اسلام میں طریقہ تجدید

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کو حرص و ہوس کی گرد اپنے اندر ڈھانپ لیتی ہے حتی کہ اسلام عقائد و نظریات اور عبادات و اعمال بھی اس کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ لیکن اسلام میں اس صورتحال کو زیادہ عرصہ کےلئے نہیں رہنے دیا جاتا کیونکہ اسلام ایک آفاقی نظام حیات ہے اور اس نے آخری مسلمان تک قائم رہنا ہے ۔ اسی لئے تجدیدی عمل کے تسلسل کی وجہ سے ایک مخصوص عرصہ جو بالعموم ایک صدی پر مشتمل ہوتا ہے زمانے کی پڑی ہوئی گرد کو صاف کرکے صحیح عقائد و نظریات اور اعمال کی ترویج کر دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار مختلف زمانوں اور ادوار میں مختلف انداز میں جاری رہا ہے۔
تجدید دین بالوحی
حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ و اصحابہ وسلم کی اس دنیا میں بعثت کے بعد دین اسلام اپنی تکمیلی صورت کو پہنچا اور اس کے ساتھ تجدید دین بالوحی کا سلسلہ بھی اختتام پذیر ہوا ۔ حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہٖ و اصحابہ وسلم کو خلعت ختم نبوت سے نوازا گیا اور تاقیامت وحی و نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا۔اس دور اقدس سے پہلے جب بھی دین اسلام کی تعلیمات میں مرور زمانہ اور حوادثات مختلفہ کے نتیجے میں تحریفات کی دی گئیں یا ان کو کلیتاً مٹا دیا گیا یا اصل اسلامی تعلیمات و اصول انسانی خواہشات کی نذر ہو گئے تو اسلامی نظام حیات کو دوبارہ اصل حالت میں لانے کیلئے وقتاً فوقتاًانبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا جاتا رہا۔ اس بعثت انبیاء کا بنیادی مقصد دراصل تجدید دین ہی ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ اکثر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے اپنے پیشرو انبیاء کی تحریف شدہ تعلیمات کو دوبارہ اصل صورت میں تازہ کر دیا۔ اس کے علاوہ اس وقت لوگوں میں موجود بڑی بڑی بے اعتدالیوں اور خرابیوں کی اصلاح بھی فرمائی۔ حضرت شعیب ؑ، حضرت صالح  ؑ ، حضرت لوطؑ، حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنی قوموں کی اصلاح فرمائی۔ ان حضرات کو وحی کی تائید حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست حاصل ہونے والی رہنمائی میں ان ملتوں کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔
تجدید بالخلافت
حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قرآن مجید اور سنت نبوی کی صورت میں دینی اصول و اقدار کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ان کی موجودگی میں جب کبھی عقائد و اعمال میں افراط و تفریط ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ خلفائے راشدین نے پوری استقامت اور جرأت ایمانی سے حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے ان تحریفات و بدعات کو قرآن و سنت کے مطابق از سر نو استوار کر دیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں مختلف قبائل کی طرف سے ادائیگی زکوۃ کے انکار سے دین کے ایک بنیادی رکن سے انحراف کرنے کی کوشش کی گئی جن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کمال ایمانی قوت اور مومنانہ فراست سے کچل کر رکھ دیا اور اس سازش کو کامیاب ہونے کا موقع نہ دیا۔اسی طرح دوسرے خلفائے راشدین کے زمانہ خلافت میں جب بھی کبھی فتنہ نے سر اٹھانے کی کوشش کی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تربیت یافتہ اور روحانی فیض یافتہ ان حضرات نے پوری استقامت کے ساتھ حق نیابت کو نبھایا۔ اس کی ایک اور وجہ بھی تھی کہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان حضرات کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اطیعواللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکمر (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی اطاعت کرو) سے بخوبی آگاہ تھے  اور وہ جانتے تھے کہ اس آیت کی روشنی میں ان خلفاء کو رسول کی نیامت کا حق حاصل ہے۔
تجدید بالعلم والروحانیت
خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت کا دور شروع ہوا۔ حکمران کہلاتے تو امیرالمومنین ہی تھی لیکن درحقیقت بادشاہی نظام قائم کر دیا گیا تھا۔ ان بادشاہوں نے اپنی حکمرانی کو دوام بخشنے کےلئے زر خرید علماء سے فتوے لے کر اپنا جواز ثابت کیا۔ اس کےلئے اسلامی نظام زندگی میں من مانی تاویلات کے ذریعے تحریفات کی گئیں۔    اس کے ساتھ ساتھ یونانی فلسفہ کی کتابوں کے عربی زبان میں تراجم کرائے گئے۔ جس کے نتیجہ میں خالص اسلامی اخلاق و تصوف پر یونانی فلسفہ کا رنگ چڑھا دیا گیا۔ کلامی بحثوں کو اسلامی تصوف کا حصہ بنا کر ایسے ایسے نظریات داخل کر دئے گئے جن کی بناء پر مظاہر کائنات میں اللہ تعالیٰ کے حلول کو حق مان لیا گیا۔ شریعت و طریقت کو ایک دوسرے سے جدا سمجھا جانے لگا۔
اس دور میں تجدیدی کام دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک علمی تجدید کا کام جس کو علمائے حق نے سر انجام دیا۔ جب بھی عقائد و نظریات میں تبدیلیاں کی گئیںیا قرآن و حدیث کے مطالب میں من مانی توجیہات کے ذریعے تحریف کرنے کی کوشش کی گئیں تو اپنے اپنے وقت کی ضرورتوں کے مطابق علمائے کرام رحمہم اللہ اجمعین نے ان پیدا شدہ خرابیوں کو دور کر دیا۔
دوسری طرف تصوف کے میدان میں پیدا شدہ خرابیوں کو صاحبان معرفت و روحانیت نے تصوف یعنی طریقت کو شریعت کے تابع کر دیا اور غیر شرعی عقائد و اعمال یعنی بدعات کا قلع قمع کر دیا۔
یہ دونوں گروہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی مشکوٰۃ نبوت کے فیض یافتہ تھے۔ جس کسی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فیض علمی سے استفادہ کیا اور قرآن و حدیث کے علم میں تخصص ( Specialization)  حاصل کیا اس نے علمی میدان میں تجدیدی کام کیا۔ اور جس نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانیت سے فیض حاصل کیا اس نے روحانیت کے میدان کو غیر شرعی امور سے پاک کر دیا۔
لیکن بعض ہستیاں ایسی بھی گزریںجو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دونوں کمالات علمی و روحانی کے جامع تھے اور انہوں نے بیک وقت علمی و روحانی دونوں امور میں تجدیدی کارنامہ سر انجام دیا۔ گویا جنہوں نے کسی ایک شعبے میں تجدیدی کام کیا وہ جزوی مجدد تھے اور جنہوں نے تمام امور دینی میں تجدید کر کے اصل اسلامی نظام زندگی کو بحال کیا وہ کلی یا جامع مجدد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مراتب میں بھی وہی فرق ہے جو ایک جزو اور کل کے درمیان ہوتا ہے۔
معیار مجددیت
اگر تجدید کا فریضہ کوئی ایسی ہستی سر انجام دے جس کو وحی کی رہنمائی اور معجزہ کی تائید حاصل ہو تو اس کو نبی یا رسول کہتے ہیں، جبکہ یہی فریضہ اگر کسی امتی کے ہاتھوں انجام پائے اور اس کو علم و فضل میں اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے ، علوم ظاہریہ و باطنیہ میں یکتائے روزگار ہوتا ہے۔ حامئ سنت اور قامع بدعت ہوتا ہے گویا وہ ایک بابغہء عصر ہوتا ہے جس کو فراست میں حصہ و افر ملا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کو کرامت کی تائید بھی حاصل ہوتی ہے۔ نبی اور مجدد کے کام کی یکسانیت کے باوجود ان کے مقام و مراتب میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، نبی کی نبوت منصوص من اللہ ہوتی ہے ، نبی وحی کی ہمہ وقت رہنمائی میں کام کرتا ہے ، نبی اپنی نبوت کا اعلان کرنے کا پابند ہوتا ہے اس سلسلے میں وہ کسی شخص کی تائید و حمایت کا محتاج نہیں ہوتا۔ جبکہ مجدد کو اپنی صداقت کا ثبوت اپنے عزم و استقلال اور کام کی انجام دہی سے دینا ہوتا ہے۔ مجدد کے لئے اپنی مجددیت کا اعلان کرنا لازم نہیں ہوتا بلکہ اس کے ہم عصر علماء و صوفیا اس کے علم و فضل اور تجدیدی کام کو دیکھ کر اس کے مجدد ہونے کا حکم لگا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مجددین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی تجدیدی کوششوں کو ان کی زندگی میں معلوم نہ کیا جا سکا بلکہ بعد میں آنے والے علماء نے ان کے مجدد ہونے کی تصدیق کی۔اس صورت حال میں بعض لوگوں کے دلوں میں مجدد بننے کی خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے اور بعض لوگ از خود مجدد ہونے کا دعٰوی کر دیتے ہیں بلکہ ان کی جسارت ان کو دعٰوی نبوت تک لے آتی ہے جیسے مرزا غلام قادیانی نے پہلے مجدد ہونے کا دعوٰی کیا اور پھر بتدریج ترقی کرتے کرتے نبوت کا اعلان کر بیٹھا۔    ایسی کسی بھی کوشش کو روکنے کےلئے اس بات کی ضرورت ہے کہ مجددیت کا ایک معیار ہو جس کو کسوٹی بنا کر کسی ہستی کے مقام مجددیت پر فائز ہونے کو معلوم کیا جا سکے ورنہ ہر طالع آزما اپنے آپ کو مجدد قرار دلوانے کی کوششیں کرتا رہے گا۔
