بیان اصطلاحات سلسلہ نقشبندیہ

حضرات نقشبندیہ رحم اللہ علیہم نے اپنے طریقہ کی بنیاد گیارہ کلمات پر رکھی ہے ۔ ان میں سے آٹھ کلمات خواجہ خواجگان حضرت عبدالخالق عجد وانی رحمتہُ اللہ علیہ سے اور تین  کلمات بانئ سلسلہ نقشبندیہ حضرت خواجہ بہائو الدین نقشبندی بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہیں یہ اصطلاحات اشغال و اعمال کی طرف اشارہ کرتی ہیں
آٹھ کلمات یہ ہیں ۔ ۱۔ ہو ش در دم ۔ ۲۔ نظر بر قدم ۔ ۳۔ سفر در وطن ۔ ۴۔ خلوت درا نجمن ۔ ۵۔ یاد کر د ۔ ۶۔ باز گشت ۔ ۷۔ نگہداشت ۔۸۔ یاداشت ۔حضرت شاہ نقشبندبخاری رحمۃ اللہ علیہ کے تین کلمات یہ ہیں ۔۱۔  وقوف زمانی ۲۔ وقوف قلبی۳۔ وقوف عددی

۱۔ ہو ش در دم

یہ اصل میں پا س انفاس ہی ہے ۔ یہ کہ سالک کا ہر سانس حضورو آگاہی یعنی ہر دم ہو ش میں ہو ۔ تاکہ کوئی سانس غفلت و معصیت میں نہ گزرے ۔ اور ہر وقت سانس کی حفاظت کر ے تاکہ رابطہ ٹو ٹنے نہ پائے اور وابستگی قائم رہے ۔ حدیث شریف میں ہے ۔کہ ہو شیار وہ شخص ہے کہ جس نے اپنے نفس کو ڈرایا۔
حضرت خواجہ نقشبند بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ کسی سانس کو ضائع نہ ہو نے دیں ۔ یعنی سانس کے دخول و خروج اور خروج و دخول کے درمیان محا فظت درکار ہے ۔ کہ کوئی غفلت میں نہ گزرے ۔ اگر غفلت محسوس کرے تو استغفارکرے ۔ اورآئندہ غفلت ترک کر نے کا ارادہ کر ے ۔ کیونکہ اسی غفلت کے سبب انسان معا صی کا مرتکب ہو تا ہے ۔ ہو ش دردم تفرقہ اندرونی کیلئے ہے ۔

۲۔ نظربر قدم

یعنی اپنی نگاہ اپنے پائوں کی طرف رکھنا۔ کیونکہ  نیچی نظر رکھنا سنت رسول  ؐ ہے ۔ تاکہ نظر کی محافظت ہو سکے ۔ اور کوئی بصری آلائش یا نقش و نگار پردہ و درحسن و جما ل خوبرویاں دل کو پرا گندہ نہ کر سکیں ۔ اس لئے سالک کو راہ چلتے ادھر اُدھر نہ دیکھنا چاہئے ۔ کیو نکہ نظر کی آلو دگی ایک ایسا زہر آلودہ تیر ہے ۔جس سے شکار اور شکاری دونوں ہلاک ہو جا تے ہیں ۔ اور یہ ہلاکت نقص ایمان ہے ۔ رسوائی و تباہی دارین ہے ۔ رنگ برنگ اشیاء دیکھنے  سے خیالا ت صالحہ منتشر ہو جا تے ہیں ۔ اور سالک کا مطلو ب سے بر گشتہ ہو کر اپنی منزل سے بھٹک جانے کا اندیشہ ہے ۔ دیگر اس سے مرا دیہ ہے ۔ کہ سالک کا قدم باطن اس کی نظر باطن سے پیچھے  نہ رہے۔ سالک اپنی برا ئی اور نیکی کے قدم کودیکھے اگر برا ئی میں قدم دیکھے تو پیچھے ہٹائے اور نیکی کے قدم کو مزیدآگے بڑھائے
      ؎    وقت رفتن   برقدم   با ید  نظر                ہست  سنت  حضرت خیر ا لبشر 
       اندریں حکمت بس است و بے شمار           دیدہ خواہد طالب حق  آشکار
حضر ت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرما تے ہیں ۔ کہ نظر کو نیچے رکھنا یہ مبتدی کے لئے ہے ۔ منتہی پر تو واجب ہے ۔ کہ اپنے حال میں تامل کرے ۔ کہ و ہ کس نبی کے قدم پر ہے ۔ کہ بعض اولیاء سید المر سلین خاتم النبین ؐکے قدم پرہوتے ہیں۔ اور اُن کوپوری جا معیت ِکمالات حاصل ہو تی ہے ۔ اور بعض حضرت مو سیٰ علیہ السلام  کے قدم پر ہو تے ہیں ۔ جب منتہی اپنے پیشوا کو پہچان لے تو چاہئے ۔ کہ اُس کے اپنے حالات اور واقعات اپنے پیشوا کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں ۔ دیگر حضور ؐکے قدم یعنی  اسوہ و سنت پر ہر دم نگاہ رکھے
 کہ میری زندگی  حضور ؐ کے قدم یا اسوہ سے ہٹ تو نہیں رہی ۔

