تصوف کی اہمیت

جو شخص مذہب کا پیروکار ہے مگر تصوف پر عامل نہیں اس کی مثا ل اس شخص کی ہے جس نے حلوائی کی دوکان پر ساری عمر حلوہ بنایااورخود کبھی حلوہ نہ کھایا۔
تصوف کی بدولت انسان اس اللہ سے مکمل رابطہ پیدا کر سکتا ہے جسے وہ ا پنا معبود و مسجود یقین کرتا ہے۔ تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت دل کا نام ہے۔ اور اگر دل کا نام ہے اور دل مسلمان نہ ہو سکا تو رکوع وسجود یا زبان سے خدا کا اقرار دونوں بے معنی ہیں۔                                                                                                 
     ؎ خرد نے کہ بھی دیا لا ا لٰہ تو کیا حاصل        دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
پس تصوف دل و نگاہ کو مسلمان بنا دیتا ہے اور یہ بات یقین کامل کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ تصوف کے علاوہ دل و نگاہ کو مسلماں بنانے کی اور کوئی  صورت نہیں خود اقبال کا مشورہ بھی یہی ہے۔
               ؎  می نروےد تخم دل از آب و گل         بے نگا  ہے از خدا و ندان دل
یعنی جب تک کوئی شخص خدا وندان دل کی صحبت اختیار نہیں کرے گا اس وقت تک دل حقیقی معنٰی میں دل نہیں بن سکتا اور بات بھی معقول ہے۔چراغ سے ہی چراغ روشن ہو سکتا ہے۔
انسان کی عقل اور روحانی زندگی میں تصوف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ صرحاضر کا مشہور فلسفی رسلRussel جسکے بارے میں کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ تصوف کا حامی ہے۔کہتا ہے کہ دنیا میں جس قدر عظیم ترین فلسفی گزرے ہیں سب نے ساتھ ساتھ تصوف کا بھی اعتراف کیا ہے۔رسل نے اپنے ثبوت میں حسب ذیل فلسفیوں کے نام بطور مثال پیش کیے ہیں۔ ہر قلیطوس ، پار مینائڈیز ، افلاطون اور اسپنوزا  وغیرہ۔
تصوف کی لغوی تعریف
اشتقاق کے اعتبار سے تصوف کے لغوی معنی میں علمائے اسلام کو سخت اختلاف رہا ہے۔ان میں سے چند اقوال درج ذیل ہیں۔
۱۔  عام طور پر  صوفی کے لفظ کو ’’ صوف‘‘ سے مشتق کےا جاتا ہے۔ ابن خلدون کا یہی قیاس ہے عربی لغت کے اعتبار سے تصوف کے معنیٰ ہیں ’’ اس نے لباس پہنا‘‘  جیسے ’’تقمّض َ ‘‘ کے معانی ہیں اس نے قمیض پہنی۔ ابتدا میں صوفیاء کو ان کی صوف پوشی کی وجہ سے صوفی کہنے لگے ۔ لیکن صو فیاء صرف صوف پوشی سے مخصوص و مختص نہیں اور نہ ہی صوف پوشی ہی اہل معرفت کی پہچان ہو سکتی ہے۔
۲۔ بعض لوگ لفظِ صوفی کو صفا سے مشتق خیال کرتے ہیں۔ یعنی صوفی وہ ہے جس کو حق تعالیٰ نے صفائی قلب سے زےنت بخشی ہے اور قلب کی صفائی اور اصلاح سے ظاہر ہے کہ سارے جسد کی اصلاح ہوتی ہے لیکن لغوی اعتبار سے یہ اشتقاق درست قرار نہےں دےا جا سکتا کےونکہ صفا سے جو لفظ مشتق ہو گا وہ لغت صحیح کی رو سے صفوی ہوگا نہ کہ صوفی۔
