امر بالمعروف و نہی عن المنکر

    پہلے پانچ ارکان جن کا ذکر کیا گیا ہے ان پر عقیدہ رکھنا اور عمل کرنا نہایت ضروری اس لیے ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔اگر ان پانچ ارکان کو تسلیم نہ کیا جائے یا ان پر قصداََ عمل بھی نہ کیا جائے تو وہ شخص اسلام میں داخل ہی نہیں ہوگا۔اور وہ مسلم کہلانے کا مستحق نہیں ہوگا۔ مسلمان ہون کے لیے یہ پہلا درجہ ہے اور یہ سب کے لیے ضروری ہے اس سے اگلا قدم جس کا تقاضا اسلام کرتاہے وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے اس کا مطلب ہے ہر اچھے کام کا کرنا اور دوسروں کو اچھائی کی طرف بلانا اور ہر برے کام سے رکنا اور دوسروں کو روکنا۔اور یہ اچھائیاں اور برائیاںتقریباََ عالمگیر سچائیاں ہیں۔مثلاََ حرام نہ کھانا ،رشوت نہ لینا،دوسروں کی مدد کرنا،راستے ،سرائے ،شفاخانے بنوانا وغیرہ۔ہرمذہب اور ملک میں اچھائیاں شمار ہوتی ہیں۔اور قتل کرنا ،چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا،غصب کرنا،غیبت کرنا ،خیانت کرنایہ ہرجگہ اور ہر مذہب میں برائیاں تسلیم کی جاتی ہیں۔ اسلام میں بھی ایسی ہی تمام اچھی باتوں اور بری باتوں کی تفصیل موجود ہے۔ہم ان کو نیکی اور بدی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔نیک آدمی کا پہلا کمال یہ ہے کہ وہ نیکی کا مجسمہ بن جائے اور دوسرا کمال یہ ہے کہ اپنے اثر سے دوسروں کو بھی نیک بنائے۔برے آدمی کا کمال یہ ہے کہ خود بھی انتہائی برا جانا جاتاہو اور دوسرا کمال یہ ہ کہ اپنی اس بدی کو دوسروں تک پھیلائے۔مومن اگر اپنے عقیدہ ایمان میں راسخ ہو اور اطاعت حق میں کامل ہو تو وہ کمال ایمان کے پہلے درجہ میں ہوگا اور اگر اس کی یہ صفت اتنی شدید ہو کہ وہ دوسروں کو بھی ایمان و اطاعت حق کی تبلیغ کرنے لگے اور عملاََ جدوجہد کرے تو وہ پورا مومن کہلائے گا اور کمال حق کے دوسرے درجہ تک فائز ہوگا۔مومنوں کو خطاب کرتے ہوئے ﷲ تعالیٰ فرماتاہے:
    ’’اے ایمان والو!اﷲ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو اور سب کے سب مل کر ﷲ کی رسی کو پکڑے رہو اور متفرق نہ ہوجائو‘‘ آل عمران 103
    ’’اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلاتی ہو اور برے کاموں سے روکتی ہو اور فلاح پانے والے ایسے ہی لوگ ہیں‘‘آل عمران04
Z    ان دو آیات میںایمان کے دونوں درجے بتا دیے پہلا درجہ تو یہ ہے کہ خود ﷲ سے ڈرنے والا ہو دوسرا درجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو بھی نیکی کی طرف بلائے اچھے کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے۔اور یہ کام فرد سے لے کر ایک جماعت ،ایک قوم اور ایک ملک تک کے لیے ہیں۔آخری درجہ یہ ہے دعوت نیکی اور خیر کی عالمِ انسانی کے لیے عام ہو اور ساری دنیا کو نیکی کی طرف بلائے اور بدی جہاں بھی ہو اسے روکنے کی تدبیر کرے ۔ ﷲ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں مسلمانوں کے سامنے ایک بلند مطمع نظر پیش فرمایا ہے اور کم حوصلگی کی تعلیم نہیں دی اور مسلمان کا مقصد حیات یہی ٹھہرایا ۔اﷲ فرماتا ہے:
    ’’تم بہترین امت ہو جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیاہے ۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو بدی سے روکتے ہو اور ﷲ پر ایمان رکھتے ہو‘‘/110
     یعنی اگر تمہاری پوری قوم دنیا میں آفتابِ ہدایت بن جائے اور تمام عالم کو نیکی کاحکم کرنے والی اور بدی سے روکنے والیہو تو تم دنیا کی بہترین امت ہو۔لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو کہ پوری قوم ایسی صفت والی بن جائے تو تمہارے اندر کم از کم ایک گروہ ایسا رہنا چاہیے جو خیر کی طرف بلاتا رہے اور بدی سے روکتا رہے۔نبیؐ نے فرمایا کہ تم میں کوئی برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے اور استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا تو کم از کم دل میں اس کو برا سمجھے۔
    قرآن مجید میں مومن کی صفت بیان کی گئی ہے کہ :
    ’’مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مدد گار ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں‘‘/71
    ’’وہ توبہ کرنے والے ،عبادت کرنے والے،خدا کی حمد کرنے والے،راہِ خدا میں سفر کرنے والے،رکوع و سجود کرنے والے،نیکی کا حکم دینے والے بدی سے روکنے والے اور حدود الہٰی کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘/112
    ’’یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں طاقت بخش دیں تو یہ نماز قائم کریں گے زکوٰۃ ادا کریں گے،نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے‘‘2/41
    اﷲ تعالیٰ کی مہربان ہے کہ اس نے ہر مومن پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض قرار نہیں دیا اور اتنی نرمی رکھی گئی کہ مسلمانوں کی پوری قوم میں سے ایک جماعت کا آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر ہونا کافی سمجھا گیا ۔اﷲ تعالیٰ علیم و خبیر ہے اسے معلوم تھا کہ عہدِ رسالت سے دوری کے ساتھ مسلمانوں کے ایمان ضعیف تر ہوتے چلے جائیں گے۔حتی کہ ایک وقت آئے گا کہ کروڑوں مسلمان دنیا میں موجود ہوں گے مگر ان کے ایمان اتنے کمزور ہوں گے کہ اپنے ماحول کو بھی منور نہ کرسکیں گے بلکہ کفر کے غلبہ کی وجہ سے خود ان کے اپنے نور بجھ جانے کا خطرہ ہوگا۔لہٰذا ایسی حالت کے لیے فرمایا کہ تمہارے اندرکم از کم ایک جماعت تو ضرور موجود رہنی چاہیے جو خیر کی دعوت دے اور برائی کا مقابلہ کرے اور اگر ایسی جماعت نہ رہے تو پھر عذاب الہٰی اور ہلاکت و تباہی سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔پچھلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    ’’تم میں سے پہلے قوموں سے کچھ ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے مگر بہت تھوڑے تھے۔ سو ان کو ہم نے نجات دے دی اور جو لوگ ظالم تھے وہ مجرم تھے اور دنیاوی لذتوںمیں پڑے ہوئے تھے جو ان کو دی گئی تھیں۔ تیرارب ایسا نہیں کہ بستیوں کو یونہی ظلم سے ہلاک کردے درآں حالیکہ ان کے باشندے نیکوکار ہوں‘‘ہود 116,117
    پس ضروری ہے کہ مسلمانوں میں کم از کمایک جماعت تو ایسی ہو جو خیر کی شمع روشن رکھے اور شر کی ظلمت کو دفع کرتی رہے۔بصورتِ دیگر پوری قوم کا عذاب الہٰی اور ہلاکت سے بچ جانا محال ہے