۳۔ سفر در وطن

سفر در وطن کے معنی ہیں ۔ اپنے باطن میں سفر کر نا ۔اس سے مراد یہ ہے ۔ کہ انسان کی اصل تخلیق ملکی ہے ۔ جو اس جسد بشری سے پہلے واقع ہو ئی تھی ۔ جب روحی وملکی تخلیق کے بعد ما دی و بشری تخلیق میں روح نے نزول کیا تو وہ روح بھی صفا ت ذمیمہ کا شکار ہو گئی۔ اب اصل وطن کی طرف رجو ع کر نے سے مراد یہ ہے۔ کہ اپنے اند ران صفات حسنہ کو تلا ش کر ے جن کی استعداد اس کے اندر رکھ دی گئی ہے ۔ اور جو اس کی روح کی پہلی کا ئنا ت ہے ۔لہٰذا آدمی صفا ت بشریہ کو چھوڑ کر صفا ت ملکیہ حاصل کرے یعنی طلب جاہ ،بغض، حسد، کینہ کو دل سے نکال با ہر پھینکے اور اپنے دل کو اُن سے بالکل پاک کر دے دوسرے لفظوں میں صفات ذمیمہ سے صفا ت حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے ۔کیونکہ جب تک رذائل دل میں بھر ے ہو نگے ۔ تو خدا کا دل میں دخول کیونکر ممکن ہو گا۔ اگر حُبِ خلق کا غلبہ محسوس کرے ۔ تو لاالہ سے نفی ٔمحبت خلق اور الا اللہ سے اللہ کی محبت اس کی جگہ ثبت کرے ۔ چنانچہ اول المو منین حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘فرماتے ہیں ۔جس نے اللہ سے محبت کا مزا چکھا تو اُ س نے اس کو طلب دنیا سے باز رکھا۔ خواجگان نقشبندرحم اللہ اجمعین سفر ظاہری اتنا ہی کر تے ہیں کہ پیر کامل تک پہنچ سکیں ۔ دوسری حرکت جا ئز  نہیں رکھتے ۔ اور شیخ سے دوری ہر گز نہیں چاہتے بلکہ آگاہی کے حصول کیلئے نہایت کو شاں رہتے ہیں۔ یہ سیر آفاقی کوسیرانفسی سے طے کر تے ہیں ۔ با قی سلاسل میں سلو ک سیر آفاقی سے شروع ہو تا ہے ۔ سیرانفسی سےابتداء کرنا سلسلہ نقشبندیہ کاخاصہ ہے ۔ اندراج نہایت درہد ایت کے یہی معنی ہیں۔

