حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

تاریخ اسلامی میں مجددین کی فہرست میں حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی ہستی سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ ہزارہ دوم کے مجدد ہیں۔ مجدد الف ثانی آپ کے نام کا یوں حصہ بن گیا ہے کہ یہ الفاظ دل و زبان پر آتے ہی ذہن میں آپ کی ہستی کا خیال آتا ہے۔
آپ کے دور کی تاریخ بالخصوص درباری عالم ملا عبدالقادر بدایوانی کی کتاب منتخب التواریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جلال الدین اکبر بادشاہ کے عہد میں دین اسلام نہ صرف بطور نظام زندگی مسلمانوں کی اجتماعی زندگیوں کا حصہ نہیں رہا تھا بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں تحریفات کے ذریعے انفرادی زندگیوں میں بھی ختم کرنے کی پر زور کوششیں کی گئیں۔
    ان تحریفات و بدعات کی اجمالی جائزہ لیتے ہوئے حدیث جبریل میں دین اسلام کی بیان کی گئی تعریف کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ عہد اکبری میں اسلام کے بنیادی اصولوں سے کس طرح انحراف کیا گیا اور پھر حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے کس طرح تجدیدی کارنامہ سر انجام دیا۔
.1    عقیدہ توحید و رسالت:
عقیدہ توحید کی نفی آفتاب پرستی سے کی جانے لگی۔ ایک ہندو مصاحب بیربر نے اکبر کو آفتاب پرستی پر مائل کیا۔ آفتاب کی خدا کی طرح عبادت کی جانے لگی۔ اور اس کو مظہر کامل اور سرچشمہ سعادت سمجھا جانے لگا۔ دنیا اور اہل دنیا کی زندگی اس سے وابستہ سمجھی جانے لگی۔ طلوع آفتاب کے وقت اس کی طرف رخ کر کے عبادت کی جانے لگی، اکبر روزانہ آفتاب کے ایک ہزار ایک ہندی ناموں کا وظیفہ پڑھتا تھا۔ آفتاب پرستی کے ذیل میں آگ، پانی ، پتھر، درخت اور تمام مظاہر عالم کی پرستش کی جانے لگی۔ گائے، اس کے گوبر ، قشقہ اور زنار کو مقدس قرار دے دیا گیا۔
    پارسیوں (آتش پرستوں ) کے زیر اثر ایک آتشکدہ تعمیر کیا گیا جہاں ہر وقت جلتی رہتی تھی۔ قابل حیرت بات یہ ہے کہ اس آتشکدہ کا انتطام ایک درباری مولوی شیخ ابوالفضل کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس عہد میں عیسائیوں کو بھی اثرورسوخ حاصل ہو گیا تھا، عیسائی پادریوں کے دربار میں ہونے والے مباحثوں کے نتیجے میں عقیدہ تثلیث کے حق ہونے کی تصدیق کی گئی۔ ان عیسائی پادریوں کی جسارت اسقدر بڑھ گئی تھی کہ انہوں نے دجال ملعون اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں مشابہت پیدا کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا نعوذباللہ کیونکہ ان کو اکبر کی مکمل حمایت حاصل تھی۔سچ تو یہ ہے کہ اکبر کو اس انتہائی مقام تک لانے میں زرپرست علما و مشائخ نے اہم کردار ادا کیا۔ درباری علماء نے اکبر کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ امام الزمان ہے اور اس مرتبے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ اکبر نے اجمالی اور معنوی نبوت کا دعٰوی کر دیا۔ رہی سہی کسر شیخ مبارک کے تیار کردہ محضر نامہ نے نکال دی۔ اس کی بدولت امام عادل ( حکمران وقت) کو مجتہد شرعی سے اعلیٰ و برتر قرار دے کر شریعت اسلامی میں کھلم کھلا مداخلت کے دروازے کھول دئےے۔ بادشاہ کو کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے تمام اختیارات حاصل ہو گئے۔ اس  محضر نامہ پر مولانا عبداللہ مخدوم الملک۔ شیخ عبدالنبی صدر الصدور۔ جلال الدین ملتانی قاضی القضاۃ(چیف جسٹس) صدر جہاں مفتی اعظم۔ ملا شیخ مبارک اور غازی خاں بدخشی جامع معقولات نے دستخط کئے۔
اس سلسلے میں نام نہاد صوفیانے بھی اہم کردار ادا کیا۔ شیخ تاج الدین نے اکبر کو انسان کامل کے درجے پر فائز کر کے مقام الوہیت کے نزدیک کر دیا۔ اسی کے نتیجے میں بادشاہ کے لئے سجدہ تعظیمی جس کا نام زمین بوسی رکھا گیا جائز قرار دیا گیا۔
اس صورت حال میں اکبر نے بڑی دیدہ دلیری سے عقائد و مسائل میں نئی اختراعات کو شامل کر لیا۔ قرآن مجید کو مخلوق قرار دیا گیا۔ وحی کو امر محال کہا گیا۔ نبوت کو مشکوک سمجھا جانے لگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ سے نفرت کا اظہار کیا جانے لگا۔ اور جن درباریوں کے ناموں میں محمد یا احمد ہوتا ان کے نام تک تبدیل کر دئےے جائے۔ جن ملائکہ اور تمام غیبی امور کا انکار کر یا گیا۔ مرنے کے بعد عذاب و ثواب کو محال قرار دے کر تناسخ پر منحصر کر دیا گیا۔
.2    نظام صلوٰۃ کا خاتمہ:
    اکبر نے نماز پنجگانہ کو منسوخ کر کے سورج کی پرستش شروع کر دی۔ مسجدوں اور خانقاہوں کو ہندووں کی آرام گاہیں بن گئیں بلکہ بعض مساجد اصطبل گاہوں کا نقشہ بن گئیں۔ مساجد میں نماز ادا کرنے کی بجائے فحش اعمال کئے جانے لگے۔
.3    ماہ رمضان کی بے حرمتی:
     اکبر نے روزہ رکھنے پر پابندی لگا دی۔ وہ رمضان کو بطور مذاق بھوک اور پیاس کا مہینہ کہتا تھا۔ اس نے درباریوں کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں اس کے سامنے کھائیں پئیں ورنہ منہ میں پان ضرور رکھیں۔ بھرے بازار میں روزہ داروں کی توہین کی جاتی اور سر عام کھانے پینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔
.4    حج پر پابندی:
Uمآثرالامراء نامی کتاب کی جلد ۲ ص۷۱۲ پر جہانگیر بادشاہ کا بیان ہے کہ اکبر نے حج پر پابندی عائد کر دی۔ ملا عبداللہ سلطان پوری مخدوم الملک نے فریضہ حج کو راستہ کی خرابی کو جواز بنا کر ساقط کر دینے کا نہ صرف فتویٰ دیا بلکہ حج کو گناہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ دیگر قبائح کو رواج دیا گیا جن میں گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ کتے اور سُور کو پاک قرار دے کر لائق عبادت سمجھا جانے لگا۔ بادشاہ روزانہ صبح کے وقت ان کی زیارت کرتا تھا۔ شراب کو حلال قرار دیا گیا اور غسل جنابت کی فرضیت کو منسوخ کر کے غسل پر پابندی لگا دی۔ سود اور جواء حلال قرار دیا گیا۔
    قحبہ خانہ قائم کر کے فحاشی کو فروغ دیا گیا اور ان کی باقاعدہ سرکاری سرپرستی کی گئی۔ چچا۔ ماموں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کی بیٹیوں سے نکاح کو حرام کر دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے کھلا انحراف کیا گیا بلکہ اسلام اقدار کو ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ یہ صورت حال کسی صاحب ایمان کے لیے ناقابل برداشت تھی اور کسی ایسی جامع شخصیت کی ضرورت تھی جو جوش ایمانی کے ساتھ ساتھ ہوش و خرد سے بھی بہرہ مند ہو جو دین کی مٹا دی جانے والی اقدار کو دوبارہ زندہ کرے۔ اس معیار پر پورا اترنے والی ہستی صرف ایک ہی نظر آتی ہے جس کا نام شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ ہے اور لوگ آپ کو مجدد الف ثانی کے لقب سے جانتے ہیں۔ آپ نے اپنی بے مثال جدوجہد اور ایمانی جرأت و استقامت سے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ آپ کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں برصغیر میں اسلام کو حیات نو ملی۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آپ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ تجدید کے معیار پر پورے اترنے والے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ نے آپ کو مجدد الف ثانی کا خطاب دےا۔ آپ نے دوسرے ہزار سالہ دور کے لئے تجدیدی فریضہ سرانجام دیا۔
    حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے شایانِ شان قصیدہ لکھا۔
حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے و صاحبِ اسرار
وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیرکے آگے
جس کے نفس گرم سے گرمی احرار
شواہد تجدید:
    یوں تو حضرت مجدد الف ثانی کے مجدد ہونے کی گواہی بہت سے علماء اور اولیائے کاملین نے دی۔ اس کے علاوہ چند شواہد تجدید کا ذکر کیا جاتا ہے۔
.1      آپ کی ذات عالی کی بدولت عوام الناس کی روحانی واخلاقی اصلاح ہوئی
.2    آپ نے دین اسلام کے بنیادی اصولوں کو از سر نو زندہ کیا
.3    علمائے سُوء اور صوفیائے خام کی قباحتوں کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاح فرمائی
.4    گمراہ کن عقائد اور بدعات کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو صحیح عقائد اختیار کرنے کی طرف رہنمائی کی
.5    علوم عقلیہ پر انحصار کرنے والوں اور دین کو عقل محض کا تابع سمجھنے والوں کی اصلاح کر کے شرعی علوم نقلیہ کا پابند بنا دیا۔
.6    بادشاہ وقت، امرائے سلطنت اوردرباریوں کی اصلاح فرمائی۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت مقدسہ کے تفصیلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے عقائد، عبادات ، معاملات ، آداب غرضیکہ دین اسلام کے تمام شعبوں میں تجدید و احیاء کا فریضہ سر انجام دیا اور حدیث تجدید کے صحیح مصداق بنے۔ یوں آپ ایک جامع مجدد کی حیثیت سے دوسرے ہزار سالہ دور (الف ثانی) کے لئے مبعوث ہوئے۔
 
 
2.png