اس معیار کو حضور رحمت عالمیان خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تجدید سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے۔
اِنَّ اللہ عَزَّ وَجَلَّ یَبعَثُ لِھٰذِہِ الاُمَّۃِ عَلیٰ رَأسِ کُلِّ مِاءِۃِ سَنَۃٍ مَن یُجَدَّدُ لَھَا دِینَھَا۔ رواہ ابو داؤد   ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کےلئے ہر صدی کے سرے پر ایسے بندے (مجدد )بھیجتا رہے گا جو اس کےلئے دین کی تجدید کریں گے۔
اس حدیث کی ابو داؤد کے علاوہ دوسرے ائمہ حدیث نے بھی تخریج کی ہے۔ حاکم نے اپنی مستدرک میں اس کو روایت کیا ہے۔ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ابو داؤد اور مستدرک حاکم کے علاوہ طبرانی کی معجم اوسط کا بھی ذکر کیا اور اس کی سند ورجال کے متعلق فرمایا وَ سَنَدِہٖ صحیح ورِجَالِہٖ کُلُّھُم ثَقَات’‘ ۔  (اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں)۔
امام بیہقی کی کتاب معرفۃ السسن والآثار میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اس کے علاوہ مولانا عبدالحئی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے مجموعۃ الفتاوی میں اس حدیث کی تخریج میں حلیہ ابو نعیم، مسند بزار مسند حسن بن سفیان اور کامل بن عدی کا بھی ذکر کیا۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے مرقاۃ الصعود میں لکھا کہ اِتَّفَقَ الحُفَّاظُ عَلٰی تَصحِیحِہٖ یعنی حفاظ حدیث کا اس کی صحت پر اتفاق ہے۔
اس حدیث مبارک میں مَن یُجَّدِدُ لَھَا دِینَھَا کے الفاظ بڑے غور طلب ہیں۔ یہ الفاظ معیار مجددیت کو قائم کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ان الفاظ میں دین کی تجدید کا ذکر ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ دین کے مفہوم کو سمجھا جائے۔
دین
دین سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہو اور زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہو، عموماً لوگ دین اور مذہب کو ایک ہی مفہوم میں لیتے ہیں۔ حالانکہ مذہب اور دنیا  دین کے دو حصے ہیں۔ مذہب میں وہ عقائد و نظریات اور اعمال آتے ہیں جن کا تعلق بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوتا ہے جن کو حقوق اللہ کہتے ہیں، جبکہ تہذیب و تمدن ، ثقافت اور سیاست کا تعلق دنیاوی معاملات سے ہے جن کا تعلق بندے اور بندے کے درمیان ہوتا ہے۔ جن کو حقوق العباد کہتے ہیں، گویا حقوق اللہ اور حقوق العباد کے مجموعے کو دین کہتے ہیں۔
حضور رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کی تشریح مشہور زمانہ حدیث جبریل میں یوں فرمائی۔
قَالَ الاِسلَامُ اَن تَشھَدَ اَنَ لاالہ الااللّٰہ واَنَّ محمداً رَسُولُ اللَّہ وَ تُقِیمُ الصَّلٰواۃَ وَتُوتِی الزَّکَواۃ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَ تَحُجُّ البَیتَ اِن استِطُعتَ اِلِیہِ سَبِیلَا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو شہادت دے کہ کوئی معبود نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور بصورت استطاعت بیت اللہ کا حج کرے۔
اس سے واضح ہوا کہ دین اسلام (اسلامی نظام زندگی ) کے پانچ بنیادی اصول ہیں۔
.1      توحید و رسالت کا اقرار
.2    قیام صلوٰۃ
.3    نظام زکوٰۃ
.4    رمضان کے روزے رکھنا
.5    حج