۴۔ خلوت در انجمن

خلو ت در انجمن کا مطلب یہ ہے ۔ کہ دل سے خدا کے ساتھ مشغول رہے ۔ اور اپنے تمام مشاغل روز مرہ از قسم طعام و قیام اکل و شرب ۔ نشست و بر خا ست ، معاملات فہم وادراک و غیرہ پر اللہ جل شانہ‘ کے ساتھ تعلق کو قائم رکھے ۔ اس کے لئے طہار ت کوئی شر ط نہیں ہے بلکہ رو ز مرہ زندگی میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قربت عین اسلام ہے ۔ اور یہ طلب دنیا کے ضمن میں بھی نہیں ہے۔ تمدنی و معا شرتی زندگی  میں جہاں قدم قدم پر معصیت و گمراہی منہ کھولے خلق  خدا کو ہڑپ کر رہی ہے۔ فقط اسی طریقہ سے اپنے آپ کو بچایا جا سکتا ہے ۔ چونکہ اسلام ایک دین ہے ۔ ایک نظام زندگی ہے ۔ اس لئے اس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ضابطے مو جو د ہیں خلوت درانجمن ہمارے لئے سلسلہ نقشبندیہ  نے وہ اصول وضع کر کے دیا ہے ۔ جس پر عمل کر کے ہم تہذیب و تمدن معاشرت ، ثقافت ،اقتصادےات  معا شیا ت ، معا ملات غر ضیکہ زندگی کےہمہ گو شوں کو اسلام کے عین مطابق قائم کر کے صحیح اسلامی معا شرت قائم کر سکتے ہیں ۔ ع:   دل بہ یار دست بکار
خلوت در انجمن سے مرا د یہ بھی ہے کہ پوری کا ئنا ت تو مو جو د ہے ۔ لیکن دل میں ما سوائے اللہ کسی کا خیال تک نہ ہو ۔ ؎ بندگاں باید کہ در وقت سخن   قلب با حق قالبے در انجمن
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نہ تو عالموں والا لباس پہنتا ہوں۔ اور نہ درویشوں والا تاکہ لو گ مجھے در ویش اورعالم نہ سمجھیں ۔ بلکہ عام لو گوں کا لبا س پہنتا ہوں ۔ تاکہ پہچانا نہ جائوں ۔ صحابہ کبار کا بھی یہی طریقہ کار تھا ۔ کہ عام لو گوں کی طرح رہتے تھے  ۔ اور اپنی کوئی خصو صی حیثیت اور شان خود ظاہر نہ فر ما تے تھے ۔ یہی طریقہ  خو اجگان نقشبندکا بھی ہے ۔
حضرت خو اجہ احرا ر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ کہ ذکر میں جہد و اہتما م بلیغ کے ساتھ مشغول ہو نے سے سالک کو پا نچ روز میں یہ دولت اور سعادت نصیب ہو سکتی ہے ۔ خو اجہ خوا جگان حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خلوت در انجمن ظاہر میں خلق کےساتھ اوربا طن میں حق کے ساتھ ہو نا ہے ۔

۵۔ یاد کر د

یاد کردذکر اورگیان کے ہم معنی ہے۔ مرادیہ ہے کہ اپنے شیخ سے سیکھے ہوئے ذکر بر وقت ادا کرنا ہے ذکر اس کثر ت سے کر ے کہ اللہ جل شانہ‘ کی حضوری حاصل ہو جائے ۔ امام طریقت حضرت شاہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذکر سے مقصود یہ ہے ۔ کہ ہمیشہ  حضرت حق کے ساتھ حاضر رہے ۔ ذکر غفلت سے باز رکھتا ہے ۔ اسی لئے ابتدائی طور پر ذکر اثبات و نفی یا مجرد ذکر کی تلقین کی جا تی ہے ۔نیز ذکر سے مراد کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی تعلیمات کے علاوہ صفات الٰہیہ کو اپنے معا نی کے ساتھذہن نشین کر نا ہے ۔

۶۔ باز گشت

یعنی رجو ع کر نایا پھر نا اس سے مرا د یہ ہے ۔ کہ تھوڑے تھوڑے ذکر کے بعد تین بار یا پانچ بار مناجات کی طرف رجو ع کر ے حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ ‘کی یہ دعا تھی ۔ الٰہی مقصود من توئی و رضائے تو محبت مغفرت خود بدہ " اے اللہ میرا مقصو د تو ہی ہے ۔ اوراپنی خو شنودی اپنی محبت اور مغفرت عطا کر۔ حق یہ ہے کہ ذکر اور فکر کے درمیان اگر کچھ غیب سے نظر آئے ۔ تو اُ س پر سالک کو مغرور نہ ہو نا چاہئے ۔ اور اُسے مطلو ب ہی نہ سمجھ لے ۔ کیو نکہ ذات الٰہی تو کجا صفات الٰہی میں سے ایک صفت میں اگر سالک لاکھوں سال گزار دے تو سیر ختم نہ ہو ۔ حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ‘ فرماتے ہیں کہ ہر چہ دیدہ شد و دانستہ شد ۔ آں ہمہ غیر است بحقیقت کلمہ لا نفی آں باید کرد ۔ یعنی جو کچھ  دیکھا سنا جائے اور جانا جائے وہ سب غیر خدا ہے کلمہ طیبہ کی لا سے سب کی نفی کرنی چاہئے  ۔

