تجدید دین

جب سے انسان وحی و نبوت کے فیضان سے مستفیض ہوا اس کے اندر اپنے آپ کو جدید بنانے کا جذبہ پیدا ہوا۔ طبیعتِ انسانی نئی سے نئی جہتوں کی تلاش کی خوگر ہو گئی۔ تاریخی طور پر یہ بات پاےہء ثبوت کو پہنچی ہوئی ہے کہ جن معاشرہ یا تہذیبوں میں جدیدیت کا محرک کمزور ہوجاتا ہے ان کو بالآخر زوال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ زندگی کو ہر دم رواں دواں رکھنے کیلئے جدیدیت کا عنصر باقی رہنا از حد ضروری ہے ورنہ انسانی ذہن کو فکر پر جمود طاری ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہےں۔ اگر انسانی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو جدیدیت (Modernization)ایک مسلسل عمل محسوس ہوتا ہے جو تہذیب و تمدن سے لے کر دین و مذہب تک پوری انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تجدید دین سے مراد وقت گزرنے کے ساتھ کسی مذہب یا نظریات عقائد میں خارجی ماحول داخل ہو جانے والی خرابیوں کو نکال کر دوبارہ اسے اصلی حالت پر استوار کردینے کا نام ہے۔
مذاہب عالم اور تجدید عیسائیت
مذاہب وادیان عالم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ موجود دور میں عیسائی مذہب کو ماننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن عیسائیت بطور دین یا نظام زندگی دنیا کے کسی بھی مقام پر نہیں ہے۔ اس کے اپنے ماننے والے اس کی نظریاتی خامیوں کو ہدف تنقید بنا کر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں ۔ اس مذہب میں عدم تشدد کے نظریہ کی سب سے زیادہ پامالی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں خارجی ماحول سے آنے والے عقائد و نظریات کو نکال کر اس کی تجدید کرنے کا کوئی طریقہ کار یا تصور موجود نہیں بلکہ اپنی کتابوں میں تحریف کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔
عیسائیت میں سینٹ پال یہودی کی طرف داخل کر دئےے جانے والے عقیدہ تثلیث کی آج تک کوئی توجیح پیش نہ کی جا سکی بلکہ یہ عقیدہ اس کے ماننے والوں کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے اور اس مذہب کے بڑے بڑے علماء بھی کسی ٹھوس بنیاد پر اس نظریہ کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔ کوئی شخص بھی اس لاینحل مسئلہ کو سلجھانے کے قابل نہیں ہو سکا کہ تین وجود ایک دوسرے میں ملکر ایک وجود بن جائیں لیکن ان کا اپنا اپنا الگ وجود بھی برقرار رہے۔یہی وجہ ہے کہ مذہب عیسائیت کی تمام تبلیغی کوششیں کسی مذہبی عقیدہ ونظریہ کی بنیاد پر نہیں کی جاتیں بلکہ معاشی ابتری کی شکار قوموں میں بے تحاشہ مادی وسائل استعمال کر کے اور رفاہی اداروں کے قیام کے ذریعے عیسائیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کا ثبوت پس ماندہ افریقی ممالک میں عیسائیت کو قبول کرنے کی شرح سے ملتا ہے۔ جبکہ یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مقبولیت سب سے کم ہے۔
یہودیت
اس مذہب میں عقائد و نظریات یا دیگر معاملات پر سوچنا بھی گناہ ہے۔ یہودیت ایک نسلی مذہب ہے جس کی وجہ سے یہاں سوچ و فکر کے دائرے نہایت محدود ہیں۔ اس مذہب میں رجعت پسندی اتنی گہری ہے کہ کوئی شخص فکر جدید کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا
اسلام
عالم اسلام کی موجودہ بدحالی کے باوجود اسلام بطور نظریہ حیات فروغ پذیر ہے۔ اس ترقی پذیری کی دو وجوہات ہیں۔
ایک یہ کہ مسلمانوں کی تبلیغی مساعی علمی اور ٹھوس نظریاتی بنیادوں پر ہو رہی ہےں اور اس پر تحقیق کرنے والے یا اس کا مطالعہ کرنے والے عقلی شواہد کی بنیاد پر اسلام کی حقانیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام میں ایک خود کار تجدیدی نظام موجود ہے۔ جو ظاہری اور پوشیدہ طور پر ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ اس کے خالص الہامی عقائد و نظریات پر اول تو کوئی خارجی عقیدہ یا نظریہ اثر انداز ہی نہیں ہو سکتا لیکن اگر کوئی عنصر کسی طرح اس میں داخل ہو بھی جائے تو تجدیدی نظام پوری قوت سے اس کو دور کر دیتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کوئی فرد یا جماعت مستقل بنیادوں پر اس کے اصولوں میں تبدیلی نہیں لا سکتی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام پر جمود کی کیفیت طاری ہو سکتی ہے بلکہ اسلام وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہونے والی زندگی کے جدید مسائل سے اجتہاد کے ذریعے عہدہ برآء ہو کر اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ان جدید مسائل سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آج کی جدید دنیا کا دین یا نظام زندگی بننے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں اس کی مقبولیت کا گراف روز بروز بلند ہو رہا ہے اور اس کو قبولیت عامہ حاصل ہو رہی ہے۔

 
 
7.png