ان اصولوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اور بعض کا حقوق العباد سے ہے۔ ان ہی بنیادی اصولوں پر اسلامی نظام زندگی (دین) کی پوری عمارت قائم ہے۔ جب تک انسانی زندگی ان اصولوں کے مطابق رہے معاشرہ دین اسلام پر قائم رہتا ہے لیکن جب کبھی خواہشات نفسانی انسان پر غلبہ پا لیتی ہیں تو وہ ان اصولوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش اور سہولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا وہ آہستہ آہستہ اسلامی نظام زندگی سے فرار اختیار کر لیتا ہے اور اس میں بعض ناجائز تبدیلیاں بھی کر لیتا ہے۔
خواہشاتِ نفسانی کے ساتھ ان حاصل کردہ سہولتوں اور پیداکر دی جانے والی تبدیلیوں کو اسلامی شرعی اصطلاح میں بدعت کہتے ہیں۔ وہ تمام نئے پیدا کئے جانے والے امور جو حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ سے مطابقت نہ رکھتے ہوں بدعت کہلاتے ہیںاور آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تمام بدعات کو گمراہی قرار دیا ہے۔
ان بدعات کو ختم کر کے روشن سنت کو تازہ کر دینے کا نام تجدید ہے اور اس کام کو سرانجام دینے والی ہستی کو مجدد کہتے ہیں جو بالفاظ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص اپنی ذاتی کوششوں یا اپنی جماعت کے پروپیگنڈے کے زور پر مجدد کے مرتبہ پر فائز نہیں ہو سکتا ، یہاں تک کہ وہ علم و فضل ،فقاہت، علم اور کشف وکرامت میں اعلیٰ مقام کیوں نہ رکھتا ہو ، مجدد کے فرائض میں سے ہے کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق ان اعمال کو زندہ کرے جو متروک ہو چکے ہوں، افراط و تفریط ، تحریفات و تاویلات اور بدعات سے دین کو پاک کرے، حق و باطل میں تمیز کرا کے دین کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور کے مطابق بنائے ، اس کے ساتھ ساتھ اپنے روحانی فیضان سے لوگوں کو مستفیض کرے۔
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث تجدید کی شرح کرتے ہوئے مجدد کی صفت بیان کرتے ہیں کہ اَی یُبیِّنُ السُّنَّۃِ مِنَ البِدعَۃِ وَ یُکتِّرُ العِلمَ وَ یُعِزُّ اَھلِہٖ و یقمع البدعۃ ویکسراہلھا۔ یعنی مجدد سنت کو بدعت سے ممتاز کرے گا۔ علم کو کثرت سے شائع کرے گا اور اہل علم کی عزت بڑھائے گا ، بدعت کا قلع قمع کرے گا اور اہل بدعت کا زور توڑ دے گا۔
مولانا عبدالحئی رحمۃ اللہ علیہ نے مجموعۃ الفتاوی میں فرمایا کہ مجدد کی علامات و شروط یہ ہیں کہ وہ علوم ظاہری و باطنی کا عالم ہو گا۔ اس کی تدریس و تالیف اور وعظ ونصیحت سے عام نفع ہو گا۔ وہ سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کے مٹانے میں سرگرم ہو گا۔
جس طرح خلفائے راشدین کو مقام نیابت حاصل تھا اور ان حضرات کو حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری و باطنی فیض حاصل تھا اور وہ ان فیوضات کو تقسیم کرنے والے تھے۔ جنھوں نے اسلامی نظام کے قیام کے ساتھ ساتھ روحانی فیضان سے بھی تشنگان حقیقت کو فیض یاب کیا۔ اسی طرح مجدد چونکہ نبی کا ظل ہوتا ہے اور اس کو حسب فرق مراتب اولی الامر کا مرتبہ و مقام حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ نظام اسلامی کو قائم کرنے کی کوششیں کرتا ہے اور اس بگاڑ کو ختم کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتا ہے جو زمانہ گزرنے کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے وہ باطنی فیض کو بھی تقسیم کرتا ہے اور اپنے وقت کے غوث واقطاب واوتاد ، ابدال ونجبا اور اولیائے کاملین اس سے روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ بلکہ ان اولیاء کو جو مقام و مرتبہ ملتا ہے اس کے وسیلے سے ملتا ہے۔
مجدد چونکہ نظام اسلامی کو قائم کرنے میں کوشاں ہوتا ہے لہذا وہ اس سلسلے میں حائل ہونے والی طاغوتی اور باطل قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے۔ وہ ان رکاوٹوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنے مقصد کے حصول کےلئے سرگرم عمل ہوتا ہے۔ بالآخر وہ نظام اسلامی کو تمام بدعات و خرافات سے پاک کر کے اصل حالت میں لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ نبی کا منکر خارج از اسلام ہوتا ہے اور آخرت کے انعامات سے محروم کر دیا جاتا ہے جبکہ مجدد کا منکر اسلام سے خارج نہیں ہوتا لیکن وہ کتاب و سنت کی ترجمانی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
 
 
1.png