طریقہ کی خصو صیات

محبت شیخ

 طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی امتیازی خصو صیات میں پہلا زینہ متابعت رسول ؐ اور دوسرازینہ محبت شیخ ہے ۔ محبت شیخ کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ طریقہ نقشبندیہ کا دا رو مدار  دو اصولوں پر ہے ۔ پہلا سنت رسول  ؐ پر اس حد تک استقامت کر نا کہ اُ سکے چھوٹےاور معمولی آداب بھی ترک نہ ہو نے پائیں ۔ اور دوسرا شیخ طریقت کی محبت اور خلوص میں اس قدر راسخ اور ثابت قدم ہو کہ اُ س پر کسی قسم کے اعتراض اورانگشت نمائی کا خیال بھی دل میں نہ لا سکے بلکہ اُ س کی تمام حرکات و سکنات مرید کی نظر میں محبوب دکھائی دیں ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی مہر بانی اور فضل و کرم سے یہ دو اصول درست ہو گئے تو دنیا وآخر ت میں
سعادت اُس کا مقدر ہے

صحبت شیخ

صحبت شیخ بھی محبت شیخ کے ضمن میں آتی ہے۔ جس قدر  صحبت شیخ زیادہ ہو گی اسی قدر محبت شیخ میں اضافہ ہو گا ۔اسی لئے مشائخ نقشبندیہ نے صحبت شیخ زیادہ سے زیادہ اختیا ر کر نے کی تا کید فرما ئی ہے۔تاکہ طالب شیخ کی مجلس میں رہ کر فیض و برکت حاصل کر ے ۔
حضر ت امام ربانی محبو ب سبحانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ اس طریقہ یعنی سلسلہ نقشبندیہ  میں افا دہ و استفادہ کا دار و مدارصحبت شیخ پر ہے۔ خواجہ نقشبندقد س سرہ‘ نے فرما یا ہےکہ ہمارا طریقہ شیخ طریقت کی محبت پر ہے ۔ اور صحبت کی بہت ہی فضیلت ہے ۔
؎  ہر کہ خوا ہدہم نشینی  با خدا       او  نشیند در حضور  اولیاء          
 اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین خیر البشر  ؐ کی صحبت کی وجہ سے ہی اولیا ء امت سے افضل ہیں بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی صحابی کے درجے سے کم تر ہے ۔ کوئی ولی اﷲ صحابی کےدرجہ کو ہر گز نہیں پہنچ سکتا خوا ہ وہ اویسِ قرنی رحمۃ اللہ علیہ ہی کیوں نہ ہوں۔

رابطہ شیخ

ہروقت ہر جگہ قلب میں تصور شیخ کے ذریعے شیخ طریقت سے اپنا رابطہ قائم رکھے ۔کیونکہ بعض اوقات بدنی صحبت میسرنہیں ہو تی تو تصور شیخ سے بھی را بطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔رابطہ شیخ وہ کیمیاء اثر نسخہ ہے کہ جس کے ذریعے فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسولؐ کے بعد فنا فی اﷲ جیسے اعلیٰ  مقامات  تک رسائی ہو سکتی ہے ۔اور اس سے قربِ الی اﷲ کی منا زل جلد اور سہل طریقے سے طے ہو جا تی ہیں ۔
مر شد کو وسیلہ ٔہدایت جانے اور اُ س کی خیالی صورت بطریق محبت و تعظیم سامنے رکھے ۔جو لوگ شیخ کے ساتھ دل نہیں لگاتے ۔ وہ فیض اور ترقی سے محروم رہتے ہیں ۔ مختلف صوفیائے کرام کے مختلف نظریات ہیں لیکن اکثر صو فیا ئےعظام  اس بات پر مشترک و متفق ہیں کہ وحی اور الہام ہی علم کا ماخذ و مبنع ہے ۔ صوفیائے کرام تزکیۂ نفس پر زور دیتے ہیں۔ جو کہ عبادات ، مراقبہ، مجا ہد ہ، عشق اور ترک ِماسوا کے واسطے سے ممکن ہے ۔ کیو نکہ عبادت ریاضت اور مجاہدے سے انسا ن کی طبیعت ضبطِ نفس کو پالےتی ہے ۔اور جب سالک اس قوت پر حاوی  ہو جائے تو دیگر مخالف قوتیں مسخر ہو جا تی ہیں۔ جس کی وجہ سے خواہشاتِ نفسانی قا بو میں رہتی ہیں ۔
حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ فرماتے ہیں۔ ’’جس قدر نفوس ہیں ۔اسی قدر خدا سے ملنے کی راہیں ہیں ۔ ہر نفس اپنی حقیقت سے ملنے کا راستہ رکھتا ہے۔ لیکن دینِ کبریٰ نے با لاتفاق  تین راہوں کو اخذ کیا ہے۔ یہ تین راستے سب راستوں سے افضل ہیں ۔ اور انہی راستوں پر چلنے سے لاکھوں ولی اللہ بن گئے۔اور ان کی تصدیق تواتر سے حق الیقین تک پہنچتی ہے یہ راستے بیشک سب راستوں سے افضل ہیں وہ یہ ہیں ۔
(۱)۔  ذکر  (۲)۔ فکر  (۳)۔  رابطہ ء شیخ
خواجہ معصوم ؒ کا فرمان ہے ’’ذکر رابطہ کے بغیر خدا تک نہیں پہنچاتاالبتہ رابطہ بغیر ذکر کے خدا تک پہنچا دیتا ہے‘‘۔ پس رابطہ ء شیخ انتہائی عمدہ اور مفید چیز ہے جس کی بنا پر طالب بوجہ اتصالِ روحانی و پرتو ِ کمال باطنی اپنے شیخ سے ایسا کمال حاصل کر لیتا ہے۔ کہ جیسے مہر کی نقل کاغذ پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

 
 
4.png
monu60-446x298.jpg