طریقۂ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ

اس وقت زیا دہ تر سلسلہ ہائے نقشبندیہ ، چشتیہ ، سہروردیہ اور قادریہ مر وج ہیں ۔ ان سب سلاسل کی منزلِ مقصود وصل الٰہی ہی ہے ۔ مگر اپنی ترکیب وتر تیب کے لحاظ سے ان میں معمولی سی رنگت ذرا جد ا جدا ہے ۔  بہر حال یہ چاروں طریقے  با لکل حق ہیں۔ طالب کسی طریقے میں بھی شامل ہو کر اپنے مر شد کامل کی رہنمائی سے اپنا گو ہر مقصودحاصل کر سکتا ہے ہر سلسلہ با عث رحمت و برکت ہے ۔
سلسلہ عا لیہ نقشبندیہ نسبت صدیقیہ سے فیضےاب ہے حضر ت امام ربانی قدس سرہ نسبت صدیقیہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اے برادر!  اس بلند طریق کے سر حلقہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جو کہ انبیا ء علیہ الصلواۃو السلام کے بعدتحقیقی طور پر تما م بنی آدم سے افضل ہیں اسی اعتبا ر سے اس طریق کے  بزرگوں کی عبارات میں آتا ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ اُن کی نسبت جس سےمراد حضوری اور آگاہی ہے ۔ بعینہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت حضور ہے ۔ اس طریقہ میں اتباع سنت و اجتناب بدعت کا نہایت اہتمام و التزام ہے ۔
ظاہر ہے کہ جس طریق میں جس قدراتباع سنت و اجتنا ب بدعت زیادہ ہو گا۔ اسی قدراس میں سانوار و تجلیات ِمصطفیٰ ؐ کا ظہور زیاد ہ ہو گا ۔ اور اسی قدر وہ نسبت قوت ورفعت میں ممتاز ہوگی۔ نقشبندیہ امامِ طریقت حضرت خواجہ سید بہائوالدین نقشبندبخاریؒ کےمریدہیں۔

 
 
monu60-446x298.jpg