۷۔ نگہداشت

اس سے یہ مطلب ہے کہ ذاکر اپنے قلب کے خطرات اور احادیث نفس نگا ہ میں رکھے ۔ اور کمال ہو شمندی سے رہے۔اور جو وساوس و خیالات غیر خدا دل میں آئیں ۔ اُن کا ابتد ا ہی سے تدارک کر ے ۔ اور ظہور طبیعت کااس طرف مائل ہو نے کا خطرہ ہے ۔ پھر نجات بھی مشکل ہے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطرہ کو ایک ساعت بھی دل میں نہ رکھنا چاہئے ۔بزرگوں کے نزدیک یہ بہت اہم ہے ۔ اولیاء کاملین کو یہ د ولت  طویل عرصہ تک حاصل رہتی ہے ۔

۸۔یاداشت

یاداشت فکر اور دھیان کے ہم معنی ہے ۔ اور اس سے مراد دوام آگاہی بحق سبحانہ‘وتعالیٰ ہے۔ دل میںیہ سوال پیدا ہو سکتا ہے ۔ کہ یاد کرو نگہداشت اور یاداشت میں کیا فرق ہے ۔ نگہداشت میں طالب اپنی کو شش سے اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول رہتا ہے ۔ لیکن یا داشت میں بلا کو شش اور خود بخود اللہ تعالیٰ کی طر ف مشغول ومخاطب ہو تا ہے ۔ اوریہ مقام منتہیا ن ولایت کو حاصل ہو تا ہے ۔یاداشت حاصل شود بعد از فنا  بلکہ حاصل می شود بعد از بقا
       بعد ازیں غافل نہ باشد یک زباں            خواہ باشد فرح و غم سود وزیاں
       در جماعت  اولیاء  داخل              شودجملہ  طُرق  اُ و  واصل شود
اس کے بعد اب تین اصطلاحات جو کہ امام طریقت حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہیں اُن کا بیان کیاجا تا ہے ۔

۹۔ وقوف زمانی

وقوف زمانی  اور ہو ش دردم تقریباً ہم معنی ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے۔ کہ ہو ش دردم  مبتدی کے واسطے ہے ۔ ہر لحظہ  اور ہر لمحہ احتیاط ہے ۔اور وقوف زمانی متو سط کیلئے مناسب ہے ۔ کہ کچھ کچھ دیر بعد تامل کرے  اور وقوف زمانی سے محاسبہ بھی کیا جا تا ہے۔ کہ نفس کس سمت کو جا رہا ہے ۔

۱۰۔ وقوف عددی

 وقوف عددی سے مراد سالک کا اثنائے ذکر سے واقف رہنا ہے ۔ اور جب ذکر حق کرے تو طاق عدد پر کرے ۔ نہ کہ جفت عد د پر۔ کیونکہﷲ وترویحب الوتر۔ لیکن ذکر عدد ی کے ساتھ ذکر قلبی بھی ضروری ہے ۔

۱۱۔وقوف قلبی

وقوف قلبی سے مرادیہ ہے کہ سالک ہر وقت ہر لحظہ اپنے قلب کی طرف متو جہ رہے ۔ اور قلب خدا کی طر ف متوجہ رہے ۔ تاکہ سب طرف سے تو جہ  ٹو ٹ کر معبو د حقیقی کی طر ف ہو جائے ۔ اور وسا وس و خطرات دل میں داخل ہی نہ ہونے پائیں ۔
خصو صاًجلسہ ذکر کے دوران اُس کا پورا خیال رکھے ۔ یہاں زندگی کو پیش آنے والے مختلف مراحل میں خدا کے پسندیدہ و نا پسندیدہ کام کا سوال بھی سامنے آتا ہے ۔ گو یا ہر پیش آنے والے امر پر یہ فیصلہ کرے کہ یہ کام خدا کو نا پسند ہے۔ اس لئے مجھے اس کا ترک کر نا ضروری ہے ۔ اور اس میں خدا کی پسندید ہ صور ت یہ ہے جس پر کار بند ہونا میر ے لئے لازمی ہے بس اسی کانام وقوف قلبی ہے ۔ وقوف قلبی شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بہت ضروری ہے اور یہ رکن عظیم ہے ۔ طریقہ سلسلہ نقشبند یہ کا دارومدار اسی پر ہے
 
 
3.png
2583873440053552949EQdMtl_ph.jpg