف فرمادے گا۔/64
    ہمارا یقین ہے کہ آپ ؐ کسی کو نامراد نہیں لوٹاتے کیونکہ ﷲ تعالیٰ نے آپ ؐ کو رحمت اللعلمین بنا کر بھیجا ہے۔جو سراسر رحمت ہو وہاں سے خیر ہی خیر کی توقع ہے وہاں مایوسی اور نامرادی نہیں۔اﷲ تبارک و تعالیٰ فرماتاہے:
    ’’آیا ہے رسول تمہارے پاس تم میں سے۔ اس پر بھاری ہے جو تکلیف تم کو پہنچے۔وہ حریص ہے تمہاری بھلائی کے لیے۔ ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے‘‘/128
    اور پھر بھی اگر کوئی آپ سے منہ موڑے تو کہہ دیں (تم میری ضرورت نہیں ہو)میرے لیے ﷲ کافی ہے/129۔آپ ؐ ہر ممکن طریقہ سے یہ چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو اور دنیوی و اخروی عذاب سے محفوظ رہے۔اس لیے جو دین آپ لائے وہ سہل اور نرم ہے ۔اگر آپ کی عظیم الشان شفقت ،خیر خواہی کی لوگ قدرنہ کریں تو نقصان کس کاہے؟اگر بفرض محال ساری دنیا آپ ؐ سے منہ پھیر لے تو تنہا ﷲ تعالیٰ آپ کو کافی ہے جو کہ آپ ؐ کو محبوب رکھتاہے۔آپ ؐ کی رضا اس کی رضاہے۔
    یااﷲ!مجھے بخش دے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین و مومنات کو اور میری تمام آنے والی نسل پر رحم فرمانا اور انہیںنیک وصالح بنانا ۔ یارب العٰلمین !بحرمت سید المرسلین ،خاتم النبین محمدرسول ﷲ ؐ