۳۔ بعض کی رائے سے صوفی لفظ صف سے مشتق ہے یعنی صوفیا ء حضور ِ حق میں اپنے قلوب کے ساتھ صفِ ا و ل میں حاضر ہوتے ہیں یہاں بھی معنیٰ کے اعتبار سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن لغت کے اعتبار سے صف کی طرف نسبت ہو تو ’’ صفیِ ‘‘حاصل ہو گانہ کہ صوفی۔
۴۔ بعض نے صوفی کو ’’  صُفہ ‘‘ کی طرف منسوب کیا ہے۔ حضور انور ؐ کے زمانے میں بعض صحابہ جن کی تعداد ستر سمجھی جاتی تھی۔دنیوی تعلقات کو ترک کر دیا تھا اور ’’فقر الی اﷲ‘‘ اختیار کر لیا تھا وہ صرف ایک کپڑے میں زندگی بسر کرتے تھے۔ان کو اہل صفہ کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے’’ صفہ‘‘ مسجد نبوی کو اپنی قیام گاہ بنا لیا تھا۔صوفیا ء کو بھی اپنی اوصاف کی بنا پر اہل صفہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر اشتقاق ِ لفظی کی نظر سے دیکھا جائے تو صفہ کی طرف نسبت ’’صُفّی‘‘ کا لفظ پیش کرتی ہے نہ کہ صوفی کا۔
۵ ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ یونانی لفظ ’’ سو فوس‘‘ سے بنا ہے۔جس کے معنیٰ  حکمت کے ہیں مگر مشہور محقق  نولڈکی NOLDEKE نے اس کی تردید میں لکھا ہے کہ دو  یونانی حرف SIGMA  عربی میں ہمیشہ  ’’ س‘‘ صورت میں آتا ہے نہ کہ ’’ص‘‘ صورت میں اور صوفی ’’ص‘‘ سے ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس لفظ کا اشتقاق ’’سوفوس ‘‘ سے نہیں ہو سکتا۔
قول راجح
راجح قول یہی ہے کہ لفظ صوفی ’’صوف‘‘ سے مشتق ہے کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ لفظ اپنے مادہ کے زیادہ قریب ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ زمانۂ قدیم میں صوفیاء اکثر و بےشتر یہی لبا س استعمال کرتے تھے۔
تیسری بات یہ ہے کہ صوف کے استعمال میں اس چیز کا اظہار تھا کہ صاحب لباس دنیوی تعیشات کی طر ف بہت کم مائل ہےںااور کسی نہ کسی درجے میں ’’زھد  فی  الدنیا ‘‘ کی طر ف رجحان رکھتا ہے۔اکثر انبیا ٔصوف کا لباس استعمال کرتے تھے چنانچہ حضرت عیسٰی ؑ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوںے فرمایا ۔ لباسی صوف و شعاری الخوف۔  ترجمہ  (میرا لباس صوف اور میرا شعار خوف الہٰی ہے)۔
جب سرکار دو عالم صلَّی اﷲعلیہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت عمر ؓ نے آپ کی صفات عالیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ لبس الصوف۔( آپ صوف کا لباس پہنتے تھے)۔
اسی طرح آپ ؐکے صحابہ ؓ میں سے حضرت ابو ذر غفاریؓ حضرت سلمان فارسیؓ جیسے حضرات بھی صوف ہی کے کپڑے پہنتے تھے۔
ایک دن حضرت موسیٰ اشعری ؓ نے فرمایا۔ میرے بچے اگر تو اس وقت ہم لوگوں کو دیکھتا جب ہم حضو ر ؐ کے ساتھ رہتے تھے اور جب بارش میں ہمارے کپڑے بھیگ جاتے تھے اور ہمارے کپڑوں سے بھیڑ کے اون کی طرح بو ُ آتی۔ حضرت خواجہ حسن بصری ؒنے فرمایاکہ میں نے ستر بدری صحابہ ٔکرامؓ سے ملاقات کی ہے ان سب کا لباس صوف تھا۔ حضر ت اویس قرنیؓ معرکۂ صفین میں حضرت علیؓ کی طرف سے لڑنے کے لئے تشرےف لائے تو ان کے جسم پر صوف کا لباس تھا اور سر منڈا ہوا تھا۔